بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

اور ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ اور نہ (بہ طور رشوت) وہ مال حاکموں کو دو تاکہ تم جان بوجھ کر لوگوں کا کچھ مال گناہ کے ساتھ کا کھاؤ

مال حرام کھانے کی حرمت :

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام امت کا خطاب ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کا مال ناحق نہ کھائے ‘ جوا ‘ سود ‘ دھوکے سے لیا ہوا مال ‘ غصب شدہ مال ‘ کسی کے حق کا انکار مثلا کسی کی مزدوری ‘ اجرت یا کرایہ کا انکار کر کے اس کا حق مار لینا ‘ یا وہ مال جس کو شریعت نے حرام کردیا ہے ‘ مثلا فاحشہ کی اجرت ‘ اور شراب اور مردار کی قیمت یہ تمام قسم کے مال حرام ہیں اور ان کا کھانا ناجائز ہے۔

مال حرام سے صدقہ کرنے کا شرعی حکم :

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

” ظہیریہ “ میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے ثواب کی نیت سے فقیر کو مال حرام سے کچھ دیا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر فقیر کو معلوم تھا اور اس نے دینے والے کے لیے دعا کی اور اس نے آمین کہی تو دونوں کافر ہوجائیں گے ‘ میں کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ فقیر کو دینے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اگر اس نے ثواب کی نیت سے مسجد بنائی اور کوئی مالی عبادت کی تو وہ کافر ہوجائے گا ‘ البتہ اس مسئلہ میں یہ قید ہے کہ اس مال حرام کی حرمت قطعی ہو جیسے چوری اور ڈاکے کا مال ‘ سحر کی کمائی ‘ سود اور جوا ‘ خمر ‘ مردار اور خنزیر کی قیمت ‘ زنا کی اجرت ‘ یا غصب کیا ہوا مال وغیرہ ‘ کیونکہ ان کے صدقہ پر ثواب کی امید رکھنا انکو حلال سمجھنے پر موقوف ہے اور حرام قطعی کو حلال قرار دینا کفر ہے ‘ العیاذ باللہ ‘ (رد المختار ج ٢ ص ٢٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

گانے بجانے کی حرمت ظنی ہے ‘ ڈاڑھی مونڈنے کی اجرت ‘ فوٹوگرافی کی اجرت ‘ سینما کی آمدنی ‘ ادا کاروں کی آمدنی ‘ رقض کی اجرت ‘ فلم کی وڈیوکسٹ کے کاروبار کی آمدنی ‘ جان داروں کی تصویریں بنانے والے پینٹرز کی آمدنی ‘ کاہن اور نجومی کی آمدنی وغیرہ ان سب کی آمدنی حرام ظنی ہے ‘ اگر اس مال سے صدقہ کیا جائے اور ثواب کی امید رکھی جائے تو یہ کفر نہیں ہے لیکن سخت حرام ‘ شدید گناہ کبیرہ اور گمراہی ہے۔

اگر کسی شخص کے پاس رشوت ‘ چوری ‘ سود ‘ غصب یا کسی اور ناجائز ذریعہ سے حاصل کیا ہوا کسی کا مال ہے اور اب وہ خوف خدا سے اس مال کے وبال سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ مال اس شخص کو واپس کر دے ‘ اگر وہ شخص فوت ہوچکا ہو تو اس کے وارثوں کو وہ مال واپس کر دے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کو یہ بتائے کہ میں نے تم سے یا تمہارے مورث سے یہ مال ناجائز طور پر لیا تھا اور اگر وہ شخص یا اس کے وارثوں میں سے کسی کا پتا نہ چلے تو اس مال کو اس شخص کی طرف سے صدقہ کردے اور اپنی اور اس کی مغفرت کی دعا کرے ‘ اور اگر اس نے حکومت کے مال کو ناجائز طریقہ سے حاصل کیا تھا تو وہ مال حکومت کے کسی فنڈ میں داخل کردے یا سرکاری ریل یا ہوائی جہاز کے ٹکٹ خرید کر ان کو استعمال نہ کرے اور اگر اس کے پاس کس حرام کا مال ہے ‘ مثلا سینما کی آمدنی یا رقص اور موسیقی کی آمدنی تو اس تمام مال کو اپنے ذمہ سے بری اور ساقط کرنے کی نیت سے کسی غریب کو خیرات کردے ‘ اس میں صدقہ کے ثواب کی نیت نہ کرے ‘ بلکہ یہ نیت کرے کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش اور ذمہ عہدہ برآ ہورہا ہے۔

اگر کسی شخص نے کسی فنی مجبوری سے غیر اسلامی ملک میں سود لیا ‘ مثلا اس نے غیر اسلامی ملک کے بنک میں پیسہ رکھا اور اب اپنے اکاؤنٹ و اپنے ملک میں ٹرانسفر کراتا ہے اور اس میں سود کی رقم بھی فنی وجہ سے آگئی تو اس رقم سے نجات کی ایک صورت تو وہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی ‘ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی غیر مسلم سے قرض لے کر اتنی رقم کسی کار خیر میں صرف کردے اور پھر اس سود کی رقم سے اس غیر مسلم کا قرض ادا کردے ‘ لیکن عام حالات میں جان بوجھ کر سود لینا اور پھر کسی غریب کو وہ سود کھلانا جائز نہیں ہے ‘ حدیث میں ہے : سود کھانے والے اور سود کھلانے والے دونوں لعنت کی گئی ہے۔

