فَمَنۡۢ بَدَّلَهٗ بَعۡدَمَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَآ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌؕ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 181

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡۢ بَدَّلَهٗ بَعۡدَمَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَآ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌؕ

سو جس نے وصیت کو سننے کے بعد اس کو تبدیل کیا تو اس کا گناہ صرف تبدیل کرنے والوں پر ہے ‘ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا بہت جاننے والا ہے

ربط آیات اور خلاصہ تفسیر :

اس سے پہلی آیتوں میں قتل اور قصاص کا ذکر تھا جس کے ضمن میں موت کا معنی تھا ‘ اور لوگ عام طور پر موت کے وقت وصیت کرتے ہیں کہ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وصیت کے متعلق ہدایت دی کہ جب کوئی شخص مرض الموت میں مبتلا ہو یا کسی اور وجہ سے اس پر موت کی علامات ظاہر ہوں اور اس کے پاس مال ہو تو اس پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے ‘ اور وصیت کرنے والے کی موت کے بعد اس کی وصیت کو تبدیل کرنا سخت گناہ ہے ‘ اگر مرنے والے نے دستور کے مطابق وصیت کی تھی اور بعد میں کسی نے اس کو تبدیل کردیا تو وصیت کرنے والے سے آخرت میں باز پرس نہیں ہوگی ‘ اس کا گناہ صرف وصیت تبدیل کرنے والے کو ہوگا۔ اگر کسی شخص کو قرآن سے یا وصیت کرنے والے کے کسی بیان سے یہ معلوم ہوجائے کہ وہ کسی وارث کو محروم کرنا چاہتا ہے یا کسی وارث کو دستور سے زیادہ دینا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے اور وصیت کرنے والے کو عدل و انصاف کی تلقین کرے۔

وصیت کا لغوی اور شرعی معنی :

علامہ سید زبیدی لکھتے ہیں :

وصیت کا معنی اتصال ہے اور وصیت کو اس لیے وصیت کہتے ہیں کہ یہ میت کے معاملات کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ٣٩٢‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ راغب اصفہانی نے کہا : دوسروں کے عمل کرنے کے لیے پیشگی کوئی بات بہ طور تاکید کہنا وصیت ہے۔ (المفردات ص ‘ ٥٢٥ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ میر سید شریف نے کہا : موت کے بعد کسی کو کسی چیز کا بہ طور احسان مالک بنانا وصیت ہے۔ (کتاب التعریفات ص ‘ ١١١ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)

ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے کہا : کسی شخص کا اپنے ترکہ میں ایسا تصرف کرنا جس کا اثر موت کے بعد مرتب ہو ‘ یہ وصیت ہے۔ (التفسیر المنیر ج ١ ص ١١٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

وصیت کی اقسام :

علامہ شامی نے وصیت کی چار اقسام بیان کی ہیں :

(١) واجب : انسان اللہ تعالیٰ کے جن حقوق کو ادا نہیں کرسکا ان کی وصیت کرنا اس پر واجب ہے ‘ مثلا جن سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی ‘ یا حج نہیں کیا تو ان کے متعلق وصیت کرے یا اس سے نمازیں اور روزے چھوٹ گئے جن کی قضاء نہیں کی ‘ ان کے فدئیے کے بارے میں وصیت کرے یا مالی کفارے ادا نہیں کیے ‘ ان کے لیے وصیت کرے ‘ اسی طرح انسان بندوں کے جن حقوق کو ادا نہیں کرسکا ان کے متعلق وصیت کرے ‘ مثلا کسی کا قرض دینا ہے ‘ جس کا کسی کو پتا نہیں ‘ کسی کی امانت لوٹانی ہے ‘ کسی کی کوئی چیز غصب کرلی تھی اس کو واپس کرنا ہے ‘ اس قسم کی وصیت کرنا واجب ہے۔

(٢) مستحب : دینی مدارس ‘ مساجد ‘ علماء ‘ دینی طلبہ ‘ غریب قرابت داروں اور دیگر امور خیر کے لیے وصیت کرنا مستحب ہے۔

(٣) مباح : امیر رشتہ داروں اور دنیا داروں کے لیے وصیت کرنا مباح ہے۔

(٤) مکروہ : فساق اور فجار کے لیے وصیت کرنا مکروہ ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ٤١٥‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ جن حقوق کا ادا کرنا فرض ہے ان کے لیے وصیت فرض ہوگی جیسے زکوۃ اور جن حقوق کا ادا کرنا واجب ہے ان کے بارے میں وصیت واجب ہوگی جیسے روزے کا کفارہ (کیونکہ اس کا ثبوت حدیث سے ہے اور ظنی ہے) اسی طرح غریب فساق اور فجار کے لیے وصیت کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور امیر ہیں تو ظن غالب ہے کہ وہ معصیت اور فسق وفجور پر خرچ کریں گے اور معصیت کے اداروں کے لیے وصیت کرنا حرام ہے ‘ مثلا فلم سٹوڈیو ‘ آرٹ کونسل ‘ ریس کورس وغیرہ ‘ اسی طرح کفار کے لیے وصیت کرنا بھی حرام ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مصنف کی تحقیق کے مطابق وصیت کی سات قسمیں ہیں :

(١) فرض :

(٢) واجب :

(٣) واجب :

(٤) مستحب :

(٥) مباح :

(٦) مکروہ تنزیہی :

(٧) مکروہ تحریمی :

حرام (مستحب اور مباح کی وہی مثالیں ہیں جو اوپر مذکور ہیں)

وصیت کی شرائط اور رکن :

وصیت کی شرائط ہیں :

