بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡکُمُ الۡمَيۡتَةَ وَالدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اللہ نے تم پر تم پر جس کا (کھانا) حرام کیا ہے وہ صرف مردار ‘ خون ‘ خنزیر کا گوشت اور وہ جانور ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ سو جو شخص مجبور ہوجائے جب کہ وہ نافرمانی کرنے والا اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو تو اس پر (کھانے یا استعال میں) کوئی نہیں ہے ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے تم پر جس کا (کھانا) حرام کیا ہے ‘ وہ صرف مردار ‘ خون ‘ خنزیر کا گوشت اور وہ جانور ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ (البقرہ : ١٧٣)

حرام کیے ہوئے مردہ جانوروں میں سے مستثنیات کا بیان :

” میتہ “ (مردار) ذبح کیے جانے والے جانوروں میں سے جو جانور بغیر ذبح کے اپنی طبعی موت مرگیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں۔

قرآن مجید کی اس نص قطعی سے ہر مردار کا کھانا حرام ہے تاہم اس کے عموم سے سمندر کے مردہ جانوروں کو خاص کرلیا گیا ہے قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” احل لکم صید البحر وطعامہ متاعالکم وللسیارۃ “۔ (المائدہ : ٩٦)

ترجمہ : تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے سمندر کا شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے۔

امام احمد اور امام شافعی کے نزدیک مچھلی ہو یا کوئی اور سمندری جانور سب بغیر ذبح کے حلال ہیں ‘ امام مالک کے نزدیک سمندری خنزیر کے علاوہ سب حلال ہیں اور امام ابو حنفیہ کے نزدیک صرف مچھلی حلال ہے باقی سمندری جانور حرام ہیں ‘ امام ابوحنفیہ (رح) فرماتے ہیں : مچھلی کے علاوہ باقی سمندری جانوروں سے گھن آتی ہے اور گھناؤنے جانور حرام ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” ویحرم علیہم الخبئث “۔ (الاعراف : ١٥٧) اور ناپاک چیزیں آپ ان پر حرام کرتے ہیں “۔

امام احمد نے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا ہے ‘ اور اس حدیث سے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١١‘ مطبع مجتبائی ‘ لاہور) امام احمد نے فرمایا : یہ حدیث سو حدیثوں سے بہتر ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : سمندر کے طعام سے مراد سمندر کے مردار جانور ہیں ‘ البتہ جو جانور طبعی موت سے مر کر سطح آب کے اوپر آجائے وہ بدبودار ہوجاتا ہے ‘ اس کا کھانا بدبو کی وجہ سے مکروہ ہے : (المغنی ج ٩ ص ٣١٥۔ ٣١٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

امام مالک کے نزدیک قرآن مجید کے حکم عام کی سنت سے تخصیص جائز نہیں ہے ‘ اس لیے اگر ٹڈی اپنی طبعی موت سے مرجائے تو اس کا کھانا ان کے نزدیک جائز نہیں ہے کیونکہ وہ خشکی کا شکار ہے اور بغیر ذبح کے اللہ تعالیٰ نے صرف سمندر کا شکار حلال کیا ہے ‘ اور امام ابوحنفیہ (رح) ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک مچھلی اور ٹڈی کو بغیر ذبح کے کھانا جائز ہے اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢١٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں ‘ رہے مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں اور رہے دو خون تو وہ کلیجی اور تلی ہیں (سنن ابن ماجہ ص ‘ ٢٣٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام احمد۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٢ ص، ٢٩٧ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) اور امام دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن دارمی ج ٤ ص ‘ ٢٧٢ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

عنبرکی تحقیق :

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

اسی طرح حضرت جابر کی عنبر کے متعلق حدیث ہے جس کی سند صحیح ہے اور وہ عموم قرآن کی تخصیص کرتی ہے ‘ اس کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢١٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

ان حدیثوں کو بیان کرنے سے پہلے ہم عنبر کا معنی بیان کرنا چاہتے ہیں۔

علامہ مجد الدین میروزآبادی لکھتے ہیں :

عنبر ایک خوشبودار چیز ہے ‘ یہ سمندری جانور کی لید ہے یا سمندر کی گہرائی میں چشمہ سے نکلتی ہے ‘(ازھری نے کہا :) یہ ایک سمندری مچھلی ہے ‘ بعض نے کہا : یہ زعفران ہے ‘ بعض نے کہا : یہ سمندری کی مچھلی کی ڈھال ہے (قاموس ج ٢ ص ١٣٧‘ مطبوع داراحاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ زبیدی سمندری مچھلی کی تشریح میں لکھتے ہیں : اس مچھلی کا طول پچاس ذراع (پچھتر فٹ) ہوتا ہے۔ (تاج العروس ج ٣ ص ٤٢٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ مصر ١٤٠٦ ھ)

امام بخاری لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : عنبر دفینہ نہیں ہے ‘ وہ ایک چیز ہے جس کو سمندر نکال کر (ساحل پر) پھینک دیتا ہے (صحیح بخاری ج ص ‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں :

یہ ایک مچھلی (سپرم ویل) شکم سے نکلتا ہے اور سمندر میں سطح آب پر تیرتا ہو ایا ساحل بحر سے ملتا ہے ‘ اس کی صورت اکثر گول ہوتی ہے (اس لیے اسے شمامہ بھی کہتے ہیں) اس کا وزن نصف سیر سے لے کر دس سیر تک ہوتا ہے ‘ یہ مومی مادہ ہے جو سرد پانی میں حل نہیں ہوتا ‘ لیکن گرم پانی میں گداز ہوجاتا ہے اور چکنا محسوس ہوتا ہے ‘ عنبر اشہب بہترین خیال کیا جاتا ہے ‘ اشہب اس سیاہ رنگ کو کہتے ہیں جس میں سفیدی غالب ہو ‘ رنگ : بھورا یا سیاہی مائل وچکنا اور سنگ مرمر کی طرح جوہر دار ‘ ذائقہ : قدرے تلخ و خشبودار ‘ مزاج ‘ گرم اور خشک ‘ مقام پیدائش : سپرم ویل برازیل ‘ امریکہ کے جنوبی ساحل ‘ بحر ہند اور خلیج بنگال میں پائی جاتی ہے ‘ اس کی تجارت کے مرکز ممباسیہ اور دارالسلام ہیں ‘ افعال واستعمال : مفرح اور مقوی قلب و دماغ ہے جو اس کو تقویت دیتا ہے ‘ زیادہ تر اعصاب ‘ دماغ اور قلب کے امراض میں مستعمل ہے (کتاب المفردات ص ٣٦٦‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز ‘ کراچی)

