حدیث نمبر :86

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس پر زنا سے ڈرتا ہوں اور نکاح کرنے کی قدرت نہیں پاتا ۱؎ ہوں شاید وہ حضور سے خصی ہونے کی اجازت چاہتے تھے ۲؎ فرماتے ہیں کہ حضور خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا آپ پھر خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا پھر سرکار خاموش رہے ۳؎ میں نے پھر اسی طرح کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ قلم قدرت وہ چیز لکھ کر سوکھ بھی چکا جو تم پانے والےہوخواہ اب خصی ہو یا رہنے دو۴؎ (بخاری)

شرح

۱؎ یعنی بیوی کے نان نفقہ اورمہر پربھی قادرنہیں ہوں چہ جائیکہ لونڈی خرید سکوں۔مسئلہ:جوشخص حقوق زوجین ادا کرنے پر قادر نہ ہو اسے نکاح ممنوع ہے حقوق میں قوت اور قدرتِ مال سبھی داخل ہیں۔

۲؎ یہ کسی راوی کا قول ہے یعنی ابوہریرہ کی یہ عرض و معروض اس لیئے تھی کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ان کو خصّی ہوجانے کی اجازت دے دیں تاکہ زنا کا احتمال ہی باقی نہ رہے،صحابہ کرام کا یہ انتہائی تقویٰ ہے کہ معصیت پر مصیبت کو ترجیح دیتے ہیں خصی ہوکر اپنے کو ناقص و فاسد کرلینا منظور ہے مگر فاسق بننا منظور نہیں۔

۳؎ یہ بار بار خاموشی یا تو اہتمامِ مسئلہ کے لیئے تھی تاکہ ابوہریرہ اسی کا جواب غور سے سنیں یا انہیں سوال سے روکنے کے لیے یعنی خصی ہونا تو کیا اس کا ذکر بھی نہ کرو۔

۴؎ یعنی اگر تمہاری تقدیر میں زنا لکھا جاچکا ہے تو خصی ہونے کے بعد بھی کرلو گے ورنہ بغیر خصی ہوئے بھی نہ کر پاؤ گے اس کلام میں خصی ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی،بلکہ اچھے طریقے سے روکا جارہا ہے کیونکہ انسان کا خصی ہونا مثلہ ہے یعنی بدن بگاڑنا اور مُثلہ اسلام میں حرام ہے یعنی بے کار چیز کے لیے حرام کا ارتکاب کیوں کرتے ہو؟۔