*پانچواں کبوتر.* امت مسلمہ متوجہ ہو

ماسٹر حسن اختر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-

مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے…تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے؟

بچے نے فوراً جواب دیا

*ماسٹر جی “پانچ”*

اؤےخبیث تم نے بتایا تھا کہ ‘‘‘پنسلیں دو اور دو “4” ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو “5” کیوں ہوتے ہیں ؟

اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا…

*”ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے” بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.

اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں،

جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو درود بھی پڑھتے ہیں،

*مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں،*

شادی بیاہ کی رسمیں دیکھ لیں. ہندو’سکھ اور مسلمان کی شادی میں فرق صرف پھیروں اور ایجاب و قبول کا ہے. باقی ہندو دولہے کی ماں بہن ناچتی ہے تو مسلمان کی شادی پہ بھی منڈے کی ماں بہن نہ ناچے تو شادی نہیں سجتی وراثت میں ہندو قانون لاگو ہے…بیٹی کا کوئی حصہ نہیں. جہیز ہندو رسم ہے کہ بیٹی کو جائیداد میں حصہ تو دینا نہیں لہدْا جہیز کے نام پر مال بٹورو اور یہی کام آ ج کا مسلمان کر رہا ہے۔

مگر افسوس اس پانچویں کبوتر میں کچھ جہلا نے اسلامی عقائد کو بھی شامل کر لیا کہتے ہیں کہ ہندوؤں کی طرح دن منانا محافل کرنا تیجے ساتے کرنا تعویز کرنا وسیلے دینا بتوں کی طرح ولیوں سے مانگنا قبور کی تعظیم کرنا نیازیں بانٹنا نبی کا اختیار ماننا نبی کے علم غیب کو ماننا نبی کی مدد کو ماننا یہ سب ہمارے معاشرے اور اپنے اباؤ اجداد سے اٹھایا ہوا کبوتر ہے افسوس صد افسوس

عقل کے اندھوں کو اسلام سے دوری کے سبب اسلام کے اہم ارکان بھی پانچواں کبوتر نظر آتے ہیں دراصل یہ ماڈرن لوگ ہیں جو دین میں جدت چاہتے ہیں وقت کے ساتھ بدلنا انھیں اچھا لگتا ہے دھوتیوں سے شلواریں اور شلواروں سے پینٹیں پہننے کی حد تک انھوں ترقی کر لی ہے انھوں نے دین سیکھنے کے لیے انجینئرز اور ڈاکٹرز کا انتخاب کر لیا ہے یہ چاہتے ہیں کہ اسلام میں بھی اسی طرح جدت آئے مگر ہم اہل حق ان شاء اللہ اسلام کی اساس کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے

انھیں زیارت قبور

ایصال ثواب

انھیں عبداللہ بن مسعودسے ثابت شدہ تعویز ،

وسیلہ

تعظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم

تعظیم قبور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو بیان کرنا

اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کو ماننا انھیں پانچواں کبوتر لگتا ہے

قرآن مجید کے عین مطابق اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر ماننا انھیں پانچواں کبوتر لگتا ہے

اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا وسیلہ دینا انھیں پانچواں کبوتر لگتا ہے

قرآن پاک کہتا ہے جب تم پر احسان کیا جائے تو اس پر خوشیاں مناؤ تب ہم جب میرے آقا کے آنے کی خوشی منائیں تو انھیں پانچواں کبوتر لگتا ہے

اپنے آقا کو قرآن پاک کے عین مطابق نور مانیں تو انھیں پانچواں کبوتر لگتا ہے

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جنھیں جہادالنکاح پانچواں کبوتر نہیں لگتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جنھیں ازواج المسیار پانچواں کبوتر نہیں لگتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جنھیں ماں سے زنا پانچواں کبوتر نہیں لگتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جنھیں بہن سے نکاح پانچواں کبوتر نہیں لگتا