رشوت کا معنی :

علامہ سید محمد مرتضی زبیدی رشوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو کچھ چیز دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کردے یا حاکم کو اپنی منشاء پوری کرنے پر ابھارے۔

علامہ ابن اثیر لکھتے پیشے دے کر اپنی حاجت پوری کرانا یہ رشوت ہے :

علامہ زبیدی لکھتے ہیں کہ رشوت اصل میں رشاء سے ماخوذ ہے اور رشاء اصل میں ڈول کی اس رسی کو کہتے ہیں ‘ جس کے ذریعہ کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے اور راشی وہ شخص ہے جو کسی باطل چیز کو حاصل کرنے کے لیے کسی کی مدد کرتا ہے اور مرتشی رشوت لینے والے کو کہتے ہیں اور رائش اس شخص کو کہتے ہیں جو راشی اور مرتشی کے درمیان رشوت کا معاملہ طے کراتا ہے ‘ اور جو چیز حق کو حاصل کرنے لیے دی جائے یا ظلم کو دور کرنے کے لیے دی جائے وہ رشوت نہیں ہے اور ائمہ تابعین سے منقول ہے کہ اپنی جان اور مال کو ظلم سے بچانے کے لیے رشوت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ‘ ١٥٠ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

قرآن مجید کی روشنی میں رشوت کا حکم :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون “۔۔ (البقرہ : ١٨٨)

ترجمہ : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ (بطوررشوت) وہ مال حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ کھاؤ حالانکہ تم جانتے ہو (کہ یہ فعل ناجائز ہے) ۔

(آیت) ” اکلون للسحت ‘ ‘۔ (المائدہ : ٤٢)

ترجمہ : بہت حرام خور ‘ (رشوت کھانے والے)

احادیث اور آثار کی روشنی میں روشت کا حکم :

امام بیہقی روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے پوچھا گیا کہ ” سحت “ کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا : رشوت ‘ پھر سوال کیا کہ فیصلے پر رشوت لینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ کفر ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ (احکام) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ‘ ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

ان احادیث میں فیصلہ کے لیے رشوت دینے اور باطل کام کرانے کے لیے رشوت دینے کو حرام قرار دیا ہے ‘ اور حسب ذیل احادیث اور آثار میں ظلم اور ضرر سے بچنے کے لیے کچھ دینے کو جائز قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ رشوت نہیں ہے۔

علامہ ابوبکر جصاص بیان کرتے ہیں :

روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال غنیمت تقسیم کیا اور بڑے بڑے عطیات دیئے اور عباس بن مرداس کو بھی کچھ مال دا تو وہ اس پر ناراض ہوگیا اور شعر پڑھنے لگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (کچھ اور مال دے کر) ہمارے متعلق اس کی زبان بند کردو ‘ پھر اس کو کچھ اور مال دیا حتی کہ وہ راضی ہوگیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٤٣٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

امام بیہقی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو ان سے کچھ سامان چھینا گیا۔ انہوں نے اس سامان کو اپنے پاس رکھا اور دو دینار دے دیئے ‘ پھر ان کو چھوڑ دیا گیا۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ‘ ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جب کام میں رشوت دینے والا گنہگار ہوتا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اپنی جان اور مال سے ظلم اور ضرر کو دور کرنے کے لیے دی جائے۔ رشوت وہ چیز ہے جس میں دینے والا گنہگار ہوتا ہے بایں طور کہ تم اس چیز کے لیے رشوت دو جس پہ تمہارا حق نہیں ہے۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ‘ ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

رشوت کی اقسام :

علامہ قاضی خاں اوزجندی لکھتے ہیں : جب قاضی رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کرے تو وہ قاضی نہیں ہوگا اور قاضی اور رشوت لینے والے دونوں پر رشوت حرام ہوگی ‘ رشوت کی چار قسمیں ہیں :

(١) پہلی قسم یہی ہے یعنی منصب قضاء کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا ‘ اس رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔

(٢) کوئی شخص اپنے حق میں کرانے کے لیے قاضی کو رشوت دے ‘ یہ رشوت جانبین سے حرام ہے ‘ خواہ وہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو ‘ کیونکہ فیصلہ کرنا ‘ قاضی کی ذمہ داری اور فرض ہے (اسی طرح کسی افسر کو اپنا کام کرانے کے لیے رشوت دینا یہ بھی جانبین سے حرام ہے ‘ کیونکہ وہ کام کرنا اس افسر کی ڈیوٹی ہے۔ سعیدی غفرلہ)

(٣) اپنی جان اور مال کو ظلم اور ضرر سے بچانے کے لیے رشوت دینا ‘ یہ لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر حرام نہیں ہے ‘

(٤) کسی شخص کو اس لیے رشوت دی کہ وہ اس کو بادشاہ یا حاکم تک پہنچا دے تو اس رشوت کا دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے۔ (فتاوی قاضی خاں علی ھامش الہندیہ ج ٢ ص ٣٦٣۔ ٣٦٢‘ مطبوعہ مطبع امیریہ ‘ بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