علامہ قرطبی نے عنبر کے متعلق جن حدیثوں کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں ‘ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوعبیدہ کی قیادت میں بھیجا ‘ ہم قریش کے قافلہ کو تلاش کررہے تھے ‘ زاد راہ میں ہمارے پاس صرف کھجوروں کی ایک تھیلی تھی ‘ حضرت ابوعبیدہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیتے تھے ‘ روای نے پوچھا : آپ اس ایک کھجور کو کس طرح کھاتے تھے ؟ حضرت جابر (رض) نے کہا : ہم اس کو اس طرح چوستے تھے جس طرح بچہ چوستا ہے ‘ پھر ہم اس کے بعد پانی لیتے تھے تو وہ ہمیں ایک دن اور رات کے لیے کافی ہوتی تھی ‘ اور ہم لاٹھیوں سے درختوں کے پتے جھاڑتے ‘ پھر ان کو پانی میں بھگوکر کھالیتے تھے۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ‘ وہاں کنارے پر ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز پڑی ہوئی تھی ‘ ہم اس کے پاس گئے ‘ دیکھا تو وہ ایک جانور ہے ‘ جس کو عنبر کہا جاتا تھا۔ حضرت ابوعبیدہ نے کہا : یہ مردار ہے ‘ پھر کہا نہیں ! ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم لوگ حالت اضطرار میں ہو ‘ سو اس کو کھالو ہم لوگ تین سو تھے اور وہاں ایک ماہ ٹھہرے تھے اور اس کو کھا کر ہم موٹے ہوگئے تھے مجھے یاد ہے کہ ہم نے اس کی آنکھ کے ڈھیلے سے مشکوں سے بھر بھر کر اس جانور سے چربی نکالی تھی اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ (رض) نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لے کر اس کی آنکھ کے ڈھیلے میں بٹھا دیئے اور اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور سب سے بڑے اونٹ کی پیٹھ پر کجاوہ کس کر اس کے نیچے سے گزار لیا ‘ اور اس کے گوشت کو ابال کر ہم نے زاد راہ تیار کرلیا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا : یہ ایک رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمایا ہے ‘ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے ؟ اگر ہے تو ہمیں کھلاؤ ‘ حضرت جابر کہتے ہیں : پھر ہم نے اس میں سے کچھ گوشت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اس کو تناول فرمایا (اس حدیث میں مچھلی پر عنبر کا اطلاق مجازا کیا گیا ہے) (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٤٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٢٦۔ ٨٢٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ سپرم ویل مچھلی کے پیٹ سے نکلنے والے ایک خوشبودار مومی مادہ کو عنبر کہتے ہیں اور اس حدیث میں یہ دلیل کہ سمندر مردہ جانوروں کو بغیر ذبح کے کھانا جائز ہے اور یہ صحیح حدیث قرآن مجید میں ” میتہ “ کی عمومی حرمت کے لیے مخصص ہے۔

سطح آب پر آنے والی مردہ مچھلی کا شرعی حکم :

جو مچھلی طبعی موت سے پانی کے اندر مرجائے اور بدبودار ہو کر سطح آب پر ابھر آئے ‘ امام شافعی کے نزدیک اس کو بھی کھانا جائز ہے ‘ اور امام ابوحنفیہ کے نزدیک اس کا کھانا جائز نہیں ہے ‘ امام ابوحنفیہ کی دلیل یہ حدیث ہے :

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو سمندر پھینک دے یا جس جانور سے پانی منقطع ہوجائے اس کو کھالو اور جو جانور پانی میں مر کر اوپر آجائے اس کو مت کھاؤ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٧٨‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

ملکی اور غیر ملکی صابنوں کو استعمال کرنے کا شرعی حکم :

خشکی کے مردہ جانوروں کی چربی کو بھی کھانا اور استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب ‘ مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام کردیا ہے ‘ آپ سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! مردار کی چربی کے متعلق بتائیے کیونکہ اس چربی سے کشتیوں پر روغن کیا جاتا ہے اور اس کا تیل کھالوں پر لگایا جاتا ہے اور لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ! وہ حرام ہے ‘ پھر اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے ‘ جب اللہ نے مردار کی چربی کو حرام کردیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھایا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار کی چربی حرام ہے ‘ اس کا بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہے ‘ اس کا استعمال بھی جائز نہیں ہے عام طور پر مشہور ہے کہ صابن میں مردار کی چربی ہوتی ہے خاص طور پر غیر ملکی صابن میں ‘ لیکن یہ امر یقینی نہیں ہے ‘ اس لیے اس کا جائے تو وہ چیز شرعا نجس نہیں ہوگی ‘ اس لیے صابن ملکی ہو یا غیر ملکی اس کے استعمال سے ہاتھ یا بدن پر بغیر صابن کے پانی بہا لیا جاتا ہے۔

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر چربی میں چوہا گرجائے تو کیا کریں ؟ آپ نے پوچھا : کیا وہ جمی ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : چوہے کو اور اس کے اردگرد کی چربی کو پھینک دو اور اپنی چربی کھالو ‘ صحابی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اگر وہ چربی پگھلی ہوئی ہو تو ؟ آپ نے فرمایا : اس سے نفع حاصل کرو اور اس کو کھانا نہیں۔ اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کھانے سے منع فرمایا ہے اور اس کے علاوہ اس سے ہر قسم کے نفع حاصل کرنے کی اجازت دی ہے ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابوسعید خدری ‘ حضرت ابوموسی اشعری اور دیگر سلف صالحین نے اس قسم کی چربی سے نفع حاصل کرنے کو جائز کہا ہے ‘ البتہ کھانے سے منع کیا ہے۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس قسم کی چربی کو بیچنا جائز ہے اور بائع کو اس کا عیب بیان کردینا چاہیے۔

