غلام مصطفٰی رضوی [نوری مشن مالیگاؤں]

انگریز تاجر کی حیثیت سے آئے۔اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان پر قبضہ جمایا۔ مکر و فریب اور اپنے خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے حکومت وامارت کو ہتھیایا۔ ملک کو انگریز کے دامِ فریب سے آزاد کرانے میں اولین کردار قائدینِ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کا کردار نمایاں ہے۔ جن کی اکثریت علما و مشائخ پر مشتمل تھی۔جن کی قیادت علامہ فضل حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی و شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر فرما رہے تھے۔ بعد کے دور میں جن علما نے انگریز کی مخالفت میں اہم کردار ادا کیا ان میں ایک ممتاز نام اعلٰی حضرت امام احمد رضا کا ہے۔ آپ کی بہت سی کتابیں اور فتاویٰ کے ذریعے انگریز سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ نے انگریزی تہذیب و تمدن، خیالات اور غیر اسلامی سائنسی افکار کی تردید فرمائی۔

مولانا یٰسٓ اختر مصباحی لکھتے ہیں:

’’مغربی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و مزاج اور غاصب انگریزوں سے نفرت و عداوت کا یہ عالم تھا کہ نہ کبھی ان کی حکمرانی تسلیم کی اور نہ ہی ان کی کسی کچہری میں گئے اور وہ بھی یہ کہہ کر کہ ’’جب میں انگریز کی حکومت ہی تسلیم نہیں کرتا تو ان کی عدالت کیا تسلیم کروں گا؟‘‘ لفافہ پر ہمیشہ اُلٹا ٹکٹ لگاتے اور کہتے کہ ’’میں نے جارج پنجم کاسر نیچا کر دیا‘‘ زندگی بھر کسی انگریز کے پاس نہیں گئے اور نہ ان سے کوئی ربط وتعلق رکھا۔‘‘ (امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات، یٰسٓ اختر مصباحی،ص۱۸۱)

پروفیسر ابرار حسین (علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد) پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے نام ایک مکتوب(محررہ ۵؍نومبر۱۹۸۰ء) میں تحریر فرماتے ہیں:

’’کل ایک طالب علم نے اعلٰی حضرت کے خط کا عکس بھیجا ہے، اعلٰی حضرت کے پتے تحریر کرنے کا انداز بڑا دل چسپ ہے اور سیاسی نظریات کی ترجمانی کرتا ہے، پتا تحریر کرتے ہوئے آپ نے -ملکہ کا سر نیچے رکھا ہے- یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیا ہے۔‘‘

پروفیسر محمد مسعود احمد کی کتاب ’’گناہ بے گناہی‘‘ میں اعلیٰ حضرت کے ایک مکتوب کا عکس شامل ہے، جس میں ملکہ برطانیہ کا ٹکٹ اُلٹا چسپاں ہے (گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،ص۳۲۔۳۳)

انگریز نے فکر و نظر کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کیں۔ اعلٰی حضرت نے جہاں اسلامی روایات کو زندہ کیا وہیں تہذیبی و تمدنی لحاظ سے مسلم تشخص کے لیے کام کیا۔ آپ نے ہر پہلو سے انگریز کی فریب کاریوں کی مخالفت کی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ آپ نے شعار و مراسمِ شرکیہ کی بھی مذمت کی۔اور انگریز کے ساتھ مشرکین ھنود سے بھی مسلمانوں کو باخبر کیا۔

مذمتِ انگریز میں افاداتِ رضویہ:

[۱] انگریز کے عقیدۂ تثلیث سے متعلق اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:’’نصارٰی بہ اعتبار حقیقتِ لغویہ……بلا شبہہ مشرکین ہیں کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث و بُنّوت ہیں۔‘‘ (اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام،امام احمد رضا،ص۹)

