بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡـًٔـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا ‘ خواہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ (البقرہ : ١٧٠)

مشرکین سے جب کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا ‘ ان کا کھانا جائز ہے ‘ سو ان کو ذبح کرکے کھاؤ اور ان سے نفع اٹھاؤ تو وہ کہتے کہ ہم اپنے باپ دادا سے یہی سنتے چلے آتے ہیں کہ ان جانوروں کا کھانا حرام ہے ‘ ہم ان ہی کی پیروی کریں گے خواہ ان کے باپ دادا بےعلم اور بےہدایت ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر اور معصیت میں آباء و اجداد کی تقلید کرنا باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تقلید کی مذمت کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جن کی تقلید کی جارہی تھی وہ بےعلم اور بےہدایت تھے۔

تقلید کی تعریف :

مسائل فرعیہ فقہیہ میں تقلید کرنا جائز ہے ‘ تقلید کی تعریف ہے : کسی شخص کے قول کو بلادلیل قبول کرنا ‘ کیونکہ عام آدمی میں اتنی اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ کتاب اور سنت سے مسائل استنباط کرسکے ‘ اس لیے وہ ہر پیش آمدہ مسئلہ میں علماء سے رجوع کرے گا اور علماء اس کو اللہ اور رسول کا جو حکم بتائیں گے وہ اس پر عمل کرے گا ‘ اسی طرح تمام علماء بھی تمام احکام شرعیہ کو براہ راست کتاب ‘ سنت ‘ آثار صحابہ ‘ اجماع اور قیاس سے نہیں نکال سکتے اور وہ اس معاملہ میں کسی فقیہ اور مجتہد کے استنباط کردہ مسائل پر اعتماد کرتے ہیں جس کی فقہ اور جس کے اجتہاد پر انہیں وثوق ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل : ٤٣)

ترجمہ : اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے سوال کرو “۔۔

امت کا اس پر اجماع ہے کہ عقائد میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے ‘ ہر شخص پر فرض ہے کہ وہ کتاب اور سنت اور عقل سے غور وفکر کر کے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے واحد ہونے کا علم حاصل کرے اور دلیل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو حق جانے اور مانے۔ ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث میں ہم نے تقلید اور اجتہاد پر بہت تفصیل سے بحث کی ہے ‘ اس موضوع پر بصیرت حاصل کرنے کے لیے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 170