بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓاَ يُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ

اے ایمان والو ! ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں ‘ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں ‘ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ (البقرہ : ١٧٢)

حرام کھانے کا وبال :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا ‘ سو فرمایا : اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو ‘ میں تمہارے کاموں سے باخبر ہوں ‘ اور فرمایا : اے مسلمانو ! ہماری دہی ہوئی چیزوں سے پاک چیزیں کھاؤ ‘ پھر آپ نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے ‘ اس کے بال غبار آلود ہیں ‘ وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے : یا رب ! یا رب ! اس کا کھانا پینا حرام ہو ‘ اس کا لباس حرام ہو ‘ اس کی غذا حرام ہو ‘ اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی ! (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٢٦“ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٢١١۔ ٢١٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

شکر کا معنی البقرہ : ١٥٢ کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 172