بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا يُّحِبُّوۡنَهُمۡ كَحُبِّ اللّٰهِؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ؕ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡٓا اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَۙ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ‏

اور بعض لوگ اللہ کے غیر کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں اور ان سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہیں ‘ اور اگر یہ ظالم (دنیا میں اس عذاب کو) جان لیتے جس عذاب کو یہ قیامت کے دین دیکھیں گے (تو یہ دنیا میں ضرور اقرار کرلیتے) کہ تمام قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بعض لوگ اللہ کے غیر کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں اور ان سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیں۔ (البقرہ : ١٦٥)

مومن کے نزدیک محبوبین کے مدارج :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود ‘ علم ‘ قدرت اور وحدانیت پر دلائل دیتے ہیں ‘ اور اب فرمارہا ہے کہ ان عظیم اور واضح دلائل کے ہوتے ہوئے بعض لوگ انداد (غیر اللہ کو اللہ کا شریک) بناتے ہیں ‘ انداد سے مراد وہ بت ہیں جن کی مشرکین اللہ کی طرح عبادت کرتے ہیں ‘ اور جس طرح مؤمنین اللہ سے بربناء حق محبت کرتے ہیں یہ مشرکین بتوں سے بربناء باطل محبت کرتے ہیں ‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ انداد سے مراد ان کے کافر پیشوا ہیں جن کی وہ اللہ کی معصیت میں اطاعت کرتے تھے اور جتنی محبت مشرکین اپنے بتوں سے کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ محبت مؤمنین اللہ سے کرتے ہیں بلکہ مومن سب سے زیادہ اللہ محبت کرتا ہے ‘ اور اس کی تعظیم اور تقدیس کرتا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور آپ کی تعظیم اور توقیر کرتا ہے ‘ پھر اپنے والدین کی تعظیم اور اطاعت کرتا ہے ‘ اس کے بعد اپنے نفس سے محبت کرتا ہے پھر اس کے بعد اپنے اہل و عیال ‘ اقرباء ‘ پڑوسیوں اور عام مسلمانوں سے محبت کرتا ہے۔ اسی طرح پہلے تعظیم اور محبت میں قرآن مجید کا مرتبہ ہے ‘ پھر احادیث کا ‘ پہلے مسجد حرام کا مرتبہ ہے اور پھر مسجد نبوی کا ‘ مکہ مکرمہ ‘ مدینہ منورہ سے زیادہ افضل ہے ‘ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کے مطابق مدینہ منورہ ‘ مکہ مکرمہ سے زیادہ محبوب ہے اور جس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جسد اطہر آرام فرما ہے وہ جگہ کائنات کی ہر جگہ سے افضل ہے ‘ پھر اس کے بعد دیگر انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء اللہ کے مقابر اور مزارات کے مراتب ہیں اور حدود شرع کے مطابق ان کی تعظیم کرنا برحق ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر یہ ظالم (دنیا میں اس عذاب کو) جان لیتے۔ (البقرہ : ١٦٥)

البقرہ کی آیت : ١٦٥ کے متعدد نحوی تراکیب کے اعتبار سے آٹھ معانی :

اس آیت کا ترجمہ بہت دقیق ہے اور عربی قواعد اور نحوی قوانین کے اعتبار سے اس کی متعدد ترکیبیں ہیں جن کی نوعیت خالص علمی ہے ‘ ہم ان ابحاث کو چھوڑ کر صرف یہ ذکر کررہے ہیں کہ مختلف تراکیب کے اعتبار سے اس آیت کے کیا معانی ہیں۔

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

عطاء نے اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے : اگر یہ ظالم مشرکین قیامت کے دن کا عذاب دیکھ لیں تو یہ ضرور جان لیں گے کہ تمام قدرت اللہ ہی کے لیے ہے اور بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ اگر یہ لوگ دینا میں اس عذاب کو جان لیتے جس عذاب کو یہ قیامت کے دن دیکھیں گے تو یہ ضرور اقرار کرلیتے کہ تمام قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی معنی کو اختیار کیا ہے ) ۔

زمخشری نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے : اگر مشرکین یہ جان لیتے کہ تمام قدرت اللہ کو ہے نہ کہ ان کے خود ساختہ معبودوں کو ‘ اور ظالموں پر عذاب کی شدت کو جان لیتے جب قیامت کے دن یہ عذاب کی شدت کا معائنہ کریں گے تو انہیں بڑی شدید حسرت اور ندامت ہوتی۔ البحر المحیط ج ٢ ص ٩٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

امام رازی نے یہ معنی بیان کیا ہے :

اگر یہ ظالم اللہ کی قدرت اور اس کے عذاب کی شدت کو جان لیتے تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے۔

دوسرا معنی یہ بیان کیا ہے :

اگر قیامت کے دن عذاب کے مشاہدہ کے وقت یہ ظالم اپنے عاجز ہونے کو جان لیتے تو ضرور کہتے کہ تمام قدرت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٧٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

ابوعبید نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ اگر یہ ظالم دنیا میں عذاب آخرت کو دیکھ لیتے تو ضرور جان لیتے کہ تمام قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور اخفش نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ اگر یہ ظالم اللہ کی قدرت اور اس کے عذاب کی شدت کو (حقیقتہ) جان لیتے تو خدا کا شریک بنانے کے نقصان سے بچ جاتے۔

ایک قراءت میں ” ولویری “ کی جگہ ” ولوتری “ ہے خطاب آپ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے ‘ اس صورت میں معنی یہ ہے : اور اے محمد ! اگر آپ ان ظالموں کو عذاب کا مشاہدہ کرتے وقت دیکھ لیتے تو آپ ضرور جان لیتے کہ تمام قدرت اللہ ہی کو ہے۔ حالانکہ آپ اس امر کو جانتے تھے اس لیے یہاں خطاب آپ کو ہے اور اس سے مراد آپ کی امت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٠٥۔ ٢٠٤ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 165