بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓٮِٕكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

بیشک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے کتاب میں نازل کیا ہے ‘ اور اس کے بدلے میں تھوڑا سا معاوضہ لیتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کرے گا ‘ اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا ‘ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

تورات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف کو چھپانے کا گناہ ہونا :

اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے ان کو کھانا ‘ اور پاک اور صاف چیزوں کو نہ کھانا جس طرح گمراہی اور گناہ ہے ‘ اسی طرح تورات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جو اوصاف بیان کیے ہیں ان کو چھپانا اور ان کے عوض دنیا کا قلیل مال حاصل کرنا گمراہی اور گناہ ہے۔ جس چیز سے بعینہ فائدہ حاصل نہ کیا جاسکے بلکہ اس کو خرچ کرکے کوئی فائدہ کی چیز حاصل کی جاسکے اس کو ثمن کہتے ہیں ‘ علماء یہود تورات کی آیات کو چھپا کر جو دنیا فوائد اور نذرانے حاصل کرتے تھے اس کو ثمن قلیل اس لیے فرمایا کہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی مدت قلیل ہے اور دنیا کی متاع بجائے خود قلیل ہے۔ یہ فرمایا کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں ‘ تاکہ کھانے کا معنی مؤکد ہوجائے اور یہ وہم نہ ہو کہ یہاں آگ کھانا مجاز ہے ‘ اس آیت کی تفصیل البقرہ : ٤١ میں گزر چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کلام نہ کرنے اور نظر نہ فرمانے کی توجیہ :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرتے گا ‘ نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا ‘ نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو تین بار پڑھا ‘ حضرت ابوذر نے کہا : یہ لوگ نقصان اٹھانے والے اور نامراد ہیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : (تکبر سے) چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا ‘ احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے والا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ‘ نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا ‘ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ‘ بوڑھا زانی ‘ جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور روایت میں ہے : جو شخص جنگل میں مسافر کو فالتو پانی دینے سے (بھی) منع کرے ‘ جو شخص عصر کے بعد کسی کو جھوٹی قسم کھا کر سودا فروخت کرے اور یہ کہے کہ خدا کی قسم ! اس نے وہ چیز اتنے کی لی تھی حالانکہ اس طرح نہ ہو ‘ اور وہ شخص اس کو سچا سمجھے ‘ اور جو شخص کسی امام سے مال دنیا کی خاطر بیعت کرے اگر وہ اس کو مال دے تو وہ اس سے وفا کرے اور مال نہ دے تو اس سے وفا نہ کرے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٧١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس وعید کے متعلق امام مسلم نے تین مختلف روایت کی ہیں ‘ ہر حدیث میں تین مختلف شخصوں کا بیان ہے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ یہ نو ایسے گناہ ہیں جن کی وجہ سے قیامت کے دن انسان اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے محروم ہوگا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس امت میں ان کبائر میں مبتلا رہیں گے اور بغیر توبہ کے مرجائیں گے ‘ اور قرآن مجید میں اس عذاب کا مصداق ان یہودیوں کو قرار دیا ہے جو تورات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آیات کو چھپاتے تھے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 174