آنلائن صحافت میں "سنی اخبار” کی آمد ایک خوشگوار احساس

*آنلائن صحافت میں "سنی اخبار” کی آمد ایک خوشگوار احساس*

تحریر : غلام مصطفیٰ نعیمی

نزیل حال : ساؤتھ افریقہ

gmnaimi@gmail.com

دنیا کے اذہان وقلوب کو متاثر کرنے اور اپنے افکار و نظریات کی تشہیر کے لیے صحافت ایک مؤثر اور مضبوط ترین پلیٹ فارم ہے. جس کا استعمال کرکے آج چند ممالک پوری دنیا پر راج کر رہے ہیں.

*صحافت کی اہمیت اور ہماری ترجیحات*

صحافت کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا. یہ صحافت کی اثرپذیری ہی ہے کہ پاکستانی بھگوڑا طارق فتح ہندوستانی مسلمانوں کے لئے باعث آزار بن جاتا ہے, اور ہم کچھ نہیں کر پاتے.

وجہ؟ اسے زی نیوز جیسا الیکٹرانک صحافتی پلیٹ فارم دستیاب ہے اور ہم الیکٹرانک پلیٹ فارم تو چھوڑیے قومی درجے کے پرنٹ پلیٹ فارم سے بھی محروم ہیں.

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس افراد وسرمایہ کی کمی ہے!!

بس ہماری ترجیحات ذرا دوسری ہیں جس کی وجہ سے ہم میدان صحافت میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں.

*غلام انڈیا میں چنگے آزاد بھارت میں ننگے*

اگر ماقبل آزادی اور مابعد آزادی کا موازنہ کیا جائے تو یہ حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے کہ برطانوی انڈیا میں "سنی صحافت” زیادہ توانا اور مضبوط تھی. اس زمانے میں اہل سنت کے بیدار مغز علما، ذی شعور مشائخ نے صحافتی ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کیا.

اس زمانے میں مرادآباد سے روزنامہ "مخبر عالم، روزنامہ دنیا اور ماہنامہ السواد الاعظم”

بریلی سے "ماہنامہ الرضا، اور یادگار اعلیٰ حضرت”

پٹنہ سے ماہنامہ "تحفہ حنفیہ، امرت سر سے ہفت روزہ "الفقیہ اور اہل فقہ”، دہلی سے روزنامہ صادق الاخبار، لاہور سے روزنامہ پیسہ، رامپور سے ہفت روزہ دبدبۂ سکندری جیسے اخبارات و رسائل نکلا کرتے تھے.

لیکن تعجب کی بات ہے کہ عہدِ غلامی میں ہمارے علما و مشائخ اس قدر بیدار اور متحرک تھے کہ انگریزی ظلم و زیادتی کے باوجود میدان صحافت میں اپنی مضبوط نمائندگی برقرار رکھی.

لیکن افسوس صد افسوس آزاد بھارت میں ہمارے علما ومشائخ اسلاف کی دولت گراں مایہ لٹا بیٹھے. اور اپنی ترجیحات کا رخ جس جانب کر لیا حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی نے:

"اہل سنت بہر قوالی وعرس اور

خرچ سنی بر قبور وخانقاہ”

کہہ کر اس کی اچھی عکاسی کی ہے. نوبت بایں جا رسید کہ آج غیر مسلم اخباروں کو "نذرانہ” دیکر عرس کے "خصوصی ضمیمے” شائع کرانے پر ہم مجبور ہیں.!!

آج پورے ملک میں چند ماہناموں کے سوا ہمارا دامن بالکل خالی ہے. معیاری ہفت روزہ، روزنامہ نکالنا تو جماعت اہل سنت کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا ہے.

*اہل سنت کی گاڑی ریورس (Rivers) گیئر میں*

عموماً اخلاف اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے کاموں کو آگے بڑھاتے ہیں. اس قاعدہ کے مطابق ہمارے اسلاف کے چھوڑے ہوئے اخبار ورسائل کو ہمیں آگے بڑھانا تھا لیکن نیرنگیِ زمانہ کہ جن کے پاس اسباب ہیں انہیں فرصت واحساس نہیں اور جنہیں احساس ہے ان کے پاس اسباب نہیں. نتیجتاً گاڑی ریورس میں چل رہی ہے.

بریلی سے نکلنے والا ماہ نامہ "الرضا” اب دو ماہی بن کر پٹنہ سے نکلتا ہے.

مرادآباد سے جاری ماہنامہ "السواد الاعظم” اب سہ ماہی بن کر دہلی سے نکلتا ہے.

یعنی ہم آگے بڑھنے کی بجائے ایک قدم پیچھے ہوگئے.

جانے کس گھڑی میں جی رہے ہیں ہم !!

سوچ آگے کی، لیکن پیچھے ہوئے جاتے ہیں.

یہ تو پھر بھی خیر ہے کہ کچھ رسائل دو قدم پیچھے ہی صحیح موجود تو ہیں. بقیہ رسائل کا تو نام ونشان تک نہیں ملتا اور نہ ان کی جدائی کا جماعت کو کوئی افسوس ہے:

بھول بیٹھے ہیں ان چراغوں کو

جن کی لو سے زمانہ روشن تھا

*آنلائن صحافت*

بدلتے زمانے کے ساتھ صحافت نے بھی اپنا رنگ وروپ بدلا اور آج صحافت کاغذ کی دنیا سے ڈیجٹل دنیا کا حصہ بن گئی ہے.