رشوت کی یہ چار اقسام قاضی خاں کے حوالے سے علامہ ابن ہمام۔ ١ ( علامہ کمال ابن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ فتح القدیر ج ٢ ص ٣٨٥‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ بدرالدین عینی ٢۔ (علامہ محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥‘ بنایہ شرح ہدایہ الجزء الثالث ص ٢٦٩‘ مطبوعہ ملک سنز ‘ فیصل آباد)

علامہ زین الدین ابن نجیم۔ ٣ (علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ ‘ البحر الرائق ج ٦ ص ٢٦٢ ‘۔ ٢٦١‘ مطبوعہ مطبعہ علمیہ ‘ مصر ‘ ١٣١١ ھ) اور علامہ ابن عابدین شامی۔ نے بھی بیان کی ہیں۔ (ردالمختار ج ٤ ص ٤٢٢۔ ٤٢١‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص نے بھی رشوت کی یہ چار قسمیں بیان کی ہیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٤٣٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

قاضی اور دیگر سرکاری افسروں کے ہدیہ قبول کرنے کی تحقیق :

شمس الائمہ سرخسی لکھتے ہیں کہ قاضی ہدیہ اور تحفہ کو قبول نہ کرے ‘ ہرچند کہ شریعت میں ہدیہ قبول کرنا مستحب ہے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے کو ہدیہ دو اور ایک دوسرے سے محبت کرو ‘ لیکن ہدیہ لینے کا یہ جواز اس شخص کے لیے ہے جو مسلمانوں کے اعمال میں سے کسی عمل کے لیے متعین نہ ہو اور جو شخص کسی عمل کے لیے متعین ہوگیا ‘ جیسے قاضی اور حاکم وغیرہ ان پر لازم ہے کہ یہ کسی سے ہدیہ قبول نہ کریں ‘ خصوصا اس شخص سے جو اس منصب پر مقرر ہونے سے پہلے انہیں ہدیہ نہ دیتا ہو ‘ کیونکہ ہدیہ دینے والا کسی کام یا قضاء کو اپنے حق میں کرنے کے لیے ہدایہ دیتا ہے اور یہ بھی رشوت اور سحت کی ایک قسم ہے اور اس کی اصل یہ حدیث ہے کہ نبی کریم نے ابن اللتبیہ کو مسلمانوں سے صدقات وصول کرنے کے لیے مقرر فرمایا ‘ جب وہ صدقات لے کر آیا تو کہنے لگا کہ یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے لوگوں نے ہدیہ دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے جن کو ہم کسی جگہ کا عامل بنا کر بھیجتے ہیں اور وہ واپس آکر یہ کہتے ہیں کہ یہ تمہارا مال ہے اور یہ ہمیں ہدیہ ملا ہے ‘ یہ لوگ اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گئے ‘ پھر یہ دیکھا جاتا کہ ان کو کوئی ہدیہ دیتا ہے یا نہیں ؟ اس طرح حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو کسی جگہ کا عامل بنایا ‘ ان کے پاس کافی مال جمع ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : تمہارے پاس یہ مال کہاں سے آیا ؟ انہوں نے کہا : گھوڑوں کی نسل بڑھی اور لوگوں نے تحفے دیئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! تم اپنے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گئے ‘ پھر ہم دیکھتے کہ تم کو کوئی ہدیہ دیتا ہے یا نہیں ؟ اور وہ مال بیت المال میں داخل کرلیا ‘ اس حدیث اور اثر سے یہ معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو کسی منصب کی جہت سے کوئی ہدیہ ملے تو وہ رشوت ہے ‘ لہذا جو لوگ قاضی کو منصب قضاء پر فائز ہونے سے پہلے تحفے دیتے تھے ان کے سوا اور کسی شخص سے قاضی کو ہدیہ اور تحفہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ (المبسوط ج ٢١ ص ٨٢‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت الطبعۃ الثالثہ ‘ ١٣٩٨ ھ)