یہ بحث اس چربی میں ہے جس میں چوہا گرگیا ہو ‘ مفتی محمد شفیع دیوبندی نے اس کو مطلقا مردار کی چربی پر محمول کیا ہے اور لکھا ہے : نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض صحابہ کرام ‘ ابن عمر ‘ ابوسعید خدری ‘ ابو موسیٰ اشعری نے مردار کی چربی کا صرف کھانے میں استعمال حرام قرار دیا ہے ‘ خارجی استعمال کی اجازت دی ہے ‘ اس لیے اس کی خریدو فروخت کو بھی جائز رکھا ہے۔ (جصاص) (معارف القرآن ج ١ ص ٤١٨‘ مطبوعہ ادراۃ المعارف : ١٤١٤ ھ)

مفتی صاحب کا یہ استنباط صحیح نہیں ہے ‘ نہ مذکورالصدر صحابہ کرام کا یہ نظریہ ہے ‘ نہ علامہ جصاص کی یہ عبارت مطلقا مردار کی چربی کے متعلق ہے یہ بحث اس پگھلی ہوئی چربی میں ہے جس میں چوہا گرگیا ہو ‘ علامہ جصاص اس بحث کے اخیر میں لکھتے ہیں :

یہ چربی ان کے نزدیک مردار کی چربی کے قائم مقام نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ مردار کے گوشت کی طرح بعینہ حرام ہے اور جس پگھلی ہوئی چربی میں چوہا گرگیا ہو وہ بعینہ حرام نہیں ہے ‘ مردار کی مجاورت سے اس کا صرف کھانا حرام ہے اور اس سے باقی ہر طرح کا نفع حاصل کرنا جائز ہے۔

علامہ جصاص نے اس حدیث سے یہ اصول مستنبط کیا ہے :

جو چیز فی نفسہ نجس ہو وہ کسی چیز میں گرجائے تو جتنے حصہ میں وہ نجس چیز ہوگی اس نجس چیز کی مجاورت کی وجہ سے وہ حصہ نجس ہوجائے گا اور جو حصہ اس نجس حصہ سے مجاور ہے وہ نجس نہیں ہوگا ‘ کیونکہ جس حصہ میں چوہا گرا اس کو آپ نے نجس فرمایا اور چربی کا باقی حصہ جو اس حصہ سے ملا ہوا ہے اس سے نفع حاصل کرنے کو جائز فرمایا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١١٩۔ ١١٨‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر بالفرض صابن میں مردار کی چربی ہو تب بھی چربی کی وجہ سے صابن نجس ہوگا لیکن صابن جب بدن پر ملا جائے گا تو اس سے بدن نجس نہیں ہوگا کیونکہ جو چیز کسی کی مجاورت کی وجہ سے نجس ہو ‘ وہ دوسری چیز کو نجس نہیں کرتی اور اگر بالفرض نجس ہو تب بھی پانی بہا لینے کے بعد کسی قسم کی نجاست نہیں رہی ‘ اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ مردار کی چربی کو استعمال کرنا نہیں ہے ‘ جب کہ ظن غالب یہ ہے کہ مسلمان اور عیسائی ممالک میں مذبوح جانور کی چربی کو استعمال کیا جاتا ہے اس لیے ملکی اور غیر ملکی صابنوں کو استعمال کرنا جائز ہے اور ان سے ہاتھ یا بدن نجس نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے تم پر جس کا (کھانا) حرام کیا ہے وہ صرف مردار خون۔۔۔۔۔ (البقرہ : ١٧٣)

بہائے ہوئے خون کا بالاجماع حرام ہونا :

اس آیت میں مطلقا خون کو حرام فرمایا ہے اور سورة الانعام میں اس کو بہائے ہوئے خون کے ساتھ مقید فرمایا ہے :

(آیت) ” قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ اودما مسفوحا اولحم خنزیر فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان ربک غفور رحیم۔ (الانعام : ١٤٥)

ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے اس میں کسی کھانے والے کھانے پر کوئی چیز حرام نہیں کی گئی ماسوا مردار یا بہائے ہوئے خون یا خنزیر کے گوشت کے ‘ بیشک وہ (خنزیر) نجس ہے یا وہ فسق (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ‘ سو جو شخص مجبور ہوجائے (اور) وہ نافرمانی کرنے والا اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو (اور وہ ان کو کھالے یا استعمال کرلے) تو آپ کا رب بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

تمام ائمہ اور مجتہدین نے یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے اور یہاں خون سے بہایا ہوا خون مراد ہے ‘ کیونکہ جو خون گوشت کے ساتھ مخلوط ہوتا ہے وہ بالاجماع حرام نہیں ہے ‘ اسی طرح جگر اور تلی کے حلال ہونے بھی اجماع ہے اور مچھلی کے ساتھ جو خون لگا ہوا ہوتا ہے وہ حرام اور نجس نہیں ہے۔

ضرورت کی وجہ سے ایک شخص کے جسم میں دوسرے شخص کو منتقل کرنے کا جواز :

قرآن مجید کی ان مذکورالصدر دونوں آیتوں میں شرعی ضرورت کے بغیر مردار اور خون وغیرہ کو حرام کیا گیا ہے اور جب شرعی ضرورت متحقق ہو یعنی ان چیزوں کے استعمال سے جان بچانے کا مسئلہ ہو یا بیماری کو زائل کرنا اور صحت کو قائم رکھنا مقصود ہو تو پھر ان چیزوں کے استعمال میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” وما جعل علیکم فی الدین من حرج “۔ (الحج : ٧٨)

ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام میں تم پر کوئی تنگی نہیں کی۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم صرف آسان احکام بیان کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو ‘ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

دین سے مشقت اور بوجھ کو اٹھالیا گیا ہے اور شریعت میں قاعدہ یہ ہے کہ جس عبادت کی ادائیگی میں امت کو حرج اور ثقل ہو وہ عبادت امت سے اٹھالی گئی ہے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مضطر (مجبور) مردہ کھا لیتا ہے ‘ اور مریض روزہ توڑ دیتا ہے اور تیمم کرلیتا ہے ‘ اس کی اور مثالیں بھی ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٢٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