[۲] اعلٰی حضرت انگریزی کورٹ سے رجوع کو بھی مسلمانوں کے حق میں ناروا و نقصان دہ جانتے تھے، اسی لیے فرماتے ہیں: ’’اولاً:باستثناان معدود(چند)باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی (مداخلت) ہو؛ اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے؛ اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے، یہ کروروں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔‘‘ (تدبیر فلاح و نجات واصلاح،امام احمد رضا،ص۱۲)

[۳] مغربی مصنوعات کے مقابل مسلمانوں کی صنعت و حرفت و تجارت کے قیام کے لیے عملی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ثانیاً: اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکا والے چھٹانک بھر تانبا کچھ صناعی کی گڑھت کر کے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔‘‘ (تدبیر فلاح و نجات واصلاح،ص۱۲)

[۴] اعلٰی حضرت نے سفرِجبل پور۱۹۱۹ء کے موقع پر بعد نمازِ عصر گن گیرج فیکٹری کی طرف سے انگریز کو جاتے دیکھ کر یہ جملہ ارشادفرمایا’’کم بخت(یعنی انگریز)بالکل بندر ہیں۔‘‘ (اکرام امام احمد رضا، مولانا برہان الحق جبل پوری، مطبوعہ لاہور،ص۹۱)

انگریز سے ایسی نفرت کہ ’’بندر‘‘کہہ کر اس کی ذلت فرما رہے ہیں۔

[۵] انگریز کی مخالفت کی غرض سے انگریزی زبان سیکھنے کو باعثِ اجر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’ ’ذی علم مسلمان اگر بہ نیت ردِ نصارٰی انگریزی پڑھے اجرپائے گا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،امام احمد رضا، جلد دہم اول، ص۹۹)

اعلٰی حضرت؛ کافروں، مشرکوں، انگریزوں، یہودیوں، آتش پرستوں، قادیانیوں غرض کہ ہر باطل فرقے کو اسلام اور مسلمانوں کا دُشمن سمجھتے تھے۔ انتقال سے صرف ایک ماہ قبل ۲۵؍؍ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ کو انھوں نے جو شعر ارشاد فرمایاوہ ان کے سیاسی افکار کا آئینہ دار ہے، سُنیے وہ کیا فرماتے ہیں ؎

کافر، ہر فرد و فرقہ دُشمن ما را مرتد، مشرک، یہود و گبر و ترسا

ترجمہ: کافر بلکہ ہر فرد و فرقہ ہمارا دُشمن ہے، خواہ وہ مرتد ہو یا مشرک، یہودی ہو یا عیسائی (انگریز) اور یا آتش پرست۔

(گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ص۶۸)

جو لوگ تحریکِ ترکِ موالات میں عدمِ شرکت کی شرعی وجہ کو غلط رنگ دیتے ہیں انھیں اعلٰی حضرت کے اس فیصلے پر غور کرنا چاہیے:

’’موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے۔‘‘

(فتاویٰ رضویہ، امام احمد رضا،جلد ششم، ص۱۲)

در حقیقت اعلٰی حضرت چاہتے تھے کہ مسلمان انگریز کے ساتھ ہی اس کے تمدن سے بھی نفرت کریں۔ اسلامی اعتبار سے زندگی بسر کریں۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے؛ اس لیے ہنود مسلمان کے دشمن تھے اور انگریز کے دوست۔ انگریز نے بعد کے دور میں مشرکین کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ ہے کہ مسلم مقدس مقامات کو متنازعہ بنانے کی جرأت کی جاتی ہے، مسلم کش فسادات کروائے جاتے ہیں، مشرکین مسلمانوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ اسلامی تہذیب و شعار کی مخالفت کرتے ہیں۔ اعلٰی حضرت کی بصیرت نے مستقبل کے احوال کی طرف نشان دہی کر دی تھی۔ہم خود مسلم مخالفت کے نظائر مشاہدہ کر رہے ہیں جو انگریز کی سازش کا حالیہ نتیجہ قرار دیے جا سکتے ہیں۔

٭٭٭

پیشکش : شہباز اختر رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

اگست 2018