بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ كَذٰلِكَ يُرِيۡهِمُ اللّٰهُ اَعۡمَالَهُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَيۡهِمۡؕ وَمَا هُمۡ بِخٰرِجِيۡنَ مِنَ النَّارِ

اور (ان کی) پیروی کرنے والے کہیں گے : کاش ! ہمارے لیے دنیا میں لوٹنا (ممکن) وتا تو ہم ان سے اسی طرح بری الذمہ ہوجاتے جس طرح یہ ہم سے بری الذمہ ہوگئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو باعث حسرت بنا کر انہیں دکھائے گا ‘ اور وہ نار جہنم سے ہرگز نکلنے والے نہیں ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (ان کی) پیروی کرنے والے کہیں گے : کاش ! ہمارے لیے میں لوٹنا (ممکن) ہوتا تو ہم ان سے اسی طرح بری الذمہ ہوجاتے۔ (البقرہ : ١٦٧)

تابعین اپنے متبوعین کے جواب میں کہیں گے کہ کاش ! دنیا میں دوبارہ لوٹ کر جانا ہوتا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں جس طرح آج یہ ہم سے بری الذمہ ہوگئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو باعث حسرت بنا کر انہیں دکھائے گا۔ (البقرہ : ١٦٧)

علامہ ابوجعفر محمد بن جریر طبری نے اپنی سندوں کے ساتھ اس آیت کی دو تفسیریں نقل کی ہیں۔

(١) سدی بیان کرتے ہیں کہ کافروں کو جنت دکھائی جائے گی اور جنت میں ان کے مکان دکھائے جائیں گے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت کرلیتے تو یہ مکان ان کو دے دیئے جاتے ‘ پھر وہ مکان مسلمانوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے اور وہ کافروں کے وارث ہوں گے ‘ اس وقت کافروں کو ندامت اور حسرت ہوگی۔

(٢) ابن زید اور ربیع وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال دکھائے گا ‘ پھر ان کو حسرت اور پشیمانی ہوگی کہ انہوں نے کیوں برے عمل کیے اور کیوں نہ اچھے عمل کیے تاکہ وہ عذاب سے نجات پا جاتے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٤٥۔ ٤٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابن جریر نے کہا ہے کہ یہ دوسری تاویل آیت کے زیادہ مناسب ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 167