بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَـقِّؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِى الۡكِتٰبِ لَفِىۡ شِقَاقٍۢ بَعِيۡدٍ

یہ (مخالفت) اس لیے ہے کہ اللہ نے حق کے ساتھ کتاب نازل کی ‘ اور بیشک جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ بہت زیادہ مخالفت میں ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ بہت زیادہ مخالفت میں ہیں۔۔ (البقرہ : ١٧٦)

ایک قول یہ ہے کہ اختلاف کرنے والے یہودی تھے ‘ نصاری یہ کہتے ہیں تھے کہ تورات میں حضرت عیسیٰ کی صفت ہے اور یہود اس کی مخالفت کرتے تھے ‘ یا تورات میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات تھیں یہود ان کی مخالفت کرتے تھے ‘ یا یہودی قرآن مجید کے احکام کی مخالفت کرتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اختلاف کرنے والے مشرکین تھے ‘ بعض کہتے تھے کہ یہ قرآن سحر ہے ‘ بعض کہتے تھے کہ یہ ” اساطیرالاولین “ ہے یعنی پچھلے لوگوں کے قصے اور بعض کہتے تھے کہ اس میں اللہ پر افتراء ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 176