بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى  ؕ الۡحُرُّ بِالۡحُـرِّ وَالۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَالۡاُنۡثَىٰ بِالۡاُنۡثٰىؕ فَمَنۡ عُفِىَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَىۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَاَدَآءٌ اِلَيۡهِ بِاِحۡسَانٍؕ ذٰلِكَ تَخۡفِيۡفٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَرَحۡمَةٌ  ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۚ

اے ایمان والو ! تم پر مقتولین کے خون (ناحق) کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے ‘ آزاد کے بدلہ آزاد ‘ غلام کے بدلہ غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت ‘ سو جس (قاتل) کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو (اس کا) دستور کے مطابق مطالبہ کیا جائے اور نیکی کے ساتھ اس کی ادائیگی کی جائے یہ (حکم) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ‘ پھر اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے

اس سے پہلے عبادات اور معاملات کے متعلق احکام بیان کیے گئے تھے اب فوجداری معاملات سے متعلق احکام شرعیہ بیان کیے جا رہے ہیں۔

آیت مذکورہ کا شان نزول :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

زمانہ جاہلیت میں جب دو قبیلے آپس میں لڑتے ‘ ایک معزز قبیلہ ہوتا اور دوسرا پسماندہ اور پسماندہ قبیلہ کا غلام معزز قبیلہ کے غلام کو قتل کردیتا تو معزز قبیلہ کہتا تھا کہ ہم اپنے غلام کے بدلہ میں پسماندہ قبیلہ کے آزاد شخص کو قتل کریں گے ‘ اسی طرح اگر پسماندہ قبیلہ کی کوئی عورت معزز قبیلہ کی کسی عورت کو قتل کردیتی تو معزز قبیلہ کہتا تھا کہ ہم اپنی عورت کے بدلہ میں پسماندہ قبیلہ کے مرد کو قتل کریں گے تو ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس تکبر اور بغاوت سے منع کیا اور فرمایا : آزاد کے بدلہ میں آزاد کو ‘ غلام کے بدلہ میں غلام کو اور عورت کے بدلہ میں عورت کو قتل کیا جائے گا ‘ اور سورة مائدہ میں فرمایا : جان کا بدلہ جان ہے ‘ آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے ‘ ناک کا بدلہ ناک ہے ‘ کان کا بدلہ کان ہے ‘ دانت کا بدلہ دانت اور ہر زخم کے بدلہ میں زخم ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٦١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

غلام اور ذمی کے خون کا قصاص نہ لینے کے حق میں ائمہ ثلاثہ کے دلائل :

امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک مسلمان کو کافر کے بدلہ میں اور آزاد کو غلام کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٤٦ المغنی ج ٨ ص ٢٤١ )

قاضی بیضاوی شافعی لکھتے ہیں :

امام مالک اور امام شافعی (رح) نے آزاد شخص کو غلام کے بدلہ میں قتل کرنے سے منع کیا ہے خواہ وہ غلام اس قاتل کا ہو یا اس کے غیر کا ‘ کیونکہ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام کو قتل کردیا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو کوڑے مارے ‘ اس کو ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا ‘ اور اس سے اس کے غلام کا قصاص نہیں لیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٣٠٤) نیز حضرت علی نے فرمایا : سنت یہ ہے کہ مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے اور نہ آزاد کو غلام کے بدلہ میں قتل کیا جائے (سنن کبری ج ٨ ص ٣٤‘ مطبوعہ ملتان) اور اس لیے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) محضر صحابہ میں آزاد کو غلام کے بدلہ میں قتل نہیں کرتے تھے ‘ اس پر کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩ ص ٣٠٥) نیز اس پر اتفاق ہے کہ غلام کے اعضاء کے بدلہ میں آزاد کے اعضاء نہیں کاٹے جاتے ‘ اور قرآن مجید میں جو ہے : ” النفس بالنفس “ جان کا بدلہ جان ہے “ خواہ غلام کی جان ہو یا آزاد کی ہو ‘ اس سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا ‘ کیونکہ یہ تورات کا حکم ہے اور تورات کا حکم قرآن کے اس حکم کے لیے ناسخ نہیں ہوسکتا کہ آزاد کو آزاد کے بدلہ میں قتل کیا جائے۔ (انوار التنزیل ص ٣٧۔ ٣٦ مطبوعہ دارفراس للنشر والتوزیع ‘ بیروت)