لعنت ہے دین کے ایسے دشمنوں پر جو تین طلاق کے بعد بھی بیوی گھر پر رکھتے ہیں انھیں یہاں پانچواں کبوتر نہیں لگتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جنکی نماز میں میرے نبی کا خیال نماز میں آجائے تو انکی نمازین ٹوٹ جاتی ہیں مگر گدھا اور بیل آئے تو نہیں ٹوٹتی افسوس یہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جو میرے آقا کو اللہ تعالیٰ کے سامنے چمار سے زیادہ زلیل کہتے ہیں مگر انھیں یہاں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ان دین کے دشمنوں پر جو میرے آقا کو بد حواس کہیں تو یہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ایسے دین کے دشمنوں پر جو تعظیم مصطفٰی کو شرک کہیں وہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے دین کے ان دشمنوں پر جو میرے آقا کے روضے کو صنم اکبر کہیں تو افسوس انھیں یہاں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ایسے دین فروشوں پر جو کہیں کہ ہم روضہ رسول تباہ کر دیں گے افسوس وہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ایسے دین فروشوں پر جو خانہ کعبہ کو گرانے کا عزم رکھیں تو یہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ان دین فروشوں پر جو حجر اسود کے بوسے کو اسکا پوجنا کہیں افسوس وہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا لعنت ہے ایسے دین فروشوں پر جو بہن سے زنا پر اسے حق مہر کی رقم دے کر حد معاف کروا لیں تو یہاں انھیں پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا

لعنت ہے ایسے دین فروشوں پر جو دین کے شعائر کو ھندو دھرم کے کاموں سے تشبیہ دے کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جہاں دین کے ٹھیکے داروں کو پانچواں کبوتر نظر نہیں آتا انھیں پانچواں کبوتر نظر آتا یے تو صرف اور صرف اسلام کےعین مطابق عقائد میں

میں چاہوں تو ایسی سینکڑوں تشبیہات دکھا سکتا ہوں جہاں انکی عقل کے مطابق پانچواں کبوتر نظر آئے گا لیکن ہماری نظر سے نہیں آئیں ہم دو چار مثالیں دیتے ہیں

ہندو مندر جاتا ہے ہم مسجد جاتے ہیں کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں تو پھر لکھا ہوا قرآن گلے میں ڈالنا پانچواں کبوتر کیسے ہو گیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ھندو بت کو چومتا ہے ہم ھجر اسود کو کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں تو وسیلہ قرآن سے ثابت ہے یہ پانچواں کبوتر کیسے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ھندو مالا رکھتا ہے ہم تسبیح کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟

ھندو گنگا کے پانی کو معتبر سمجھتا ہے ہم اب زم زم کو کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ھندو کالی ماتا کے مندر ہر سال جاتا ہے ہم حج کرنے جاتے ہیں کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں؟؟.؟؟؟؟؟

ھندو بت اور آگ کے سات چکر لگاتا ہے ہم کعبہ کے کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں؟؟؟؟؟؟

ھندو پرساد کھاتا ہے اور ہم مدینے کی کھجور اور آب زم زم کہیں یہ پانچواں کبوتر تو نہیں

ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں بدمزاہب اور دین کے دشمنوں کو پانچواں کبوتر نظر آتا ہے مگر ایک سچے مسلمان اور مومن کو انھیں اعمال میں توحید ورسالت نظر آتی ہے یہ پانچواں کبوتر کبھی کبھی علم کی کمی کے باعث نظر آتا ہے لہزا پانچواں کبوتر دیکھنے والے قرآن و حدیث کو اسلاف کے طریقے سے پڑھیں ان شاء اللہ آفاقہ ہو گا اور معلوم ہوگا کہ

*”پانچواں کبوتر”* دراصل آپ کا وہم ہے جسکا علاج قرآن و سنت ہے

اگر کہیں *پانچواں کبوتر نظر آئے تو وہ معاشرتی برائی تو ہو سکتی ہے بد مزاہب کے شیطانی عقائد تو ہو سکتے ہیں مگر ہم امت مسلمہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ نہیں لہزا اس برائی اور شیطانی وسوسوں کو ان چار کبوتروں میں شامل نہ کیا جائے ورنہ امت مسلمہ آپکو نفسیاتی مریض کے نام سے یاد رکھے گی

*”شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات”*

(تحریر : لئیق احمد دانش)