مجبوری کی بعض حالتوں میں ایک بیمار یا زخمی انسان کے جسم میں دوسرے انسان کے خون کو منتقل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ‘ ایک وجہ یہ ہے کہ جب کسی حادثہ کی بناء پر جسم سے بہت زیادہ خون نکل جائے جس کی وجہ سے فوری طور پر اس کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون منتقل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کا جگر خون بنانا بند کردیتا ہے ‘ اس وقت اس کو زندہ رکھنے کے لیے اس کے جسم میں مسلسل خون منتقل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ‘ تیسری وجہ بلڈ کینسر (خون کا سرطان) ہے جس میں بعض اوقات ہر ماہ جسم کا پورا خون بدلنا پڑتا ہے ‘ چوتھی وجہ کوئی بڑا آپریشن ہے (مثلا دل کا بائی پاس آپریشن) جس کی وجہ سے بعض اوقات جسم کا اتنا خون نکل جاتا ہے کہ اگر اس کے جسم میں دوسرا خون نہ منتقل کیا جائے تو اس کی زندگی خطرہ میں پڑجاتی ہے۔

یہ تمام اضطرار کی صورتیں ہیں اور قرآن مجید نے اضطرار کی صورت میں خون کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ‘ اس لیے ان صورتوں میں ایک شخص کے جسم میں دوسرے شخص کا خون منتقل کرنا جائز ہے۔

حرام چیزوں سے علاج کی ممانعت کے متعلق احادیث :

بعض علماء مذکور ذیل احادیث کی بناء پر حرام دداؤں سے علاج کو ناجائز کہتے ہیں خواہ مریض مرجائے مگر حرام چیزوں سے علاج نہ کرے۔

امام ابو داؤدروایت کرتے ہیں :

حضرت ام درداء (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دواء ہے سو تم دوا کرو اور حرام دوا نہ لو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت سوید بن طارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق پوچھا ‘ آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ انہوں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے پھر منع فرمایا ‘ انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! یہ دوا ہے ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ یہ بیماری ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے نشہ آور چیزوں کے متعلق فرمایا : اللہ نے ان چیزوں میں تمہاری شفا نہیں رکھی جن کو تم پر حرام کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٤٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

مفتی محمد شفیع دیوبندی نے ” صحیح بخاری “ کی اس حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد لکھا ہے۔ (معارف القرآن ج ١ ص ٤٢٦) حالانکہ ” صحیح بخاری “ میں یہ حضرت ابن مسعود (رض) کا قول ہے۔

علامہ علی متقی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (کنزالعمال ١٠ ص ٥٣‘ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥)

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوگئی ‘ میں نے اس کے لیے ایک کو زہ میں نبیذ بنایا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ‘ اس وقت نبیذ میں جوش آرہا تھا ‘ آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میری بیٹی بیمار تھی ‘ سو میں نے اس کے لیے یہ نبیذ بنایا ہے ‘ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ‘ ٣٢٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اس حدیث کو امام ابویعلی ١۔ (امام احمد بن علی المثنی التمیمی الموصلی المتوفی ٣٠٧ ھ ‘ مسند ابویعلی ج ٦ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دارالمامون تراث بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابن حبان۔ ٢ ‘(امام ابو حاتم محمد بن حبان بسی متوفی ٣٥٤ ھ ‘ موارد الظمآن ص ٣٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

اور امام بیہقی۔ ٣ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ١ ص ٥ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔

اس حدیث کو علامہ علی متقی نے بھی بیان کیا ہے۔ (کنزالعمال ج ١٠ ص ٥٢ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں : (مجمع الزوائد ج ٥ ص ‘ ٨٦ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (الجامع الصغیر ج ١ ص ٢٧٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

فقہاء اسلام کے نزدیک احادیث مذکورہ کا محمل :

امام بیہقی تحریر فرماتے ہیں :

یہ دونوں حدیثیں (اللہ نے حرام میں شفا نہیں رکھی ‘ اور حرام دوا سے علاج نہ کرو) اگر صحیح ہوں تو ان کا محمل یہ ہے کہ نشہ آور دوا سے علاج کرنا ممنوع ہے یا بغیر ضرورت کے ہر حرام دوا سے علاج کرنا ممنوع ہے تاکہ ان حدیثوں میں اور عرنییین کی حدیث میں تطبیق رہے۔ (سنن دارمی ج ١٠ ص ‘ ٥ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

ہمارے اصحاب (شافعیہ) کہتے ہیں کہ نجس چیز کو اس وقت بہ طور دوا استعمال کرنا جائز ہے جب اس کے قائم مقام پاک چیز نہ مل سکے ‘ اگر پاک چیز مل جائے تو پھر نجس چیز بالاتفاق حرام ہے اور جس حدیث میں ہے : اللہ نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے ‘ اس کا یہی محمل ہے کہ جب حرام دوا کے علاوہ حلال دوا بھی موجود ہو تو پھر حرام دوا کا استعمال حرام ہے ‘ اور جب حرام دوا کے علاوہ کوئی اور دوا موجود نہ ہو تو پھر وہ حرام نہیں ہے ‘ ہمارے اصحاب نے کہا : یہ اس وقت جائز ہے جب معالج طب کا عارف ہو اور اس کو علم ہو کہ اس دوا کا اور کوئی بدل نہیں ہے یا کوئی مسلمان نیک طبیب اس کی خبر دے ‘ اور علامہ بغوی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ صرف ایک طبیب کی خبر بھی کافی ہے۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٥١۔ ٥٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ احمد قسطلانی شافعی لکھتے ہیں :

امام ابو داؤد نے حضرت ام سلیم (بلکہ ام سلمہ) سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے ‘ یہ حالت اختیار پر محمول ہے لیکن ضرورت کے وقت یہ حرام نہیں ہے ‘ جیسے ضرورت کے وقت مردار حرام نہیں ہے۔ (ارشاد الساری ج ١ ص ٢٩٤‘ مطبوعہ مطبع میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس حدیث کا یہی محمل بیان کیا ہے کہ حالت اختیار میں حرام چیز میں شفا نہیں ہے اور ضرورت کے وقت حرام دوا سے علاج کرنا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ٢٣٨ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

چونکہ ان دو حدیثوں میں حرام چیز کے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے عرنییین کی حدیث (جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹینوں کے پیشاب کو بطوردوا استعمال کرایا اور عرنیین تندرست ہوگئے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ضرورت کی صورت پر محمول ہے ‘ کو ن کہ زہر کے ساتھ علاج کرنا جائز ہے اور اس کا پینا جائز نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٣١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں :

اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ اس سے وہ صورت مراد ہے جب انسان کو حلال اور حرام دونوں دواؤں کے استعمال کا اختیار ہو ‘ لیکن جب حرام دواء کے علاوہ اور کوئی دوانہ ہو تو پھر وہ دوا شرعا حرام نہیں رہے گی ‘ جیسے ضرورت کے وقت مردار حرام نہیں رہتا۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ١٥٥‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ قاضی خاں حنفی لکھتے ہیں :

اس حدیث سے مراد وہ اشیاء ہیں جن میں شفا نہیں ہے لیکن جب کسی چیز میں شفاہو تو پھر اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ضرورت کے وقت پیاسے کے لیے شراب پینا جائز ہے۔ (فتاوی قاضی خاں ج ٣ ص ٤٠٤‘ مطبوعہ مطبع کبری امریہ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

علامہ ابن بزاز کردری حنفی لکھتے ہیں :

اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ جب حرام دوا میں شفا کا علم ہو تو پھر اس کا استعمال حرام نہیں ہے جیسے پھنسے ہوئے لقمہ کو حلق سے اتارنے کے لیے (جب پانی نہ ہو تو) شراب کا گھونٹ پینا جائز ہے ‘ اسی طرح پیاسے کے لیے شراب پینا جائز ہے۔ (فتاوی بزازیہ علی ھامش الہندیہ ج ٦ ص ٣٦٥‘ مطبعہ مطبع کبری امیریہ ‘ بولاق)

علامہ حموی حنفی لکھتے ہیں :

علامہ تمرتاشی نے ” شرح الجامع الصغیر “ میں تہذیب سے نقل کیا ہے کہ بیمار کے لیے مردار کھانا اور خون اور پیشاب کو پینا جائز ہے بہ شرطی کہ مسلمان طبیب یہ کہے کہ اس میں شفاء ہے اور اس کے قائم مقام جائز چیز نہ ملے۔ (غمزعیون البصائر ج ١ ص ٢٧٥‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں :

جس چیز میں شفا ہو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے جس طرح ضرورت کے وقت پیاسے کے لیے شراب حلال ہے ‘ صاحب ” ہدایہ “ نے ” تجنیس “ میں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص “ ١٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ضرورت کے وقت حرام چیزوں سے علاج کے متعلق احادیث اور فقہاء اسلام کی تشریحات :

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ سے کچھ لوگ آئے اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں ‘ جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چرواہوں کو قتل کردیا۔

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :

امام بخاری نے اس حدیث کو آٹھ سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام مسلم نے اس حدیث کو سات سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے بھی اس حدیث کو متعدد سندوں سے روایت کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ١٥١‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے کتاب الطہارۃ ‘ اطعمہ اور الطب میں روایت کیا ہے ‘ امام ابن ماجہ نے کتاب الحدود میں روایت کیا ہے ‘ امام احمد بن حنبل نے مسند احمد (ج ١ ص ١٩٢‘ ج ٣ ص ٣٧٠۔ ١٩٠۔ ٢٨٧۔ ٢٠٥۔ ١٩٨۔ ١٧٧۔ ١٦١۔ ١٠٧) میں روایت کیا ہے۔

علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں :

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پیشاب پینا تو حرام ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اس وقت حرام ہے جب دوسری دوا کا بھی اختیار ہو۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ‘ ١٥٥ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ نووی شافعی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ خمر اور باقی نشہ آور مشروبات کے سوا ہر نجس چیز کے ساتھ علاج کرنا جائز ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

لیکن علامہ نووی نے ” شرح المہذب “ میں لکھا ہے کہ ضرورت کی بناء پر شراب سے بھی علاج جائز ہے۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٤١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خارش کی وجہ سے حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر (رض) کو ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ بدرالدین عینی حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

علامہ نووی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث امام شافعی اور ان کے موافقین کے موقف پر صراحۃ دلالت کرتی ہے کہ اگر مردوں کو خارش ہو تو انکے لیے ریشم جائز ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٤ ص ١٩٦‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

ملا علی قاری حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

جوؤں یا خارش کی وجہ سے ریشم پہننے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

عبدالرحمن بن طرفہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا عرفجہ بن اسعد کی جنگ کلاب میں ناک کٹ گئی ‘ انہوں نے چاندی کی ناک گالی ‘ اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں سونے کی ناک بنانے کا حکم دیا۔ امام ابوداؤد نے اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی۔ ١ (امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٢ ھ ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٢٨٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اور امام احمد۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث کی بناء پر سونے کی ناک لگانے اور سونے کے ساتھ دانت کے باندھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٨٠‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

ہم نے اس بحث میں فقہاء احناف ‘ فقہاء شافعیہ اور فقہاء مالکیہ کی تصریحات پیش کی ہیں کہ ضرورت کے وقت حرام دواؤں سے علاج کرنا جائز ہے ‘ فقہاء حنبیلہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے ‘ بعض منع کرتے ہیں اور جمہور جائز کہتے ہیں ‘ علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :

جمہور اصحاب کے نزدیک اضطرار کے وقت حرام چیز بہ قدر ضرورت کھانا جائز ہے اور اضطرار اس وقت ہے جب جان کی ہلاکت کا خدشہ ہو یا جان کے نقصان کا خدشہ ہو یا مرض کا خدشہ ہو یا مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو اور اگر مرض کے طول کا خدشہ ہو تو صحیح مذہب یہ ہے کہ پھر بھی اضطرار ہے۔ (الانصاف ج ١٠ ص ٣٧٠۔ ٣٦٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)

صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے۔

بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خون کی حرمت قطعی ہے اور خون منتقل کرنے سے مریض کا بچ جانا یا اس کا صحت یاب ہوجانا ظنی ہے اور ظنی فائدہ کی امید پر حرام قطعی کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو عرنیین کو بیماری میں اونٹنیوں کا پیشاب پلایا تھا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ علم تھا کہ انکی اسی سے شفا ہوگی اور وحی کا علم قطعی ہے ‘ اس لیے اس سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا ‘ اور فقہاء نے شدید بھوک کی حالت میں مردار اور خنزیر کھانے کا جو جواز لکھا ہے اس سے بھی معارضہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کسی چیز کے کھانے سے بھوک کا زائل ہونا قطعی ہے اور دوا سے بیماری کا علاج ظنی ہے ‘ اسی طرح یہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر حلق میں لقمہ پھنسا ہو اہو اور کوئی اور پینے کی چیز نہ ملے تو شراب کا گھونٹ پی کر لقمہ کو حلق سے نیچے اتارنا جائز ہے کیونکہ کسی مشروب سے لقمہ کا حلق سے اترجانا قطعی ہے اور دوا سے صحت اور شفا کا حاصل ہونا ظنی کے لیے فرض قطعی کو ترک کردیا جائے گا ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولاتقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ (النساء : ٢٩)

