حدیث نمبر :80

روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں کہ سچے مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ۱؎ کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ رہتاہے پھراسی قدرخون کی پھٹک پھر اسی قدر لوتھڑا ۲؎ پھر اﷲ تعالٰی ایک فرشتہ چار باتیں بتا کر بھیجتاہے۳؎ تو وہ فرشتہ اس کے کام اس کی موت اس کا رزق اور بدبخت ہے نیک بخت ہے سب کچھ لکھ لیتا ہے۴؎ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں کہ تم میں بعض جنتیوں کے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں صرف ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے ۵؎ کہ اچانک نوشتہ تقدیر اس کے سامنے آتا ہے اور دوزخیوں کے کام کرلیتا ہے ۶؎ پھر وہاں ہی پہنچتاہے اورتم میں بعض دوزخیوں کے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں صرف ایک ہاتھ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ سامنے آتا ہے اور جنتیوں کے کام کرتا ہے پھر اس میں داخل ہوجاتا ہے ۷؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ صادق وہ جس کے سارے اقوال سچے ہوں،مصدوق وہ جس کے سارے اعمال سچے ہوں یا صادق وہ جوہوش سنبھال کر سچ بولے،اور مصدوق وہ جو پہلے ہی سے سچا ہو،یا صادق وہ جو واقع کے مطابق خبردے اور مصدوق وہ کہ جو وہ اپنی زبان مبارک سے کہہ دے واقعہ اُس کے مطابق ہوجائے حضور میں یہ سارے اوصاف جمع ہیں۔

۲؎ یعنی ماں کے رحم میں منی چالیس دن تک اسی حالت میں سفید رنگ کی رہتی ہے،پھر سُرخ رنگ کا خون بن جاتی ہے،پھر چالیس روز کے بعد جم کر گوشت۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں:چونکہ آدم علیہ السلام کا خمیر چالیس سال اورموسیٰ علیہ السلام کا قیام طور پر چالیس دن رہا،اس لیئے نطفہ پر ہرچلہ کے بعد انقلاب آتا ہے،پھر بعد پیدائش نفاس کی مدت چالیس دن ہے،کمال عقل چالیس سال میں ہوتا ہے۔یہ حدیث صوفیاء کے چلوں کی دلیل ہے۔اہلِ سنت میّت کا چالیسواں اسی بنا پرکرتے ہیں کہ چالیس میں انقلاب ہے۔

۳؎ یعنی کاتبِ تقدیر فرشتہ جو رحموں پرمعین ہے ایک ہی فرشتہ جو سارے عالم کی حاملہ عورتوں کا نگران ہے۔معلوم ہوا کہ وہ حاضروناظرہے۔

۴؎ کہ یہ کیا کرے گا،کب اور کہاں مرے گا،کیا کیا کھائے گا اور کیا پیئے گا،اس کا خاتمہ کفر پر ہوگا،یا ایمان پر۔ خیال رہے کہ یہ چیزیں وہ علوم خمسہ ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا”وَعِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ”یہ فرشتہ بتعلیم الٰہی سارے انسانوں کی یہ ساری چیزیں جانتا ہے۔مرقاۃ میں ہے کہ یہ باتیں ایک تختی پرلکھ کر بچے کے گلے میں ڈال دیتا ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَکُلَّ اِنۡسٰنٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ”غور کرو جب اُس فرشتے کا اس قدر علم ہے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلم الخلق ہیں ان کا علم تو ہمارے خیالات سے ورا ہے اور یہ تختی پر لکھنا اور گلے میں ڈالنا اسی لیئے ہے کہ حقیقت میں نگاہیں اسے پڑھ سکیں۔خیال رہے کہ تحریر لوح محفوظ میں بھی ہوتی ہے اور شب قدر میں فرشتوں کے صحائف میں بھی ہے اور بچے کی پیشانی یا گلے کی تختی یا ہاتھ میں بھی ہے مگر یہ تحریر مختلف ہیں۔

۵؎ یعنی صرف موت کا کہ مرے اور وہاں پہنچ جائے ایک ہاتھ تشبیہ کے لیئے فرمایا۔

۶؎ یعنی کافر بن جاتا ہے اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ رب بدعملی کے بغیر کسی کو دوزخ میں نہیں بھیجتا لہذا ظاہر یہ ہے کہ کفّار کے بچے جہنمی نہیں۔واﷲ اعلم!

۷؎ یعنی ایمان لاکر متقی بن کے مرتا ہے لہذا کوئی بدکار رب تعالٰی سے مایوس نہ ہو اور کوئی نیک کار اپنے تقویٰ پرفخر نہ کرے،اﷲ تعالٰی حسن خاتمہ نصیب کرے۔خیال رہے کہ جنت کسبًا،عطاءً اور وہبًا ملے گی یہاں کسی جنت کا ذکر ہے ورنہ مسلمان کے بچے جنتی ہیں،رب فرماتاہے:”اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ “۔