دنیا بدلی، زمانہ بدلا، قوموں کے انداز بدلے مگر!! سنی دنیا نے اپنے طریقے نہیں بدلے.

(الا ماشاء اللہ) بدلے بھی تو تبدیلی کی رفتار ایسی! کہ دیکھ کر چیونٹی بھی شرما جائے. ایسے سخت ماحول میں روایت شکنی کرتے ہوئے کچھ افراد ایسے کام کرجاتے ہیں جو فرض کفایہ کی منزل میں ہوتے ہیں. ایسا ہی ایک کام محب گرامی جناب زبیر قادری سابق مدیر "افکار رضا” ممبئی نے کر دکھایا.

31 جولائی 2018ء کو آنلائن صحافت میں "سنی اخبار” کا اجرا کرتے ہوئے اہل سنت کی نمائندگی کا حق ادا کیا.

اس اہم کام میں محترم انجینئر عظیم شاہ دہلی کی بھی بھرپور معاونت شامل ہے. اس اخبار کے اغراض و مقاصد حسب ذیل ہیں:

🔸 عالمی سطح پر اہل سنت کے روابط بحال کرنا.

🔸 آپس میں اتحاد کی راہیں ہموار کرنا.

🔸 پوری سنی دنیا کی اہم خبروں کو عوام تک پہنچانا.

🔸 اہل سنت کی جملہ خانقاہوں، تحریکات وتنظیمات کی خبروں کو شائع کرنا.

🔸 اہل قلم کی نگارشات کو عالمی سطح پر عام کرنا.

🔸 مختلف شہروں میں اپنے نمائندوں کے ساتھ اس علاقے کی خبروں کی ترسیل.

اہل ذوق اور دردمند حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اس آنلائن اخبار کی اشتہارات کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں. چونکہ آج کل زمانہ اتنا سمٹ گیا کہ اب زیادہ تر کاروبار بھی آنلائن ہی چل رہے ہیں. ایسے میں اس اخبار میں اشتہار دیکر اپنی تجارت کو وسیع کیا جاسکتا ہے. اس سے مذہبی اَخبار کو قوت بھی حاصل ہوگی.

*آنلائن صحافت اور اہل سنت*

انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا بھر کے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے. جس سے آج پوری دنیا Global village بن گئی ہے. کل تک دنیا کی خبریں پڑھنے کے لئے ہاتھوں میں اخبار اٹھانا پڑھتا تھے.لیکن آج موبائل اسکرین پر ایک نہیں درجنوں اخبارات ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں. آنلائن صحافت نے اتنی تیزی سے ترقی کی ہے کہ دنیا کے کئی بڑے اخبارات ورسائل نے کاغذی ایڈیشن بند کر دئے اور اب صرف آنلائن اشاعت ہی ہوتی ہے. اس بدلتے نظارے سے اردو صحافت بھی مستفیض ہوئی اور دنیا بھر میں آنلائن اخبارات کی اشاعت شروع ہوئی حتی کہ جاپان فرانس جیسے ممالک میں بھی آنلائن اردو اخبارات شروع ہوئے اور بڑی کامیابی کے ساتھ چل بھی رہے ہیں.

یہ سب کچھ بحسن وخوبی ہورہا ہے اور اب سے نہیں کئی سالوں سے آنلان اردو صحافت شاہراہ کامیابی پر رواں دواں ہے لیکن اپنے مزاج کے مطابق اہل سنت کو عرس وقوالی سے ہی فرصت نہیں ملی. اس لئے آج جبکہ اس میدان میں بھی دنیا بہت آگے نکل گئی ہے. بہت ایڈوانس،منظم اور update اردو اخبارات انٹرنیٹ پر چھائے ہوئے ہیں تو اب جاکر اہل سنت میں کچھ بیداری آئی ہے. اور ناامیدی کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے محترم زبیر قادری اور انجینئر عظیم شاہ نے امیدوں کا ایک چراغ روشن کیا ہے. حالانکہ جماعتی اعتبار سے یہ محاسبہ کا وقت ہے کہ جب دنیا اس فیلڈ میں بھی میلوں آگے نکل چکی تو ہماری ابتدا ہورہی ہے. مگر یہ سوچ کر کہ something is better than nothing کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہوتا ہے. ممکن ہے کہ چراغ سے چراغ جلے اور ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی ہوجائے اور کاروان اہل سنت پھر سے اکابرین کی روش پر چلتے ہوئے ملی قیادت کا فریضہ انجام دے کہ:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

*سنی اخبار* نے بڑے خلوص کے ساتھ آپ کے دروازے پر دستک دی ہے تو آئیے اٹھ کھڑے ہوں،قدم بڑھائیں،ساتھ نبھائیں اور ملی خدمت کے لئے اپنا حصہ پیش فرمائیں کہ ہر ہر فرد کی کوشش ہی روشنی میں اضافے کا سبب ہوتی ہے :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اخبار کا لنک نیچے درج ہے :

www.sunniakhbar.com

غلام مصطفیٰ نعیمی

8 محرم الحرام 1440ھ

18ستمبر 2018ء بروز منگل

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.