جھوٹی گواہی سے حکم رد ہوتا ہے یا نہیں ؟

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ام سلمہ (رض) کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے مؤقف کو دوسرے کی بہ نسبت زیادہ دلائل کے ساتھ پیش کرے اور اس سماعت کے اعتبار سے میں (بالفرض) اس کے حق میں فیصلہ کردوں ‘ سو جس شخص کو میں اس کے بھائی کا حق دے دوں وہ اس کو نہ لے کیونکہ میں اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٧٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : صحابہ کرام (رض) فقہاء تابعین ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اور جمہور فقہاء اسلام کا یہ نظریہ ہے کہ حاکم کا حکم باطن میں کسی چیز کو حلال کرتا ہے نہ حرا کرتا ہے ‘ لہذا جب دو جھوٹے گواہ کسی کے حق میں مال کی گواہی دیں اور حاکم اس گواہی کی بناء پر مدعی کے حق میں مال کا فیصلہ کردے تو مدعی کے لیے اس مال کو لینا جائز نہیں ہے اور اگر دو جھوٹے گواہ کسی شخص کے خلاف یہ گواہی دیں کہ اس شخص نے فلاں شخص کو قتل کیا ہے تو اگر مقتول کے ولی کو یہ علم ہو کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں تو اس کے لیے ملزم کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر دو شخص کسی کے خلاف یہ جھوٹی گواہی دیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور قاضی نے اس گواہی کی بناء پر تفریق کردی ہے تو جس شخص کو علم ہو کہ یہ گواہی کی بناء پر تفریق کردی ہے تو جس شخص کو علم ہو کہ یہ گواہی جھوٹی ہے اس کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ قاضی کے حکم سے عورت تو حلال ہوجاتی ہے مال حلال نہیں ہوتا ‘ لہذا ان کے نزدیک اس صورت میں نکاح جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ کا یہ قول اس حدیث صحیح اور اجماع متقدمین کے خلاف ہے ‘ اسی طرح ان کا یہ قول خود ان کے اور جمہور کے اس قاعدہ کے بھی خلاف ہے کہ عورت سے وطی کے معاملہ میں نکاح کی بہ نسبت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ‘ ٧٥۔ ٧٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ ابوعبداللہ وشتانی مالکی لکھتے ہیں : علامہ مازری مالکی نے کہا ہے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ جان ‘ مال اور عورت اگر حرام ہو تو وہ قاضی کے حکم حکم سے حلال نہیں ہوگی اور امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ کہا ہے قاضی کے حکم سے عورت حلال ہوجاتی ہے ‘ پس اگر دو گواہ کسی شخص کے خلاف یہ جھوٹی گواہی دیں کہ اس شخص نے اپنی عورت کو طلاق دے دی تو جس شخص کو یہ علم ہو کہ انہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے اس کے لیے بھی اس عورت سے نکاح کرنا حلال ہے۔ اس قول کی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) پر لے دے کی گئی کہ انہوں نے مال کی حفاظت کی اور عورت کی حفاظت نہیں کی ‘ حالانکہ عورت کی حفاظت مقدم ہے ‘ ہمارے اصحاب نے اس حدیث کے عموم سے استدلال کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٥ ص ٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

قضاء کے ظاہرا اور باطنا نافذ ہونے میں فقہاء احناف کا مؤقف :

علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی نے اس سلسلہ میں فقہاء احناف کا مؤقف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جھوٹے گواہوں سے ظاہرا اور باطنا قضاء نافذ ہوجاتی ہے ‘ بشرطیکہ محل اس حکم کا قابل ہو (یعنی محارم میں سے کسی پر دعوی نہ ہو) اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو ‘ یہ قضا عقود (مثلا بیع اور نکاح) اور فسوخ (مثلا اقالہ اور طلاق) دونوں میں نافذ ہوجاتی ہے ‘ کیونکہ حضرت علی (رض) نے اس عورت سے فرمایا تھا کہ تمہارے گواہوں نے تمہارا نکاح کردیا ‘ اور امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام زفر اور ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں صرف ظاہرا قضاء نافذ ہوتی ہے ‘ اور اسی قول پر فتوی ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٤ ص ٤٦٢ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)

علامہ شامی لکھتے ہیں ‘ کہ امام طحاوی نے نقل کیا ہے کہ امام محمد کا قول بھی امام ابوحنیفہ کی طرح ہے ‘ نیز علامہ شامی بیان کرتے ہیں کہ ” قہستانی “ اور ” البحر الرائق “ میں حقائق اور ابواللیث سے منقول ہے کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے ‘ لیکن ” فتح القدیر “ میں ہے کہ امام اعظم کا قول ہی معتبر ہے اور علامہ قاسم نے بھی اسی کی تائید کی اور عام متون میں بھی امام اعظم کا قول مذکور ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ٤٦٢‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٤٢٧ ھ)

جن صورتوں میں فقہاء احناف کے نزدیک قضاء ظاہرا اور باطنانافذ ہوجاتی ہے :

علامہ شامی نے جھوٹی گواہی کی بناء پر عقود اور فسوخ میں قاضی کے حکم کی حسب ذیل مثالیں بیان کی ہیں :

(١) ایک باندی نے کسی شخص پر یہ دعوی کیا کہ اس شخص نے اس باندی کو اتنے روپوں میں خریدا ہے ‘ اس شخص نے اس دعوی کا انکار کیا ‘ قاضی نے اس کو قسم کھانے کا حکم دیا ‘ اس نے قسم کھانے سے انکار کیا اور قاضی نے اس انکار کی بناء پر اس شخص کے خلاف فیصلہ کردیا تو اب وہ باندی اس شخص پر دیانۃ اور قضاء دونوں طرح حلال ہے۔

(٢) ایک شخص نے کسی عورت پر نکاح کا دعوی کیا اور اس کے ثبوت میں دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے ‘ قاضی نے مدعی کے حق میں فیصلہ کردیا۔

(٣) ایک عورت نے کسی شخص نکاح کا دعوی کیا اور اس کے ثبوت میں دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے مدعیہ کے حق میں فیصلہ کردیا تو ان دونوں صورتوں میں مرد کے لیے عورت سے وطی کرنا اور عورت کا اس کو وطی کا موقع دینا جائز ہے۔

(٤) ایک عورت نے یہ دعوی کیا کہ اس کے شوہر نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں ‘ شوہر منکر ہے ‘ عورت نے دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے اس جھوٹی گواہی کے پیش نظر ان کے درمیان تفریق کا فیصلہ کردیا اور عدت گزرجانے کے بعد عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کرلیا تو اس دوسرے شخص کو اس عورت سے وطی کرنا جائز ہے خواہ اس کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم ہو اور گواہوں میں سے کوئی ایک اس سے نکاح کرسکتا ہے اور وطی بھی کرسکتا ہے ‘ اور پہلا شوہر اب وطی نہیں کرسکتا نہ عورت اس کو وطی کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

