حدیث نمبر :75

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ شیطان مجھ میں اور میری نماز اور تلاوت میں حائل ہوگیا نماز مشتبہ کردی ۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے ۳؎ جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اس سے اﷲ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار دھتکار دو۴؎ میں نے یہ ہی کیا تو اﷲ نے اسے دفع فرمادیا ۵؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ بنی ثقیف کے ہیں،آپ کی والدہ حضور کی پیدائش کے وقت آمنہ خاتون کے پاس تھیں،حضور نے آپ کو طائف کا حاکم بنایا۔چنانچہ آپ عہد فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرحضرت فاروق اعظم نے اپنی خلافت کے تیسرے سال وہاں کی حکومت معزول کرکے عمّان اور بحرین کا حاکم بنایا، ۱۰ ھ؁ہجری میں جب وفد بنی ثقیف حضور کی خدمت میں ایمان لانے کے لیئے حاضرہوا تو اس میں آپ بھی تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۹ سال تھی،آخری عمر میں بصرہ قیام گاہ رہا، ۵۱ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔۷۰سال عمرشریف ہوئی،حضور کی وفات کے بعد جب بنی ثقیف مرتد ہونے لگے تو آپ نے فرمایا:اےقوم!تم آخری مؤمنین ہو،اب اولین مرتدین کیوں بنتے ہو؟

۲؎ اس طرح کہ نہ مجھے پڑھی ہوئی رکعتیں یاد رہیں اور نہ یہ کہ رکعت اوّل میں کیا پڑھا تھا۔معلوم ہوا کہ نماز میں وسوسے بزرگوں کو بھی ہوجاتے ہیں۔

۳؎ خنزب خ کے کسرہ یا فتح سے اور ز کے فتح سے بمعنے سڑا ہوا گوشت یا دائمی جرم۔(قاموس) یہ شیطان کی اُس ذریت کا نام ہے جو نمازیوں پر نماز مشتبہ کرتی ہے۔

۴؎ نماز شروع کرتے وقت تکبیر تحریمہ سے قبل تجربہ ہے کہ جو تحریمہ سے پہلے اس طرح تھتکار کر لاحول شریف پڑھ لے پھر تحریمہ کرے دورانِ نماز میں نگاہ کی حفاظت کرے کہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پشتِ قدم،سجدہ میں ناک کے بانسے،جلسہ اورقعدہ میں گود میں رکھے تو ان شاءاﷲ نماز میں حضور نصیب ہوگا۔

۵؎ یعنی یہ حدیث میری مجرب بھی ہے،محدثین کے نزدیک تجربہ کی تائید سے حدیث قوی ہوجاتی ہے۔دیکھو ہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم۔