اس آیت میں مفہوم مخالف سے استدلال نہیں نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ شروع میں قاضی بیضاوی نے بھی اعتراف کیا ہے ‘ پھر قاضی بیضاوی کا اپنے مذہب کو قرآن کا حکم قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

ائمہ ثلاثہ کے مؤقف پر یہ حدیث بھی دلیل ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوجحیفہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے پوچھا : اس صحیفہ میں کیا مرقوم ہے ؟ فرمایا دیت اور قیدی کو چھڑانے کے احکام ہیں اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

غلام اور ذمی کے قصاص کے متعلق امام ابوحنفیہ کا مذہب :

علامہ عبداللہ بن محمود موصلی لکھتے ہیں :

آزاد کو آزاد اور غلام کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا ‘ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا ‘ چھوٹے کو بڑے کے بدلہ میں اور مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور مسلمان اور ذمی کو مستامن کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا اور مستامن کو مستامن کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور صحیح الاعضاء کو اپاہج ‘ اندھے ‘ مجنون اور ناقص الاعضاء کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا اور کسی شخص کو اس کے بیٹے ‘ اس کے غلام اس کے بیٹے کے غلام ‘ اور اس کے مکاتب کے بدلہ میں نہیں قتل کیا جائے گا (الاختیار ج ٤ ص ٢٧۔ ٢٦۔ مطبوعہ دارفراس للنشر والتوزیع ‘ مصر)

آزاد سے غلام کا قصاص لینے کے ثبوت میں قرآن اور سنت سے دلائل :

ائمہ ثلاثہ نے امام ابوحنیفہ سے دو صورتوں میں اختلاف کیا ہے ‘ پہلا اختلاف یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک غلام کے بدلہ میں آزاد کو قتل کرنا جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جائز ہے امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی “۔ (البقرہ : ١٧٨)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم پر مقتولین کے خون (ناحق) کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے :

اس آیت میں مقتول کا لفظ عام ہے ‘ یہ ہر مقتول کو شامل ہے ‘ خواہ آزاد ہو یا غلام ‘ مسلمان ہو یا ذمی ‘ اس کا بدلہ اس کے قتل کرنے والے سے لیا جائے گا ‘ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ‘ لہذا اگر آزاد شخص نے کسی کے غلام کو قتل کردیا تو اس غلام کا قصاص اس آزاد سے لیا جائے گا۔ دوسری دلیل یہ ہے :

(آیت) ” ان النفس بالنفس “۔ (المائدہ : ٤٥)

ترجمہ : بیشک جان کا بدلہ جان ہے۔

اس آیت میں بھی مطلقا فرمایا ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آزاد یا غلام کا فرق نہیں کیا گیا اور اس پر علامہ بیضاوی کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید نے یہ تورات کا حکم بیان کیا ہے ‘ یہ اعتراض اس وقت صحیح ہوتا جب اللہ تعالیٰ نے اس حکم کا رد کیا ہوتا ‘ اور سابقہ شریعتوں کے جو احکام قرآن اور سنت میں بلا نکیر بیان کیے گئے ہیں وہ ہم پر حجت ہیں۔

اس آیت کے ہمارے حق میں حجت ہونے پر دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان شخص اس کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کا خون صرف تین وجہوں میں سے کسی ایک وجہ سے بہانا جائز ہے : جان کا بدلہ جان ‘ شادی شدہ زانی اور دین سے مرتد ہونے والا اور جماعت کو ترک کرنے والا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠١٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٥٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مطلقا فرمایا : جان کا بدلہ جان ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ سورة مائدہ کی مذکور الصدر آیت ہمارے لیے بیان کی گئی ہے اور وہ تورات کے ساتھ خاص نہیں ہے ‘ نیز ہماری دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے

(آیت) ” ولکم فی القصاص حیوۃ، (البقرہ : ١٧٩)

ترجمہ : اور قصاص کے حکم میں تمہارے لیے زندگی ہے۔

اس آیت میں برسبیل عموم فرمایا ہے کہ قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اور اس کو آزاد یا غلام کے ساتھ خاص نہیں کیا ‘ قصاص کی وجہ سے مسلمان کسی کو قتل کرنے سے باز رہیں گے ‘ آزاد غلام کو قتل کرے گا نہ غلام آزاد کو۔

امام ابوحنیفہ (رح) کے مؤقف کے ثبوت پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے ‘ حافظ الہیثمی بیان کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے ‘ اس سے خیانت کرے نہ اس کو ذلیل کرے ‘ ان کا خون ایک دوسرے (کے کفو) کی مثل ہے ‘ الحدیث۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کا نام قاسم بن ابی الزناد لکھا ہے حالانکہ اس کا نام ابوالقاسم بن ابی الزناد ہے ‘ اس کے علاوہ حافظ الہیثمی نے اس حدیث پر اور کوئی جرح نہیں کی۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ٢٨٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

آزاد سے غلام کا قصاص نہ لینے کے متعلق ائمہ ثلاثہ کے دلائل کا جواب :

قاضی بیضاوی نے ائمہ ثلاثہ کے موقف پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو قتل کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو کوڑے مارے اور اس سے قصاص نہیں لیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٩ ص ٣٠٤) اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث امام ابوحنیفہ (رح) کے مؤقف کے خلاف نہیں ہے کیونکہ امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو قتل کردے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اختلاف اس صورت میں ہے جب کوئی آزاد شخص کسی دوسرے شخص کے غلام کو قتل کر دے۔

دوسری حدیث میں جس سے قاضی بیضاوی نے استدلال کیا ہے اس کو امام بیہقی نے ” سنن کبری “ میں از جابر از عامر حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ سنت یہ ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلہ میں نہ قتل کیا جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام بیہقی (رح) نے خود ” کتاب المعرفۃ “ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں جابر جعفی متفرد ہے اور اس کے معارض حضرت علی (رض) سے دو روایتیں ذکر کی ہیں کہ جب آزاد غلام کو قتل کردے تو اس میں قصاص ہے ہرچند کہ ان روایتوں کو بھی انہوں نے منقطع لکھا ہے۔ (معرفتہ السنن والآثار ج ٩٨ ص ١٥٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

قاضی بیضاوی نے تیسری دلیل یہ قائم کی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) غلام کے بدلہ میں آزاد کو قتل نہیں کرتے تھے اور اس پر کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہے جب کوئی آزاد شخص اپنے غلام کو قتل کردے کیونکہ اسی صورت میں قصاص نہ لینے پر اتفاق ہے ‘ حافظ الہیثمی نے امام طبرانی کی ” معجم اوسط “ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص سے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ نہ سنا ہوتا کہ مملوک کا قصاص مالک سے نہیں لیا جائے گا اور نہ بیٹے کا باپ سے تو میں تم سے قصاص لیتا۔ (مجمع الزوائد ج ٦ ص ‘ ٢٨٨ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

نیز متعدد صحابہ اور تابعین کا یہ مؤقف ہے کہ اگر آزاد کسی کے غلام کو قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا کہ جب آزاد غلام کو قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔

ابراہیم نے کہا کہ آزاد کو غلام کے بدلہ میں اور غلام کو آزاد کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔

سعید بن المسیب نے کہا کہ اگر آزاد غلام کو قتل کردے تو اس کو قتل کیا جائے گا ‘ پھر کہا : بہ خدا ! اگر تمام یمن والے مل کر ایک غلام کو قتل کریں تو میں ان سب کو قتل کر دوں گا۔

