امام حسن رضی اللہ عنہ کا قاتل کون؟

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

یزید پلید کی نسبت عموماً کربلا کی طرف ہی کی جاتی ہے اور یہی کارِ سیاہ اس کی پہچان و تعارف ہے لیکن تاریخ میں عوام مسلمان اس حقیقت سے زیادہ تر لا علم ہی رہے ہیں کہ امام پاک سیدنا حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے قتل کے پیچھے بھی اسی لعین یزید بن معاویہ ہی کا ہاتھ تھا۔ یزید کو روزِ اول ہی سے اہل بیت اطہار کے ساتھ دشمنی و خلش تھی اور اس کی امارت قائم ہونے کے فوری بعد یہ منصوبہ سازی شروع ہو گئی تھی کہ ائمہ و افرادِ اہل بیت علیہم الرضوان کو راستے سے کیسے ہٹایا جائے جب کہ وہ شہزداگانِ مصطفٰی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کسی دنیوی حکومت کے محتاج و طالب ہرگز نہ تھے کہ شاہانِ وقت ان کے درِ اقدس کے بھکاری تھے۔

برادرِ امام اہلِ سنن، استادِ زمن شاہ حسن رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ” آئینہ قیامت” میں “حلیۃ الاولیاء” کے حوالے سے امام حسنِ مجتبٰی رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے؛

“اس خبیث (یزید) کاپہلا حملہ سیدنا امام حسن پر چلا۔ جعدہ زوجہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہکایا کہ اگر تو زہر دے کر امام کا کام تمام کر دے گی تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔ وہ شقیہ بادشاہ کی بیگم بننے کے لالچ میں شاہان جنت کا ساتھ چھوڑ کر ،سلطنت عقبیٰ سے منہ موڑ کرجہنم کی راہ پر ہولی۔ کئی بار زہر دیاکچھ اثر نہ ہوا،پھرتو جی کھول کر اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرے اور امام جنت مقام کو سخت تیز زہر دیا یہاں تک کہ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جگرپارے کے اعضائے باطنی پارہ پارہ ہو کر نکلنے لگے۔

یہ بے چین کر نے والی خبر سن کرحضرت امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے پیارے بھائی کے پاس حاضرہوئے ۔سرہانے بیٹھ کرگزارش کی: ”حضرت کوکس نے زہردیا؟ فرمایا ”اگر وہ ہے جومیرے خیال میں ہے تواللہ بڑابدلہ لینے والا ہے،اور اگرنہیں، تومیں بے گناہ سے عوض نہیں چاہتا۔”

(ائینہ قیامت از شاہ حسن رضا، بحوالہ حلیۃ الاولیاء،الحسن بن علی،الحدیث۱۴۳۸،ج۲،ص۴۷ملخصاً)