ترجمہ : اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

(آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھل کہ ’(البقرہ : ١٩٥)

ترجمہ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

رمضان میں روزہ رکھنا فرض قطعی ہے ‘ لیکن اگر روزہ رکھنے سے بیمار پڑنے یا مرض بڑھنے کا خدشہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے رمضان میں روزہ نہ رکھنے اور بعد میں اس کو قضاء کرنے کا حکم دیا ہے۔

(آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ‘ ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر ‘ یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر ولتکملوا العدۃ۔ (البقرہ : ١٨٥)

ترجمہ : تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو تو وہ ضرور اس ماہ کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے) تو اسے دوسرے دنوں میں (قضاشدہ) عدد پورا کرنا لازم ہے اللہ تم پر آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تاکہ تم عدد پورا کرو۔

روزہ رکھنے سے بیماری لاحق ہونا ‘ یابیماری کا بڑھنا ‘ اسی طرح سفر سے مشقت کا لاحق ہونا ایک امر ظنی ہے لیکن اس امر ظنی کی وجہ سے فرض قطعی کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ زندگی اور صحت کی حفاظت کرنے کا حکم باقی تمام فرائض پر مقدم ہے اور اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے حکم پر عمل کرنے کو صحت کی حفاظت پر مقدم کرے اور سفر کی مشقت برداشت کرکے روزہ رکھے تو وہ گنہگار ہوگا۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ آپ نے روزہ رکھ لیا حت کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچ گئے ‘ سو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا تھا ‘ پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگایا اور اس کو اوپر اٹھا کر پی لیا ‘ جس کو سب لوگوں نے دیکھ لیا ‘ پھر آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگ بدستور روزہ سے ہیں اور ان پر روزہ دشوار ہورہا ہے ‘ آپ نے فرمایا : یہ لوگ نافرمان ہیں ‘ یہ لوگ نافرمان ہے (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی لکھتے ہیں :

یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے جس کو سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر ہو (شرح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ صحت کو قائم رکھنا روزہ رکھنے پر مقدم ہے حالانکہ روزہ رکھنا فرض قطعی ہے ‘ اور سفر میں روزہ رکھنے سے مشقت کا لاحق ہونا ایک امر ظنی ہے اور اس امر ظنی کی بناء پر اس فرض قطعی کو ترک کرنا واجب ہے اور اس پر عمل کرنا گناہ ہے۔

نیز امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ‘ ہم میں سے بعض روزہ دار تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ اس دن بہت سخت گرمی تھی ‘ ہم نے ایک جگہ قیام کیا ہم میں سے اکثر لوگ چادروں سے اپنے اوپر سایا کیے ہوئے تھے اور بعض اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر سایا کر رہے تھے ‘ روزہ دار (بےہوش ہو کر) گرگئے اور روزہ نہ رکھنے والوں نے ان پر سایا کیا اور ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

جو شخص رمضان میں بیمار ہو اور اس کو یہ خدشہ ہو کہ اگر اس نے روزہ رکھا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا توہ وہ روزہ نہ رکھے اور قضاء کرے ‘ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ روزہ رکھے وہ (روزہ نہ رکھنے کے لیے) جان کی ہلاکت یا عضو کی ہلاکت کا اعتبار کرتے ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں کہ مرض کا زیادہ ہونا اور اس کا بڑھنا کبھی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اس لیے اس سے احتراز کرنا واجب ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٢١‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

مرض کا زیادہ ہونا ایک امر ظنی ہے ‘ اسی طرح امام شافعی کے اعتبار سے روزہ رکھنے سے جان یا عضو کی ہلاکت بھی ایک امر ظنی ہے اور اس امر ظنی کی وجہ سے رمضان میں روزہ رکھنے کے قطعی حکم کے ترک کرنے کو نہ صرف جائز بلکہ واجب قرار دیا گیا ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے۔

نیز علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

اگر ایک شخص مسافر ہو اور اس کو روزہ سے ضرر نہ ہو تو اس کا روزہ رکھنا افضل ہے اور اگر وہ روزہ نہ رکھے تو جائز ہے کیونکہ سفر مشقت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے سفر میں نفس مشقت کو (روزہ نہ رکھنے کا) عذر قرار دیا گیا ہے اس کے برخلاف مرض میں کبھی روزہ رکھنے سے فائدہ ہوتا ہے (جیسے ہیضہ میں) اس لیے مرض میں روزہ نہ رکھنے کے لیے یہ شرط لگائی گئی ہے کہ روزہ رکھنے سے ضرر ہو۔

امام شافعی یہ کہتے کہ سفر میں (مطلقا) روزہ نہ رکھنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری)

ہمارے نزدیک یہ حدیث اس سفر پر محمول ہے جس میں مشقت ہو اور اگر مریض اور مسافر اسی حال میں مرجائیں تو ان پر قضا لازم نہیں ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٢١‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

سفر میں مشقت کا لاحق ہونا بھی ایک امر ظنی ہے جس کی بناء پر رمضان میں روزہ کے قطعی حکم کو ترک کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔

نیز علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں جب (رمضان میں) روزہ رکھنے سے اپنے اوپر یا اپنے بچہ کے اوپر (ضرر کا) خوف محسوس کریں تو روزہ نہ رکھیں اور قضا کریں تاکہ ان پر تنگی نہ ہو (ہدایہ اولین ص ٢٢٢‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ رکھنے سے ضرر کا لاحق ہونا بھی ایک امر ظنی ہے۔ (رد المختار ج ٢ ص ١١٦)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

