حدیث نمبر :90

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کا دستِ کرم بھرا ہے ۱؎ جسے خرچ کم نہیں کرسکتا اس کی عطا پاشی دن رات جاری ہے ۲؎ غور تو کرو جب سے آسمان اور زمین بنا ہے تب سے کتنا خرچ فرمایا لیکن اس خرچ نے اس کے دستِ کرم میں کوئی کمی نہ کی اس کا عرش پانی پر تھا ۳؎ اس کے قبضہ میں ترازو ہے جسے بلندوپست فرماتا ہے۴؎ (مسلم وبخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اﷲ کا دستِ کرم بھرا ہوا ہے ابن نمیر نے مَلَأَ فرمایا اور فرمایا سحاء سے رات و دن کی کوئی چیز کم نہیں کرتی۔

شرح

۱؎ یعنی اﷲ بڑا غنی ہے اس کی تائید میں وہ آیت ہے”وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ “ورنہ اﷲ تعالٰی ہاتھ سے بھی پاک ہے اور اس کے بھرنے سے بھی۔

۲؎ اس کی مثال اس نے اپنی بعض مخلوق میں قائم فرمادی ہے سمندر کا پانی،سورج کا پانی،سورج کی روشنی،ہمارا علم خرچ کرنے سے نہیں گھٹتے،جنت کے رزق کا بھی یہی حال ہوگا۔پھر رب تعالٰی کے خزانوں کا کیا پوچھنا۔لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

۳؎ اس کی تفسیر پہلے گزرچکی کہ عرش و پانی کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی۔

۴؎ یعنی لوگوں کا رزق اور ان کے اعمال اﷲ تعالٰی کے قبضہ میں ہیں جن میں زیادتی کمی فرماتا رہتا ہے یا قوموں کی تقادیر اس کے قبضہ میں ہیں کسی کو گراتا ہے کسی کو اٹھاتا ہے۔