(٥) ایک باندی یہ دعوی کرے کہ اس کے مالک نے اس کو آزاد کردیا ہے اور مالک منکر ہو ‘ باندی اس پر دو گواہ پیش کردے اور قاضی اس کے آزاد ہونے کا فیصلہ کردے تو اب وہ باندی کسی شخص سے نکاح کرسکتی ہے اور اس شخص کا اس باندی سے وطی کرنا اور باندی کا اس کو وطی کا موقع فراہم کرنا جائز ہے خواہ اس شخص کو علم ہو کہ گواہ جھوٹے تھے،

(٦) ایک شخص نے کسی مکان کے بارے میں یہ دعوی کیا ہے کہ اس مالک نے اس کو وقف کردیا تھا ‘ مالک منکر ہے ‘ اس شخص نے اس وقف پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے فیصلہ کردیا تو مدعی کا اس جگہ پر وقف کے احکام لاگو کرنا صحیح ہے۔

(٧) کسی شئے کو کرایہ پر حاصل کرنے کا دعوی کیا اور اس پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے مدعی کے حق میں فیصلہ کردیا تو مدعی کے لیے اس شے میں تصرف کرنا جائز ہے۔ (ردالمختار ج ٤ ص ٤٦٣۔ ٤٦٢‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)

فقہاء احناف کے نزدیک قضاء کے ظاہرا اور باطنا نافذ ہونے کی شرائط :

فقہاء احناف کے نزدیک قضاء کے ظاہرا اور باطنا نافذ ہونے کی حسب ذیل شرائط ہیں :

(١) قاضی کو یہ علم نہ ہو کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں :

(٢) مدعی نے ملک مطلق کا دعوی نہ کیا ہو بلکہ ملکیت کا سبب کا بھی بیان کیا ہو ‘ قرض کا بھی یہی حکم ہے ‘ اگر کسی شخص پر مطلقا قرض کا دعوی کیا تو باطنا قضا نافذ نہیں ہوگی جب تک کہ یہ نہ بتائے کہ اس پر فلاں سبب سے قرض ہے ‘ کسی شخص پر وراثت کے دعوی کرنے کا بھی یہی حکم ہے اس میں بھی باطنا قضا نافذ نہیں ہوگی۔

(٣) مدعی نے جس چیز پر دعوی کیا ہے وہ اس کے دعوی کے محل بننے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو ‘ اگر اس میں اس کے دعوی کی صلاحیت نہیں ہے تو اس میں باطنا قضا نافذ نہیں ہوگی ‘ مثلا منکوحہ غیر یا معتدہ غیر کے بارے میں یہ دعوی کیا کہ وہ اس کی بیوی ہے اور اس پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے تو اس میں ظاہرا قضاء نافذ ہوگی نہ باطنا ‘ مرتدہ اور دیگر محارم کا بھی یہی حکم ہے۔

(٤) مدعی کا دعوی اس چیز کے متعلق ہو جس میں انشاء ممکن ہو ‘ انشاء سے مراد ان کلمات کو بولنا ہے جن سے کسی چیز کو واقع کیا جائے ‘ مثلا ” میں نے یہ چیز خریدی “ کہہ کر بیع کو واقع کیا جیسے عقد بیع ‘ فسخ بیع ‘ نکاح اور طلاق اور جس چیز میں انشاء ممکن نہ ہو اس میں باطنا قضاء نافذ نہیں ہوگی جیسے وارثت کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں اور اس پر دو جھوٹے گواہ پیش کردے۔

(٥) قاضی یہ منکر کی قسم پر نہ کرے ‘ اگر قاضی نے منکر کی قسم پر فیصلہ کردیا تو یہ قضا باطنا نافذ نہیں ہوگی ‘ مثلا ایک عورت نے یہ دعوی کیا کہ اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہیں ‘ اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے قاضی نے شوہر سے قسم طلب کی ‘ شوہر نے جھوٹی قسم کھالی تو اگر عورت کو یہ علم ہے کہ شوہر تین طلاقیں دے چکا ہے تو اس عورت کے لیے اس کو وطی کا موقع دینا جائز نہیں ہے اور مرد کے لیے بھی اس عورت سے وطی کرنا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ اس صورت میں نشاء نکاح نہیں ہے بلکہ جو نکاح پہلے سے قائم تھا قاضی نے اس کے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے اس وجہ سے یہاں باطنا قضاء نافذ نہیں ہوگی ‘ خلاصہ یہ ہے کہ باطنا قضاء اس وقت نافذ ہوتی ہے جب وہ قضاء گواہی کی بناء پر ہو یا انکار قسم کی بناء پر ہو اور وہ فیصلہ کسی عقد یا فسخ کے انشاء پر مبنی ہو اور محل انشاء بننے کی صلاحیت بھی رکھتاہو۔

(٦) جن گواہوں کی بنیاد پر قاضی نے فیصلہ کیا ہے وہ مسلمان ‘ آزاد اور عادل ہوں اگر وہ کافر ‘ غلام یا محدود فی القذف ہوئے تو باطنا قضاء نافذ نہیں ہوگی۔ (ردالمختار ج ٤ ص ٤٦٣۔ ٤٦٢‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)