غلبہ ظن ‘ علامات ‘ تجربہ یا مسلمان ماہر طبیب کے بتانے سے اگر تندرست شخص کو روزہ رکھنے سے بیمار پڑنے کا خدشہ ہو تو ان کے لیے (رمضان میں) روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور جب وہ روزہ رکھنے پر قادر ہوں تو اس کی لازما قضا کریں۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٧۔ ١١٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جوشخص بہت بوڑھا ہو یا جس کو ایسا مرض لاحق ہو جس سے شفاء کی امید نہیں ہے (جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر) اور اس وجہ سے اس کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو اس کے لیے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے اور اس پر ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کے طعام کا (دوکلوگندم) فدیہ دینالازم ہے ‘ قرآن مجید میں ہے۔

(آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین “۔ (البقرہ : ١٨٤)

ترجمہ : اور جو لوگ روزہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں ‘ ان پر ایک مسکین کے طعام کا فدیہ لازم ہے۔

علامہ شامی لکھتے ہیں :

شیخ فانی اور جس شخص کو ایسا مرض لاحق ہو جس سے شفا کی امید نہ ہو ‘ اس رخصت میں داخل ہیں۔ (رد المختار ج ٢ ص ١١٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

کسی مرض سے شفا کی امید نہ ہونا بھی امر ظنی ہے ‘ جس کا مدار تجربہ ‘ مشاہدہ اور طبیب کے قول پر ہے اور ان میں سے کوئی چیز قطعی نہیں ہے اور اس کی بناء پر دائما روزہ کو ترک کرنے اور اس کے بدلہ میں فدیہ دینے کا حکم دیا گیا ہے ‘ حالانکہ روزہ کا حکم فرض قطعی ہے۔

امام بخاری نے ایک باب کا یہ عنوان قائم کیا ہے : جب جنبی کو اپنے نفس پر موت کا یا مرض کا خدشہ ہو یا پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کرلے اور اس کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے۔

حضرت عمرو بن العاص (رض) سردی کی ایک رات میں جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت تلاوت کی :

(آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ‘ ان اللہ کان بکم رحیما “۔۔ (النساء : ٢٩)

ترجمہ : اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس پر ملامت نہیں کی ‘ یعنی اس عمل کو صحیح قرار دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

جنبی کے لیے غسل کرنے کا حکم فرض قطعی ہے اور سردی میں غسل کرنے سے موت یا مرض کا اندیشہ محض ظن پر مبنی ہے ‘ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اس ظن کی بنا پر فرض قطعی کو ترک کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عمل کو مقرر رکھا اور صحیح قرار دیا اور امام بخاری نے اس سے یہ مسئلہ مستنبط کیا کہ جنبی کے لیے مرض یا موت کے اندیشہ سے غسل کی بجائے تیمم کرنا جائز ہے۔

قرآن مجید ‘ احادیث ‘ محدثین اور فقہاء کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک یہ یقین نہ ہو کہ حرام چیز کے علاوہ اور کسی چیز میں شفا نہیں ہے اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر نبی کے لیے یقین کا حصول ممکن نہیں ہے اس لیے عام مکلفین کے لیے صرف غلبہ ظن کا اعتبار کیا جائے گا۔ علامہ شامی لکھتے ہیں ؛

تم کو معلوم ہے کہ اطباء کے قول سے یقین حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر یہ ہے کہ تجربہ سے بھی غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے یقین حاصل نہیں ہوتا ‘ البتہ فقہاء علم اور یقین سے غلبہ ظن مراد لیتے ہیں اور ان کی عبارات میں یہ اطلاق عام اور شائع ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص “ ١٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اللہ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنا واجب ہے :

اس بحث میں یہ بات محلوظ رہنی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے مالک نہیں ہیں ‘ ہمارے پاس یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ‘ ہم اس کو ضائع کرنے یا نقصان پہنچانے کے مجاز نہیں ہیں ‘ اس لیے کسی مضر چیز کو استعمال کرکے زندگی اور صحت کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ بیماری میں علاج کو ترک کرکے زندگی اور صحت کو نقصان پہنچانا جائز ہے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیماری میں حرام چیز سے علاج نہ کرنا عزیمت اور تقوی ہے اور علاج کرنا رخصت اور فتوی ہے اور عزیمت اور تقوی پر عمل کرنا افضل ہے ‘ یہ محض جہالت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذر کی حالت میں جو رخصت دی ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے اور عمل نہ کرنا گناہ ہے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو رخصت دی ہے اس رخصت پر عمل کرنا تم پر واجب ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام احمد روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول نہیں کیا اس کو میدان عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوگا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ‘ ٧١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی معصیت کو ناپسند فرماتا ہے ‘ اسی طرح اپنی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنے کو پسند فرماتا ہے (مسند احمد ج ٢ ص ‘ ١٠٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اس جانور کا کھانا حرام ہے) جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ (البقرہ :)

” وما اھل بہ لغیر اللہ “ کی تحقیق :

امام ابن جریر طبری فرماتے ہیں ‘ اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) مجاہد نے کہا : اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو ‘ قتادہ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیے بغیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہود اور انصاری کے علاوہ دیگر کافروں نے جس جانور کو بتوں کے لیے ذبح کیا ہو ‘ اس سے وہ جانور مراد ہے۔

(٢) ربیع نے کہا : اس سے مراد وہ جانور ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ ابن وہب نے کہا : اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کو بتوں کے لیے ذبح کیا جائے اور ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٥١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں : مسلمانوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس سے مراد وہ ذبیحہ ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا جائے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ١٢٥ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے۔ وآنچہ آواز بلند کردہ شوددرذبح دے بغیر خدا۔

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ جانور جس کو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو وہ حرام ہے ‘ اور بت ‘ مسیح وغیرہ یہ سب غیر اللہ میں داخل ہیں ‘ اس کو اھلا (آواز بلند کرنا) کہتے ہیں کیونکہ ذبح کے وقت یہ بلند آواز سے اس کا نام لیتے ہیں جس کے لیے جانور کو ذبح کرتے ہیں ‘ پھر اس کے مفہوم میں وسعت دی گئی اور ہر وہ جانور جس کو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا اس کو ” ما اھل بہ لغیر اللہ “ کہا جانے لگا ‘ خواہ بلند آواز سے اس کا ذکر کیا گیا ہو یا نہیں ‘ اور عطاء مکحول ‘ حسن بصری شعبی ابن المسیب اوزاعی اور لیث وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کو بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا جائے اور وہ کہتے ہیں کہ مسیح کے نام پر نصرانی کا کیا ہوا ذبیح جائز ہے اور امام ابوحنیفہ ‘ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام زفر ‘ امام مالک اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ جب نصرانی مسیح کے نام پر جانور کو ذبح کریں تو ان کا ذبیح نہیں کھایا جائے گا۔ (البحرالمحیط ٢ ص ١١٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

