بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا يَاۡمُرُكُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَالۡفَحۡشَآءِ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ

وہ تمہیں صرف برائی اور بےحیائی (کے کاموں) کا حکم دیتا ہے اور اللہ کے متعلق ایسی بات کہنے کا (حکم دیتا ہے) جس کو تم نے نہیں جانتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ تمہیں صرف برائی اور بےحیائی (کے کاموں) کا حکم دیتا ہے اور اللہ کے متعلق ایسی بات کہنے کا (حکم دیتا ہے) ۔ (البقرہ : ١٦٩)

” سوء “ اور ” فحشاء “ کا معنی :

” سوء “ کے معنی ہیں : برائی اور ” فحشاء “ کے معنی ہیں : بےحیائی ‘ ہر وہ کام جس سے شریعت نے منع کیا ہو وہ ” سوء “ اور فحشاء “ ہے قرآن مجید میں ” فحشاء “ کا اطلاق زیادہ تر زنا پر آیا ہے اور ایک جگہ اس کا اطلاق بخل پر ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس کام پر حد نہ ہو وہ ” سوء “ ہے اور جس پر حد ہو وہ ” فحشاء “ ہے۔

مشرکین ” بحیرہ “ سائبہ ‘ وسیلہ “ اور ” حام “ (بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور) کو حرام قرار دیتے تھے اور یہ

گمان کرتے تھے کہ ان جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان جانوروں کو اللہ نے حرام نہیں کیا ‘ لیکن یہ مشرکین اللہ پر افتراء باندھتے ہیں ‘ اور اس آیت میں یہ بتلایا کہ شیطان نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف اس تحریم کو منسوب کرنے کا حکم دیا ہے۔

جب اونٹنی پانچ بچے جن لیتی جن میں آخری نر ہوتا تو مشرکین اس کے کان چیر دیتے اور اس پر سوار ہونے ‘ بوجھ لادنے اور اس کے ذبح کو حرام کردیتے اور اس کو ” بحیرہ “ کہتے ‘ اور جو کوئی شخص دور دراز کے سفر سے واپس آتا ‘ یا بیماری سے تندرست ہوتا یا کسی جنگ یا مصیبت سے نجات پاتا تو وہ اعلان کردیتا کہ میری اونٹنی بتوں کے لیے چھوڑی گئی ہے اور اس پر سواری اور اس کے ذبح کو حرام کردیتا اور اس کو کسی جگہ بھی گھاس چرنے یا پانی پینے سے منع نہ کیا جاتا ‘ اس کو ” سائبہ “ کہتے تھے ‘ جب کوئی اونٹنی یکے بعد دیگرے مادہ کو جنم دیتی تو اس کو بھی بتوں کے تقرب کے لئے ذبح نہیں کرتے تھے ‘ اس کو ” وصیلہ “ کہتے تھے اور جب ایک معین تعداد میں اونٹ جفتی کرلیتا تو اس کو بھی بتوں کے لیے چھوڑ دیتے ‘ اس کو ” حام “ کہتے تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٦٥ )

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 169