قضاء باطنی کے نفاذ میں فقہاء احناف کے دلائل اور ائمہ ثلاثہ کے دلائل کا تجزیہ :

شمس الائمہ سرخسی حنفی (رح) لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ کے نزدیک عقود ‘ فسوخ ‘ نکاح ‘ طلاق اور عتاق میں جھوٹے گواہوں سے بھی قاضی کا فیصلہ ظاہرا اور باطنا نافذ ہوجاتا ہے ‘ پہلے امام ابویوسف کی بھی یہی رائے تھی۔ امام ابویوسف کے دوسرے قول اور امام محمد اور امام شافعی کے نزدیک ان صورتوں میں قاضی کا فیصلہ صرف ظاہرا نافذ ہوتا ہے باطنا نافذ نہیں ہوتا ‘ حتی کہ جب کسی شخص نے ایک عورت پر نکاح کا دعوی کیا اور نکاح کے ثبوت میں دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے نکاح کا فیصلہ کردیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس شخص کیلیے اس عورت سے وطی کرنا جائز ہے ‘ امام ابویوسف کا پہلا قول بھی یہی تھا ‘ البتہ امام ابو یوسف کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس شخص کے لیے اس عورت سے وطی کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام محمد اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون “۔۔ (البقرہ : ١٨٨)

ترجمہ : اور ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ اور نہ (بطور رشوت) وہ مال حکام تک پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم گناہ کے ساتھ (ناجائزطریقہ پر) کھاؤ ‘ حالانکہ تم جانتے ہو “۔۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حاکم کے فیصلہ سے مال غیر کے ناجائز طریقہ سے کھانے کو حرام کردیا ہے ‘ لہذا یہ اس پر نص صریح ہے کہ اگر قاضی نے جھوٹے گواہوں کی بناء کسی چیز کا فیصلہ کردیا تو اس چیز کالینا جائز ہوگا۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے : تم میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے مؤقف کو دوسرے کی بہ نسبت زیادہ چرب زبانی اور طلاقت لسانی سے پیش کرے ‘ پس اگر میں (ظاہری حجت کی بناء پر) کسی شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو میں (درحقیقت) اس کے لیے آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کررہا ہوں ‘ وہ چاہے اس کو لے یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فیصلہ کی بناء ایک سبب باطل پر ہے اس لیے یہ فیصلہ باطنا نافذ نہیں ہوگا ‘ جس طرح قاضی ‘ غلام ‘ کافر یا محدود فی القذف کی گواہی پر فیصلہ کرے تو اس کا فیصلہ باطنا نافذ نہیں ہوتا اور اس فیصلہ کی بناء پر جھوٹی گواہی پر ہے اور یہ ایک باطل سبب ہے کیونکہ جھوٹی گواہی گناہ کبیرہ ہے اور قضا کی حجت ایک امر شرعی ہے اور گناہ کبیرہ اس کی ضد ہے اور جب جھوٹ کی تہمت کی وجہ سے گواہی مقبول نہیں ہوتی اور وہ گواہی فیصلے کی حجت نہیں بن سکتی تو حقیقتا جھوٹی گواہی بدرجہ اولی نامعتبر ہوگی ‘ نیز قاضی نے جس چیز کا فیصلہ کیا ہے اس کا واقع میں کوئی وجود نہیں ہے ‘ لہذا یہ قضا باطل ہوگی جیسا کہ اگر قاضی جھوٹے گواہوں کی بناء پر کسی کے لیے منکوحہ غیر کا فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ باطل ہوتا ہے ‘ نیز اس فیصلہ کو انشاء عقد قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ قاضی انشاء عقد کا قصد نہیں کرتا ‘ بلکہ مدعی نے جس عقد کا دعوی کیا تھا قاضی اس کو ثابت کرتا ہے۔

امام ابوحنیفہ نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ حضرت علی (رض) کی عدالت میں ایک شخص نے ایک عورت پر نکاح کا دعوی کیا اور اس کے ثبوت میں دو گواہ پیش کردیئے۔ حضرت علیرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے درمیان نکاح کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اگر اس نکاح کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے تو پھر آپ میرا اس سے نکاح کر دیجئے کیونکہ ہمارے درمیان نکاح نہیں ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا : تمہارے گواہوں نے تمہارا نکاح کردیا ‘ دیکھئے اس عورت نے زنا سے بچنے کے لیے عقد کا مطالبہ کیا ‘ لیکن حضرت علی نے اس کا مطالبہ پورا نہیں کیا ‘ ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ حضرت علی (رض) نے ان کے در میان نکاح کا مطالبہ اس لیے پورا نہیں کیا کہ اس کا خاوند راضی نہیں تھا لیکن یہ غلط خیال ہے کیونکہ اس کا خاوند نکاح پر راضی تھا ‘ اسی وجہ سے وہ نکاح کا دعوی کر رہا تھا اور عورت بھی راضی تھی ‘ کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میرا اس سے یہ نکاح نہیں کیا ‘ بلکہ یہ بیان فرمایا کہ ان کے فیصلہ سے ان کا مقصود حاصل ہوگیا ‘ اور یہ فرمایا کہ تمہارے گواہوں نے تمہارا نکاح کردیا یعنی ان گواہوں نے تمہارے درمیان نکاح کا فیصلہ مجھ پر لازم کردیا ‘ لہذا اس فیصلہ سے نکاح ثابت ہوگیا اور حضرت علی کا یہ اثر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث مرفوع کے حکم میں ہے ‘ کیونکہ اس حکم کو عقل اور قیاس سے جاننا ممکن نہ تھا۔