(١) وصیت کرنے والا مالک بنانے کا اہل ہو ‘ اس لیے نابالغ ‘ مجنون اور مکاتب کی وصیت صحیح نہیں ہے۔

(٢) وصیت کرنے والے کے ترکہ پر قرض محیط نہ ہو کیونکہ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے۔

(٣) جس کے لیے وصیت کی جائے وہ وصیت کے وقت زندہ ہو خواہ تحقیقا یا تقدیرا (جیسے حاملہ کے بطن میں بچہ کے لیے وصیت کی جائے) ۔

(٤) جس کے لیے وصیت کی جائے وہ وارث نہ ہو۔

(٥) جس کے لیے وصیت کی جائے وہ قاتل نہ ہو ‘ خواہ قتل عمد ہو یا قتل خطاء ‘ البتہ قتل بالسبب وصیت کے منافی نہیں ہے۔

(٦) جس چیز کی وصیت کی ہو وہ تملیک کے قابل ہو ‘ خواہ وہ اس وقت موجود ہو یا اس کو وجود بعد میں ہو ‘ مثلا ایک سال یا ہمیشہ کے لیے باغ یا درخت کے پھلوں کی وصیت کی جائے۔

(٧) کل ترکہ کے تہائی مال میں وصیت کی جائے۔ وصیت کا رکن یہ ہے کہ وصیت کرنے والا کہے : میں نے فلاں چیز کی فلاں شخص کے لیے وصیت کی ہے۔ (درالمختار علی ھامش رد المختار ج ٥ ص ‘ ٤١٦۔ ٤١٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

وصیت کا لزوم :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی وصیت کے لائق چیز ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو اس کے لیے وصیت لکھے بغیر دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی ہے ‘ وصیت لکھے بغیر مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٩۔ ٣٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

ورثاء کے لیے وصیت کا منسوخ ہونا اور غیر ورثاء کے لیے تہائی مال کی وصیت کا استحباب :

جمہور علماء اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت ‘ میراث کی آیتوں سے منسوخ ہے ‘ کیونکہ والدین اور دیگر رشتہ داروں کے اللہ تعالیٰ نے خود حصے مقرر فرما دیئے اس لیے ان کے حق میں وصیت کرنے کا وجوب اب منسوخ ہوگیا۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے ‘ سو وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ (الحدیث) (جامع ترمذی ص ‘ ٣٠٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٤٠‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کی وجہ سے اب ورثاء کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے اور اگر کسی نے وارث کے لیے وصیت کی تو وہ نافذ نہیں ہوگی ‘ اور جو رشتہ دار وارث نہ ہوں ‘ ان کے لیے تہائی مال سے وصیت کرنا مستحب ہے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں مجھے ایسا درد لاحق ہوا کہ میں قریب المرگ ہوگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے تشریف لائے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ دیکھ ہیں کہ درد سے میری کیا حالت ہے ! میں ایک مال دار شخص ہوں اور ایک لڑکی کے سوا میرا اور کوئی وراث نہیں ہے ‘ کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! میں نے کہا : نصف مال صدقہ کردوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! تہائی مال صدقہ کرو ‘ تہائی مال بہت ہے ‘ اگر تم اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑ کر جاؤ تو یہ ان کو محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے جس کے سبب وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں ‘ اور تم جو کچھ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے ‘ تم اس کا اجر ملے گا حتی کہ اس لقمہ کا بھی اجر ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ الحدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

احادیث کی روشنی میں وصیت کے احکام :

امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے تمہاری وفات کے وقت تمہارے تہائی مال سے تم پر صدقہ کیا ہے ‘ یہ تمہاری نیکیوں میں زیادتی ہے تاکہ تمہارے اعمال کو اس صدقہ سے پاکیزہ کردے۔ (سنن دارقطنی ج ٤ ص ١٥٠‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

اگر تمام وارث تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنے کی اجازت دیں تو یہ جائز ہے کیونکہ تہائی مال کی حدورثاء کا حق محفوظ کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے ‘ سو اگر ورثاء خود اپنے حق سے دستبردار ہو رہے ہوں تو پھر تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز ہے۔

امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ اگر ورثاء چاہیں تو جائز ہے۔

حضرت عمرو بن خارجہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وارث کیلیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ اگر (دیگر) وارث اجازت دیں تو پھر جائز ہے۔ (سنن دارقطنی ج ٤ ص ١٥٢‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

اگر کوئی شخص کسی وارث کو محروم کر دے یا کسی شخص کے لیے اس قدر زیادہ وصیت کرے جس سے دوسرے حق داروں کے حصوں میں کمی ہو تو ہو شخص گنہ گار ہوگا۔ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں پھر ان کو موت آجاتی ہے اور وہ وصیت میں (کسی کو) ضرر پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٤٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

زندگی میں صحت کے وقت صدقہ کرنے میں موت کے وقت صدقہ کی وصیت کرنے کی بہ نسبت بہت زیادہ فضیلت ہے ‘ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا رسول ! کون سے صدقہ میں زیادہ فضیلت ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس وقت صدقہ کرو جب تم صحت مند ہو ‘ مال پر حریص ہو ‘ زندگی کی امید ہو اور تنگ دستی کا خوف ہو ‘ اور صدقہ میں تاخیر نہ کرتے رہو ‘ حتی کہ جب موت حلقوم تک پہنچ جائے تو کہو : یہ چیز فلاں کے لیے اور یہ چیز فلاں کے لیے ‘ یہ تو (اب تم کہو یا نہ کہو) فلاں کے لیے ہو ہی جائے گا۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرے تو وہ موت کے وقت سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٤٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 181

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.