شعبی نے کہا : آزاد کو غلام کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔

سفیان نے کہا : اگر کوئی شخص دوسرے کے غلام کو قتل کر دے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر اپنے غلام کو قتل کرے تو پھر اس کو قتل نہیں کیا جائے گا جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کو قتل کردے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (المصنف ج ٩ ص ٣٠٧۔ ٣٠٦ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

ان روایات سے قطع نظر امام اعظم ابوحنفیہ (رح) کا مذہب قرآن مجید کی صریح آیات پر مبنی ہے اور امام اعظم کے مذہب میں انسانیت کی تکریم ہے کیونکہ آپ نے آزاد اور غلام مسلمانوں کے خون میں کوئی فرق نہیں کیا۔

مسلمان سے ذمی کا قصاص لینے کے متعلق قرآن اور سنت سے دلائل :

مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل نہ کیے جانے کے متعلق ائمہ ثلاثہ کی طرف سے ” صحیح بخاری “ کی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ‘ امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف سے اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث کافر حربی پر محمول ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل سورة بقرہ کی یہ آیت ہے : ایمان والو ! تم پر قتل (مقتول) میں قصاص فرض کیا گیا ہے ‘ مقتول کا لفظ عام ہے مسلمان اور ذمی دونوں کو شامل ہے ‘ اور حربی کافر ‘ قرآن مجید کی ان آیتوں سے مستثنی ہے جن میں کفار اور مشرکین کو قتل کرنے حکم دیا گیا ہے ‘ اسی طرح سورة مائدہ میں ہے : جان کا بدلہ جان ہے اور ” صحیح بخاری “ اور صحیح مسلم “ میں یہ حدیث ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے۔

نیز امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

عبدالرحمان سلیمانی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مسلمان شخص کو لایا گیا جس نے ایک ذمی شخص کو قتل کردیا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی گردن ماری دی اور فرمایا : میں ذمی کا ذمہ پورا کرنے کا زیادہ حق دار ہو۔

عبداللہ بن عبدالعزیز بن صالح حضرمی بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو قتل کردیا جس نے ایک کافر کو دھوکے سے قتل کردیا تھا اور فرمایا : میں اس کا ذمہ پورا کرنے کا زیادہ حق دار ہوں۔ (مراسیل ابوداؤد ص ١٢‘ مطبوعہ ولی محمد اینڈ سنز ‘ کراچی)

امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ (سنن کبری ج ٨ ص ٣٠‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

نیز امام بیہقی روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص نے ایک ذمی کو عمدا قتل کردیا ‘ یہ مقدمہ حضرت عثمان (رض) کے پاس پیش کیا گیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس کو قتل نہیں کیا اور اس پر بھاری دیت مقرر کی جیسے مسلمان کے قتل ناحق پر مقرر کی جاتی ہے۔

امام بیہقی نے کہا : یہ حدیث متصل ہے۔ (سنن کبری ج ٨ ص ٣٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

یہ حدیث بھی امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل ہے کیونکہ دیت قصاص کی فرع ہے ‘ فریقین میں صلح یا کسی اور وجہ سے قصاص کی جگہ دیت فرض کی گئی۔ انسانیت کی تکریم اور عدل و انصاف کے قریب امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے کہ جب ذمی سے اس کی جان اور مال کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا اور اس سے اس کی جان اور مال کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا اور اس سے اس کے بدلہ میں جزیہ لیا گیا تو اس کا یہی تقاضا ہے کہ اگر ذمی کو مسلمان بھی قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جائے ‘ اس سے اسلام میں اخلاق کی بلندی ‘ اصول کی برتری اور تکریم انسانیت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

متعدد لوگوں کی جماعت سے ایک شخص کے قصاص لینے کا بیان :

ظاہریہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر چند آدمیوں کی جماعت مل کر ایک شخص کو قتل کر دے تو ان سے قصاص نہیں لیا جائے گا ‘ کیونکہ ظاہر آیت نے قصاص اور مساوات کی شرط لگائی ہے اور واحد اور جماعت میں مساوات نہیں ہے لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ آیت کا معنی یہ ہے کہ قاتل کو قصاص میں قتل کردیا جائے گا خواہ قاتل واحد ہو یا متعدد۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکے کو دھوکے سے قتل کردیا گیا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس کے قتل میں (تمام) اہل صنعاء شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کردیتا ‘ اور مغیرہ بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ چار آدمیوں نے مل کر ایک بچے کو قتل کیا تو حضرت عمر نے اس کی مثل فرمایا (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠١٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

سلاطین اور حکام سے قصاص لینے کے متعلق احادیث اور آثار :

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ سلطان اگر اپنی رعیت میں سے کسی شخص پر زیادتی کرے تو وہ خود اپنی ذات سے قصاص لے گا ‘ کیونکہ سلطان اللہ تعالیٰ کے احکام سے مستثنی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مقتول کے سبب سے تمام مسلمانوں پر قصاص کو فرض کیا ہے اگر سلطان کسی شخص کو بےقصور قتل کردیتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ خود کو قصاص کے لیے پیش کرے ‘ امام نسائی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی چیز تقسیم کررہے تھے ‘ ایک شخص آپ پر جھک گیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک چھڑی چبھوئی ‘ اس نے ایک چیخ ماری ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ بدلہ لے لو ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے معاف کردیا۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٤٤۔ ٢٤٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ اس کے چہرہ پر زخم لگ گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ مجھ سے بدلہ لے لو ‘ اس نے کہا : میں نے معاف کردیا۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا ہے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٤٤ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ‘ ٤١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

ابوفراس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : میں عاملوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ لوگوں کے جسموں پر ضرب لگائیں اور نہ اس لیے کہ وہ ان کا مال لیں ‘ جس شخص کے ساتھ کسی حاکم نے ایسا کیا وہ مجھ سے شکایت کرے ‘ میں اس سے قصاص لوں گا ‘ حضرت عمرو بن العاص نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیبا مارے آپ پھر بھی اس سے قصاص لیں گے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں خدا کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں اس سے قصاص لوں گا ‘ اور بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے ‘ آپ نے اپنے نفس کو قصاص کے لیے پیش کیا تھا۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٨ ص ٤٨‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

امام بیہقی روایت کرتے ہیں :

ابونصر وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ ایک شخص نے (سرخ رنگ کی) خوشبولگائی ہوئی تھی ‘ آپ نے وہ تیر اس کو چبھوکر فرمایا : کیا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا : رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اور بیشک آپ نے مجھے زخمی کردیا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیر اس کے آگے ڈال دیا اور فرمایا : تم اپنا بدلہ لے لو ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آپ نے مجھے تیر چبھویا تھا تو میرے بدن پر کپڑا نہیں تھا اور آپ نے قمیص پہنی ہوئی ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا ‘ اس شخص نے جھک کر آپ کے بدن مبارک کا بوسہ لے لیا۔

حضرت سواد بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت میں نے سرخ رنگ کی خوشبو لیپی ہوئی تھی ‘ جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : اے سواد بن عمرو ! تم نے درس (ایک خوشبودار گھاس جس سے سرخ رنگ ہوجاتا ہے) کا لیپ کیا ہوا ہے ‘ کیا میں نے تم کو اس خوشبو سے منع نہیں کیا تھا ؟ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ‘ آپ نے مجھے وہ چبھوئی جس سے مجھے درد ہوا ‘ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے بدلہ دیں ‘ آپ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور میں آپ کے پیٹ کو بوسہ دینے لگا۔

ابویعلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر بہت ہنسانے والے تھے ‘ ایک دن وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے باتیں کررہے تھے اور ان کو ہنسا رہے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے انگلی اس کی کو کھ میں چبھوئی ‘ انہوں نے کہا : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ‘ آپ نے فرمایا : بدلہ لے لو ‘ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے قمیص پہنی ہوئی ہے اور میں نے قمیص نہیں پہنچی ہوئی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص اٹھا دی وہ آپ کے بدن سے لپٹ گئے اور آپ کے پہلو کا بوسہ لے لیا اور کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں ‘ میرا یہی ارادہ تھا۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک حبشی شخص کو لشکر میں بھیجا ‘ اس نے واپس آکر کہا کہ لشکر کے امیر نے بغیر کسی قصور کے میرا ہاتھ کاٹ دیا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اگر تم سچے ہو تو میں اس سے ضرور تمہارا بدلہ لوں گا۔ الحدیث ملخصا۔

جریر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابوموسی کے ساتھ مل کر دشمن پر غلبہ پایا اور مال غنیمت حاصل کیا ‘ حضرت ابوموسی نے اس کو اس کا حصہ دیا اور تمام مال غنیمت نہیں دیا ‘ اس نے منع کیا اور کہا : وہ تمام مال غنیمت لے گا ‘ حضرت ابوموسی نے اس کو بیس کوڑے مارے اور اس کا سرمونڈ دیا ‘ اس نے وہ تمام بال جمع کیے اور حضرت عمر (رض) کے پاس گیا اور حضرت ابوموسی (رض) کی شکایت کی اور وہ بال نکال کر دکھائے ‘ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسی (رض) نے کے نام خط لکھا ‘: سلام کے بعد واضح ہو کہ فلاں شخص نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے اور میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ اگر واقعی تم نے اس شخص کے یہ زیادتی لوگوں کے مجمع میں کی ہے تو میں لوگوں کے مجمع میں تم سے اس شخص کا قصاص لوں گا اور اگر تم نے تنہائی میں اس شخص کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے تو میں تنہائی میں تم سے اس شخص کا قصاص لوں گا ‘ لوگوں نے سفارش کی اور کہا : ابوموسی کو معاف کردیجئے ‘ حضرت عمر (رض) عنہنے فرمایا : نہیں ! خدا کی قسم ! میں کسی شخص کے ساتھ رعایت نہیں کروں گا ‘ جب حضرت عمر (رض) نے اس شخص کو وہ خط دیا اور قصاص لینے کے لیے تیار ہوگئے تو اس شخص نے آسمان کی طرف سراٹھا کر کہا : میں نے ان کو اللہ کے لیے معاف کردیا۔ (سنن کبری ج ٨ ص ٥٠ ‘۔ ٤٨ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

قصاص لینا حکومت کا منصب ہے :

تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ از خود قصاص لے ‘ قصاص لینے کے لیے ضروری ہے کہ حاکم کے پاس مرافعہ کیا جائے ‘ پھر حاکم خود قصاص لے گا یا کسی شخص کو قصاص لینے کے لیے مقرر کرے گا ‘ قانون پر عمل کرنے کا منصب صرف حکومت کا ہے ‘ ہر شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے ‘ اسی طرح جادوگر اور مرتد کو قتل کرنا اور حدود اور تعزیرات کو جاری کرنا حکومت کا منصب ہے۔

کیفیت قصاص اور آلہ قتل میں ائمہ مذاہب کی آراء اور ان کے دلائل :

امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کا راجح مذہب یہ ہے کہ جس طرح اور جس کیفیت سے قاتل نے مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اور اسی کیفیت سے قاتل کو قتل کیا جائے اور یہی قصاص کا تقاضا ہے کیونکہ قصاص کا معنی ہے : بدلہ ‘ اور بدلہ اسی صورت میں ہوگا ‘ نیز حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے پتھر مار کر ایک باندی کو قتل کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس یہودی کا پتھر سے سرپھاڑ کر اس کا بدلہ لیا ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے دو پتھروں کے درمیان ایک باندی کا سرپھاڑ دیا ‘ اس باندی سے پوچھا گیا : کس نے تمہارا سرپھاڑا ہے ‘ کیا فلاں نے ‘ یافلاں نے حتی کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس باندی نے سرہلایا ‘ اس یہودی کو بلایا گیا ‘ اس نے قتل کرنے کا اقرار کرلیا تو اس کا سر بھی پتھر سے پھاڑ دیا گیا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ١٠١٦۔ ١٠١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوحنیفہ (رح) اور ایک قول کے مطابق امام احمد کے نزدیک قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا اور اس حدیث میں مثلہ کرنے کی ممانعت سے پہلے کے واقعہ کا بیان ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مثلہ کرنے سے منع فرمادیا تو پھر اس کیفیت سے قصاص لینا منسوخ ہوگیا ‘ امام ابوحنیفہ اور امام احمد کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں ؛

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا (جائز) نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٩١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار کے بغیر کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔ ابراہیم نے کہا : جس شخص کو پتھروں سے قتل کیا جائے یا اس کا مثلہ کیا جائے اس کا قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا ‘ اس کو مثلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ شعبی نے کہا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔

قتادہ نے کہا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔ (المصنف ج ٩ ص ٣٥٥۔ ٣٥٤‘ مطبوعہ ادراۃ القران ‘ کراچی)

علامہ ابن رشد مالکی لکھتے ہیں :

جس کیفیت سے قاتل نے قتل کیا ہے اسی کیفیت سے اس کو قتل کیا جائے گا اگر اس نے غرق کیا ہے تو اس کو غرق کیا جائے گا اور اگر اس نے پتھر سے قتل کیا ہے تو اس کو پتھر سے قتل کیا جائے گا ‘ امام مالک اور امام شافعی کا یہی قول ہے ‘ البتہ اگر اس کیفیت سے زیادہ عذاب ہو تو پھر اس کو تلوار سے قتل کیا جائے گا اور اجس نے آگ سے جلا کر قتل کیا اس کے متعلق امام مالک کے مختلف قول ہیں۔ (ہدایۃ المجتہدج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

جو شخص کسی کو عمدا قتل کرے گا تو جس کیفیت سے اس نے قتل کیا ہے اسی کیفیت سے اس سے قصاص لیا جائے گا ‘ اگر کسی نے تلوار سے قتل کیا ہے تو اس کو تلوار سے قتل کیا جائے گا اور اگر اس نے پتھر یا لکڑی سے قتل کیا ہے تو اس کو پتھر یا لکڑی سے قتل کیا جائے گا (شرح مسلم ج ٢ ص ‘ ٥٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

اگر کسی شخص نے دوسرے شخص پر متعدد وار کرکے زخمی کردیا ‘ پھر زخم مندمل ہونے سے پہلے اس کو قتل کردیا تو اس کی گردن پر تلوار مار کر اس کو صرف قتل کیا جائے گا کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ بغیر تلوار کے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔ عطاء ثوری ‘ امام ابویوسف اور امام محمد کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ جس صفت سے قاتل نے قتل کیا ہے اسی صفت سے اس کو قتل کیا جائے گا حتی کہ اگر اس نے آگ میں جلایا جائے گا ‘ اور اگر اس نے دریا میں غرق کیا ہے تو اس کو غرق کیا جائے گا کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ “۔ (النحل : ٢٦ ا)

ترجمہ : اور اگر تم انہیں سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جس طرح تمہیں تکلیف پہنچائی گئی تھی۔

(آیت) ” فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم “۔ (البقرہ : ١٩٤)

ترجمہ : جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم اس پر اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی تھی۔

امام احمد نے یہودی کا پتھر سے قصاص لینے پر بھی استدلال کیا ہے اور تلوار سے قصاص لینے والی حدیث کے متعلق کہا ہے : اس کی سند درست نہیں ہے۔ (المغنی ج ٨ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ ١٤٠٥)

علامہ المرغینانی الحنفی لکھتے ہیں :

قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا کیونکہ حدیث میں ہے : تلوار کے بغیر قصاص لینا جائز نہیں ہے (ہدایہ اخیرین ص ٥٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ علمیہ ‘ ملتان)

امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی آدمی کو مثلہ کرکے قتل کیا یعنی اس کے جسم کے مختلف اعضاء کاٹ ڈالے اور اگر پھر قاتل سے اسی کیفیت سے قصاص لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اس قاتل کو مثلہ کیا جائے حالانکہ احادیث صحیحہ میں مثلہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ‘ جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اس کے ساتھ قتال کرو خیانت نہ کرو ‘ عہد شکنی نہ کرو ‘ مثلہ نہ کرو (کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کے جسم کو نہ بگاڑو) ۔ الحدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام مالک ‘ امام دارمی اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔

تاہم قرآن مجید کی یہ آیات اور سورة نمل اور سورة بقرہ کی آیتیں ائمہ ثلاثہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں۔

(آیت) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “۔ (الشوری : ٤٠)

ترجمہ : اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔

(آیت) ” من عمل سیءۃ فلایجزی الا مثلھا “۔ (المومن : ٤٠ )

ترجمہ : جس نے برائی کی تو اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس (قاتل) کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو (اس کا) دستور کے مطابق مطالبہ کیا جائے ‘ اور نیکی کے ساتھ اس کی ادائیگی کی جائے ‘ یہ (حکم) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ‘ پھر اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔۔ (البقرہ : ١٧٤)

ولی مقتول کے معاف کرنے کی تفصیل :

یعنی مقتول کے ولی نے قاتل کو معاف کردیا ‘ قاتل کو مقتولل کے بھائی سے تعبیر فرمایا ہے تاکہ ولی کی مقتول کو معاف کرنے میں رغبت ہو اور وہ قصاص کا مطالبہ ترک کر دے اور دستور کے مطابق دیت کا مطالبہ کیا جائے یعنی شریعت میں جو دیت کی مقدارمقرر کی گئی ہے ولی مقتول اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرے اور قاتل کے عصبات دیت کی ادائیگی کی مدت میں تاخیر اور مقدار میں کمی نہ کریں اور معاف کرنے اور دیت ادا کرنے کا حکم تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور اس میں تم پر رحمت ہے کیون کی یہود کی شریعت میں صرف قصاص واجب تھا اور نصاری کی شریعت میں صرف دیت واجب تھی ‘ اور تمہارے لیے یہ آسانی ہے کہ مقتول کا ولی قاتل سے قصاص لے ‘ یا دیت لے یا بالکل معاف کردے۔ تمہیں ہر طرح اختیار کی وسعت دی گئی اور کوئی شق واجب نہیں کی گئی اور جس نے اس کے بعد حد سے تجاوز کیا یعنی اگر ولی مقتول نے معاف کرنے کے بعد قاتل کو قتل کیا تو اس کو دنیا اور آخرت میں عذاب ہوگا ‘ دنیا میں اس کو قتل کیا جائے گا اور آخرت کا عذاب الگ ہوگا۔

دیت کی مقدار اور عاقلہ کا بیان :

(١) دیت کی مقدار سو اونٹ یا ہزار دینار (٣٧٤ ء ٤ کلوسونا) یا دس ہزار درہم (٦١٨ ء ٣٠ کلوچاندی) ہے۔

(ب) دیت کو تین سال میں قسط وار ادا کرنا قاتل کی عاقلہ پر لازم ہے۔

(ج) عاقلہ سے مراد قاتل کے حمایتی اور مددگار ہیں ‘ یہ اس کے اہل قبیلہ ‘ اہل محلہ اور اہل صنعت وحرفت ہوسکتے ہیں ‘ جو شخص کسی مل یا کارخانہ میں ملازم ہو ‘ اس مل یا فیکٹری کے مالکان اور کارکنان کو بھی عاقلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ دیت پر مفصل بحث انشاء اللہ سورة نساء آیت : ٩٢ میں بیان کی جائے گی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 178