حضرت علی (رض) کے اس اثر سے یہ واضح ہوگیا کہ قرآن مجید کی آیت (ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ) اور حدیث ” اگر میں (ظاہری حجت) کی بناء پر کسی شخص کے لیئے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں تو میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کر رہا ہوں ‘ املاک مرسلہ (سبب ملکیت بتائے بغیر کسی چیز پر ملکیت کا دعوی کرنا) کے بارے میں وارد ہے اور امام ابوحنیفہ اس کے قائل ہیں اور اس کی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن معاملات میں قاضی کی انشاء کی ولایت دی ہے ‘ قاضی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان معاملات میں فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ فیصلہ حقیقتا نافذ ہوگا ‘ کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ قاضی کو فیصلہ کرنے کا حکم دے پھر اس فیصلہ کے نفاذ کو روک دے۔ قاضی اس بات کا مکلف تھا کہ علی الاعلان اور خفیہ طریقہ سے گواہوں کی عدالت کے باے میں معلومات حاصل کرے اور جب اس نے تزکیہ شہود کرلیا اور اس کے نزدیک گواہوں کی عدالت ثابت ہوگئی تو اس گواہی کے مطابق اس پر فیصلہ کرنا واجب ہے ‘ حتی کہ اگر اس نے یہ فیصلہ نہ کیا تو وہ گنہگار ہوگا اور اس کو اس کے عہدہ سے معزول کردیا جائے گا اس لیے ہم کو یہ معلوم ہوگیا کہ قاضی فیصلہ کرنے پر مامور ہے اور حقیقت میں کسی گواہ کے صدق یا کذب کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور جس چیز کی حقیقت کو جاننے کا کوئی شرعی طریقہ نہ ہو قاضی اس کے جاننے کا شرعا مکلف بھی نہیں ہے ‘ کیونکہ انسان کو اس کی وسعت اور طاقت کے اعتبار سے مکلف کیا جاتا ہے اور قاضی کی وسعت میں صرف اتنا ہی تھا کہ وہ گواہوں کے احوال کی جانچ پڑتال کرے اور جب اس نے اچھی طرح تزکیہ شہود کرلیا تو وہ اپنے عہدہ سے بری الذمہ ہوگیا اور اس پر لازم ہوگیا کہ وہ گواہوں کی گواہی کے اعتبار سے فیصلہ کردے ‘ اور قاضی کے فیصلہ پر ظاہرا اور باطنا عمل کرنا واجب ہے ورنہ قاضی کو قضاء پر مامور کرنا عبث ہوگا ‘ اور اس صورت میں قضاء کے دو طریقے تھے : ایک نکاح کا اظہار کرنا ‘ دوسرا عقد نکاح کردینا ‘ اور جب ان کے درمیان عقد نکاح نہیں تھا تو اس فیصلہ سے نکاح کا اظہار کرنا متعذر ہے ‘ اس لیے اب انشاء نکاح متعین ہوگیا ‘ کیونکہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے ‘ لہذا دلیل شرعی کی اس نوع سے قاضی کے لیے ولایت انشاء ثابت ہوگی اور جس طرح اور نزاعی معاملات میں قاضی کی ولایت انشاء سے فیصلہ نافذ العمل ہوتا ہے اس صورت میں بھی قاضی کا فیصلہ نافذ العمل ہوگا بلکہ یہاں زیادہ اولی ہے۔

