حدیث نمبر 73

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں فرمایا لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے حتی کہ یہ کہا جاوے گا کہ مخلوق کو خدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا ۱؎ جب یہ کہیں تو تم کہہ دینا اﷲ ایک ہے،بے نیاز ہے،نہ جنا،نہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کے برابر کا ۲؎ ہےپھر اپنے بائیں طرف تین بار تھتکار دے۔اور مردود شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگے ۳؎ یہ ابوداؤدنے روایت کی ہم عمرو ابن احوص کی حدیث ان شاءاﷲ تعالٰی بقرعید کے خطبہ کے باب میں ذکرکریں گے۔

شرح

۱؎ یعنی ہر موجود کا کوئی موجد چاہیئے اور اﷲ بھی موجود ہے لہذا اس کا موجدبھی ہونا چاہیئے۔یہ شیطانی وسوسہ ہے۔خیال رہے کہ شیطان عالموں کے دل میں عالمانہ وسوسے،اور صوفیوں کے دل میں عاشقانہ وسوسے،عوام کے دل میں عامیانہ وسوسے ڈالتا ہے۔”جیسا شکار ویسا جال”بہت دفعہ انسان گناہ کو عبادت سمجھ لیتا ہے۔

۲؎ سبحان اﷲ! کتنے نفیس منطقی دلائل ہیں اولاد کے لیئے۳شرطیں:ہیں ایک یہ کہ صاحبِ اولاد میں دوئی ہوسکے۔کیونکہ اولاد باپ کے ساتھ جنسًا ایک،اور شخصًا دوسری ہوتی ہے۔رب تعالٰی جنسیت اور شخصیت وغیرہ سے پاک ہے اَحد میں ادھر اشارہ ہے۔دوسرے صاحبِ اولاد اولاد کا حاجت مند ہوتا ہے،اپنی وراثت یا زور بازو کے لیئے اولاد چاہتا ہے۔پروردگار بے نیاز،سے صَمَد ہیں یہ فرمایا گیا۔تیسرے یہ کہ ہرممکن موجود موجد کا حاجت مند ہے پروردگار واجب ہے،نیز بیٹا باپ کی مثل ہونا چاہیئے ربّ کی مثل کوئی نہیں۔”لَم یلد”الخ میں اس طرف اشارہ ہے۔

۳؎ یہ تھوک شیطان کے منہ پر پڑے گا جس سے وہ ذلیل ہو کر بھا گے گا کیونکہ شیطان اکثر بائیں طرف سے آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کبھی تُھوک سے بھی شیطان بھاگتا ہے۔بعض صوفیاء دم کر کے تھتکاربھی دیتے ہیں،اُنکی دلیل یہ حدیث ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :74

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ پوچھتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہہ بیٹھیں گے کہ اﷲ نے ہرچیز پیدا کی تو اﷲکو کس نے پیدا کیا یہ بخاری کی روایت ہے اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے فرمای کہ یقینًاتمہاری امت ۱؎ کہتی رہے گی یہ کیسا یہ کیسا ۲؎ یہاں تک کہ یہ کہہ دیں گے کہ اﷲ نے مخلوق پیدا کی اﷲ کو کس نے پیدا کیا

شرح

۱؎ یعنی امتِ دعوت دہریے کفّار وغیرہ نہ کہ امت اجابت مؤمن ین۔یا کہنے سے مراد دلی وسوسہ ہے،تو امت اجابت بھی داخل ہے۔

۲؎ یعنی ہر حکم کی وجہ،ہر چیز کی کُنہہ پوچھیں گے۔قیل قال زیادہ حال سے خالی۔خیال رہے کہ ہمارے پاس ” کیوں”ہے ان کے پاس کیا تھا۔