بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ کَفَرُوۡا كَمَثَلِ الَّذِىۡ يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡـىٌ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ

اور کافروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ایسے شخص کو پکارے جو بلانے اور آواز دینے کے سوا اور کچھ نہ سنتاہو ‘ یہ بہرے گونگے ‘ اندھے ہیں تو یہ کچھ نہیں سمجھتے

” نعق “ کا معنی :

” نعق “ کا معنی ہے : چرواہے کا اپنی بکریوں کو ڈانٹنا اور للکارنا۔

اس آیت میں جو مثال دی گئی ہے ‘ اس کی حسب ذیل تفسیر کی گئی ہیں :

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کو دین اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور وہ اس دعوت پر کان نہیں دھرتے اور لبیک نہیں کہتے ‘ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی مویشیوں کو چرانے والا اپنی بکریوں اور اونٹوں کو آوازیں دے کر بلا رہا ہو اور وہ جانور اس کی صرف آواز سن رہے ہوں اور ان کو پتا نہ چل سکے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ عکرمہ سدی ‘ زجاج ‘ فراء اور سیبویہ وغیرہ سے یہ تفسیر منقول ہے۔

(٢) کفار اپنے باطل معبودوں کو جو پکارتے ہیں اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی آدھی رات کو چلا رہا ہو اور اس کی آواز گونج رہی ہو۔

(٣) کفار اپنے بتوں کو جو پکارتے ہیں اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی چرواہا اپنے گم شدہ مویشیوں کو پکار رہاہو اور اس کو پتا نہ ہو کہ وہ مویشی کہاں ہیں۔ ” صم بکم عمی “ کی تفسیر البقرہ : ١٨ میں گزر چکی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 171