امیر یا کسی معظم شخص کی آمد پر جانور کو ذبح کیا گیا تو یہ ذبیحہ حرام ہے کیونکہ یہ ” ما اھل بہ لغیر اللہ “ ہے خواہ اس کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ‘ اور اگر مہمان کے لیے جانور کو ذبح کیا گیا تو یہ حرام نہیں ہے کیونکہ یہ حضرت ابراہیم کی سنت ہے اور فرق یہ ہے کہ اگر اس نے جانور کو کھانے کے لیے ذبح کیا ہے تو ذبح کرنا اللہ کے لیے ہے اور منفعت مہمان یا دعوت کے لیے ہے اور اگر اس نے کھانے کے لیے ذبح نہیں کیا بلکہ غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے تو یہ غیر اللہ کی تعظیم کی وجہ سے حرام ہے ‘ علامہ شامی نے وضاحت کی ہے کہ اگر ذبح سے غیر اللہ کی تعظیم کا قصد ہوگا تو ذبیحہ حرام ہوگا (مثلا کوئی بڑا آدمی آیا تو اس کی تعظیم کے لیے جانور کا خون بہا دیا ‘ تو یہ ذبیحہ حرام ہے۔ ١) (ہوسکتا ہے ان فقہاء کے زمانہ میں کسی بڑے آدمی کے آنے پر اس کی تعظیم کے لیے جانور کو ذبح کر کے اس کا خون بہایا جاتا ہو مگر اب یہ کہیں مروج نہیں ہے) اور اگر یہ قصد نہیں تو ذبیحہ جائز ہے مثلا مکان کی بنیاد ڈالتے وقت جانور ذبح کیا جائے ‘ یا کسی کے بیمار ہونے پر یا کسی کے بیماری سے شفا پانے پر ‘ تو اس ذبیحہ کے حلال ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ‘ کیونکہ اس ذبیحہ سے مقصد اس کے گوشت کو صدقہ کرنا ہے ‘ حموی۔ اس کی مثل یہ ہے کہ کسی شخص نے یہ نذر مانی ‘ کہ اگر وہ سمندر کے سفر سے سلامت واپس آگیا تو اللہ کی رضا کے لیے ایک جانور ذبح کرے گا ‘ بحر۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے گوشت کو صرف فقراء پر صدقہ کرے ‘ شبلی۔ آیا غیر اللہ کی تعظیم کے لیے ذبح کرنے والا کافر ہوجائے گا یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں ‘ بزاز یہ وشرح وہبانیہ۔ میں کہتا ہوں کہ ” منیہ “ کی کتاب الصید “ میں ہے کہ یہ فعل مکروہ ہے اور وہ کافر نہیں ہوگا کیونکہ ہم کسی مسلمان کے ساتھ یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح سے کسی آدمی کا تقرب حاصل کرے گا۔ (علامہ شامی فرماتے ہیں ؛ یعنی تقرب علی وجہ العبادۃ کیونکہ وہی کفر کا سبب ہے ‘ اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے ‘ لہذا جو شخص کسی بڑے آدمی کے آنے پر جانور کو ذبح کرتا ہے اس کا مقصد یا تو دنیاداری ہے یا اس جانور کو ذبح کرکے اس شخص سے اظہار محبت کرنا اور اس کے نزدیک مقبول ہونا اس کا مقصود ہے ‘ لیکن جب کہ اس فعل میں اس کی تعظیم داخل ہے تو اس جانور پر بسم اللہ پڑھنا حکما محض اللہ کے لیے نہ ہوا اور یہ ایسا ہوگیا جیسے اس نے بسم اللہ اور بسم فلاں پڑھا تو یہ ذبیحہ حرام ہوجائے گا لیکن حرمت اور کفر میں تلازم نہیں ہے) (ردالمختار مع ردالمختار ج ٥ ص ١٩٨۔ ١٩٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اگر کوئی شخص غیر اللہ کی نذر مانے مثلا یہ کہے کہ اگر فلاں بزرگ نے میرا کام کردیا تو میں اس بزرگ کے لیے ایک بکرا ذبح کروں گا ‘ سو یہ نذر حرام ہے کیونکہ ” البحر الرائق “ اور فقہ کی دیگر کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نذر عبادت ہے اور مخلوق کی ماننا حرام ہے اور اگر اس شخص نے اس بزرگ کی تعظیم کے لیے اس بکرے کو ذبح کیا تو فقہاء کی تصریحات مذکورہ کی بناء پر وہ ذبیحہ حرام ہوگا اور ” وما اھل بہ لغیر اللہ “ کا مصداق ہوگا اور اگر اس نے اللہ کی نذر مانی مثلا یہ کہا کہ اگر اللہ نے میرا فلاں کام کردیا تو میں اس کے لیے ایک بکرا ذبح کروں گا تو یہ نذر جائز ہے اور یہ ذبیحہ بھی جائز ہے اور اگر وہ نذر ماننے کے بعد یہ کہے کہ میں اس بکرے کا گوشت بزرگ کے مزار کے فقراء میں تقسیم کروں گا اور اس نذر کا ثواب فلاں بزرگ کو پہنچاؤں گا تو یہ بھی جائز ہے ‘ لیکن یہاں نذر کے لفظ سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ اس عرفی نذر کا شرعی نذر سے التباس نہ ہو اور ان پڑھ عوام کے عقائد خراب نہ ہوں ‘ اس طرح ایصال ثواب کرنے کو علماء دیوبند نے بھی جائز کہا ہے ‘ شیخ محمود الحسن لکھتے ہیں :

البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرکے فقراء کو کھلائے اور اس کا ثواب کسی قریب ‘ یا پیر اور بزرگ کو پہنچادے ‘ یا کسی مردہ کی طرف سے قربانی کرکے اس کا ثواب اس کو دینا چاہیے کیونکہ یہ ذبح غیر اللہ کے لیے ہرگز نہیں (حاشیہ بر قرآن ص ٣٢‘ مطبوعہ سعودی عربیہ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 173