حدیث نمبر:83

روایت ہے حضرت علی ۱؎ سے فرماتے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جس کا ایک ٹھکانہ دوزخ میں۲؎ اور ایک ٹھکانہ جنت میں نہ لکھاجاچکا ہو لوگوں نےعرض کیا یارسول اﷲ ہم اپنی تحریر پر بھروسہ کیوں نہ کرلیں اور عمل چھوڑدیں ۳؎ فرمایا عمل کیئے جاؤ ہر ایک کو وہی اعمال آسان ہوں گے جس کے لیئے پیدا ہو۴؎ اگر خوش نصیبوں سے ہے تو اسے خوش نصیبی کے اعمال آسان ہوں گے اور اگر بدنصیبوں سے ہے تو اسے بدنصیبی کے اعمال میسر ہوں گے ۵؎ پھرحضور نے یہ آیت تلاوت کی لیکن جو خیرات کرے اور پرہیزگاراور ایماندار ہو الایہ ۶؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام شریف علی ابن ابی طالب،کنیت ابوالحسن اور ابو تراب،لقب حیدر کرّار ہے،قرشی ہیں،ہاشمی ہیں،مطلبی ہیں،اسلام کے خلیفہ چہارم ہیں اور بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کہ آٹھ یا دس سال کی عمر میں ایمان لائے۔حضور کے ساتھ سواء غزوۂ تبوک کے باقی تمام غزووں میں شریک رہے،آپ کے فضائل حدّو شمار سے زیادہ ہیں،آپ ہی نسل جناب مصطفے کی اصل ہیں،اخی الرسول،زوج بتول ہیں،یعنی آپ کا ایک ہاتھ چار یار میں ہے،دوسرا پنجتن پاک میں شاہ خیبر شکن ہیں شعر؂

شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن پرتودستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

آپ ۱۸؁ ذی الحجہ ۳۵ھ؁ بروز جمعہ یعنی عین شہادت عثمان کے دن خلیفہ ہوئے،چار سال نو مہینہ خلافت کی اور ۶۳ سال کی عمر پاکر ۱۷ رمضان ۴۰ ھ؁ جمعہ کے دن کوفہ کی جامع مسجد میں شہید کیئے گئے۔عبدالرحمن ابن مُلجم مرادی نے ایک عورت قطام کے عشق میں مبتلا ہو کر اسی کے کہنے پر شہید کیا۔شہادت سے تیسرے دن وفات پائی،امام حسن و حسین و عبداﷲ ابن جعفر نے آپ کو غسل دیا،امام حسن نے نماز پڑھائی،کوفہ کے قبرستان نجف میں دفن ہوئے،قبر انور زیارت گاہِ خلق ہے فقیر نے بھی زیارت کی ہے۔آپ کی نو بیویاں ہوئیں:(۱)فاطمہ زہرا،(۲)ام بنین،(۳)لیلی بنت مسعود،(۴)اسماء بنت عمیص،(۵)امامہ بنت ابی العاص،(۶)خولہ بن جعفر،(۷)صہبا بنت ربیعہ،(۸)اُم سعید بنت عروہ،(۹)محیاء بنت امرؤ القیس ان بیویوں سے۱۲ بیٹے اور نولڑکیاں ہوئیں۔جن میں سے حسن،حسین،زینب،اُم کلثوم حضرت فاطمہ زہرا سے ہیں۔

۲؎ یہاں”و”بمعنی”اَوْ”ہے یعنی لوح محفوظ میں ہرشخص کے متعلق پہلے ہی لکھا جاچکا ہے کہ جنتی ہی،یا دوزخی،جنتی ہے تو کسی درجہ کا،اور دوزخی ہے توکسی طبقہ کا،یہاں یہی مرادہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔

۳؎ کیونکہ ہوگا وہی جو لکھا جاچکا عمل خواہ کیسے ہی کرے فیصلہ الٰہی نہیں بدلتا۔

۴؎ یعنی دنیا میں اعمال عمومًا انجام کی علامتیں ہیں۔جنّتی کو نیکیاں آسان اور گناہ بھاری معلوم ہوتے ہیں۔دوزخی کو اس کا اُلٹا،مگر یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلّیہ نہیں،کبھی عمر بھر کا مجرم جنتی ہوکرمرتا ہے اور کبھی اس کے برعکس بھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیثِ سہل ابن سعد کے خلاف نہیں۔

۵؎ یعنی لوح محفوظ میں کام اور انجام دونوں لکھے جاچکے ہیں کہ فلاں نیکیاں کرے گا اور جنت میں جائے گا اور فلاں کفر وغیرہ کرے گا لہذاجہنمی ہوگا۔بندوں پر رب تعالٰی کی اطاعت فرض ہے،نیز کوئی شخص دوزخی اور جنتی ہونے پر مجبور نہیں۔

۶؎ یہ آیت اگرچہ ابوبکر صدیق کے ایمان اور سخاوت کے متعلق نازل ہوئی لیکن چونکہ عبارت عام ہے اس لئے ہر جگہ منطبق ہوسکتی ہے۔