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جب شوہر اور بیوی آپس میں لعان کرتے ہیں تو قاضی کو انشاء تفریق کی ولایت حاصل ہوتی ہے اور وہ اسی اختیار سے زوجین کے درمیان تفریق کردیتا ہے اسی طرح قاضی ولایت انشاء تزویج سے نابالغ بچہ اور نابالغ بچی کا نکاح کردیتا ہے ‘ لہذا اس صورت میں بھی اس کو ولایت انعقاد عقد نکاح حاصل ہے تاکہ وہ عورت کو زنا سے محفوظ رکھ سکے اور قاضی کا یہ فیصلہ عورت کو زنا کا موقع دینے سے بچاتا ہے۔ جب دو فریق لعان کرتے ہیں تو ایک فریق یقیناً کاذب ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو ایک فریق یقیناً کاذب ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور باوجود اس حقیقت کے کہ ان میں سے کوئی ایک کاذب ہے اس جھگڑے کو ختم کرنے کیلیے قاضی کو ولایت انشاء تفریق حاصل ہوتی ہے اور قاضی ان کے درمیان تفریق کردیتا ہے ‘ اسی طرح یہاں بھی گواہوں کے جھوٹے ہونے باوجود قاضی کو انشاء نکاح کی ولایت حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ شرعیا قضاء کرنے پر مامور ہے۔ (المبسوط ج ١٦ ص ١٨٣۔ ١٨٠‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں : حضرت علی ‘ حضرت ابن عمر ‘ اور امام شعبی کا بھی اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی طرح مؤقف ہے ‘ امام ابویوسف نے عمرو بن مقدام سے روایت کیا ہے کہ ایک قبیلہ کے ایک شخص نے ایک ایسی عورت کو نکاح کا پیغام دیا ‘ جو شرف اور مرتبہ میں اس سے زیادہ تھی ‘ اس عورت نے اس شخص سے نکاح کرنے سے انکار کردیا ‘ اس شخص نے یہ دعوی کردیا کہ اس کا عورت سے نکاح ہوچکا ہے اور حضرت علی کی عدالت میں اس پر دو گواہ پیش کردیئے۔ اس عورت نے کہا : میرا اس شخص سے نکاح نہیں ہوا ‘ حضرت علی نے فرمایا ان دو گواہوں نے تمہارا نکاح کردیا ‘ امام ابویوسف کہتے ہیں کہ شعبہ بن حجاج ‘ زید سے روایت کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف جھوٹی گواہی دی کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دے دی ہے قاضی نے ان کے درمیان تفریق کردی ‘ پھر ان گواہوں میں سے ایک شخص نے اس عورت سے نکاح کرلیا ‘ شعبی نے کہا : یہ جائز ہے اور حضرت ابن عمر نے ایک غلام کو عیب سے مبرا قرار دے کر فروخت کردیا ‘ خریدار اس ٖغلام کو حضرت عثمان کی عدالت میں لے گیا ‘ حضرت عثمان نے حضرت ابن عمر سے کہا : کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتے ہو کہ جب تم نے اس کو فروخت کیا تھا تو تم نے اس کو بیماری کو نہیں چھپایا تھا ‘ حضرت ابن عمر نے قسم کھانے سے انکار کردیا ‘ اس مسئلہ میں حضرت ابن عمر (رض) نے غلام کی بیع کو جائز قرار دیا حالانکہ ان کو علم تھا کہ باطن میں ایسا نہیں ہے اور باطن کا حکم ظاہر کے خلاف ہے (کیونکہ انہوں نے بری الذمہ ہو کر غلام کو فروخت کیا تھا اس وجہ سے باطن میں اس غلام کو واپس کرنا صحیح نہیں تھا) اگر حضرت عثمان کو بھی حضرت ابن عمر کی طرح اس بات کا علم ہوتا تو وہ بیع کو رد نہ کرتے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عمر کا بھی یہ مذہب تھا کہ اگر حاکم عقد کو فسخ کردے تو وہ بائع کی ملک میں آجاتا ہے ‘ اگرچہ باطن میں حقیقت اس کے برعکس ہو۔

امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت بھی دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہلال بن امیہ اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا ‘ پھر فرمایا : اگر اس عورت کے ہاں اس طرح کا بچہ ہوا تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے اور اگر دوسری شکل و صورت کا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا جس کے ساتھ ہلال بن امیہ کی بیوی کو متہم کیا گیا تھا ‘ پھر اس عورت کے ہاں ناپسندیدہ صورت پر بچہ پیدا ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ان کے درمیان لعان نہ ہوچکا ہوتا تو پھر میں اس عورت کو دیکھتا : ہلال بن امیہ کا صدق اور اس کی بیوی کا کذب ظاہر ہوگیا ‘ اس کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس تفریف کو باطل نہیں کیا جو لعان کی وجہ سے ہوئی تھی اور یہ اس کی دلیل ہے کہ حاکم جب کسی عقد کو فسخ کردے تو وہ ظاہرا اور باطنا نافذ ہوجاتا ہے۔

امام ابوحنیفہ کے اس قول پر اس سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ جب حاکم کے پاس ایسے گواہ گواہی دیں جن کا ظاہری حال صدق ہو تو حاکم پر واجب ہے کہ ان کی گواہی کے اعتبار سے فیصلہ کرے اور اگر اس نے گواہی کے بعد فیصلہ کرنے میں توقف کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا تارک اور گنہ گار ہوگا کیونکہ اس کو ظاہر کا مکلف کیا گیا ہے اور اس کو اس علم باطن کا مکلف نہیں کیا گیا جو اللہ تعالیٰ کا غیب ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٢٥٣ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ برباتی حنفی اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو چیز پہلے ثابت ہو اس کا اظہار قضا ہوتا ہے اور جو چیز پہلے نہ ہو اس کا اثبات قضاء نہیں ہوتا ہے اور جو چیز پہلے نہ ہو اس کا اثبات قضاء نہیں ہوتا اور نکاح پہلے ثابت نہیں تھا تو پھر کس طرح قضاء باطنا نافذ ہوگی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح بہ طریق اقتضاء مقدم ہے گویا کہ قاضی نے اس عورت سے کہا : میں نے اس شخص سے تیرا نکاح کردیا اور تم دونوں کے درمیان نکاح کا حکم کردیا تاکہ ان کے درمیان نزاع نہ رہے اور وہ شخص اس عورت کے ساتھ وطی کرسکے۔ بعض علماء نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ نزاع ختم کرنے کے لیے یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ قاضی اس شخص سے کہتا کہ تم اس عورت کو طلاق دے دو ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ طلاق سے کیا مرا د ہے طلاق مشروع یا طلاق غیر مشروع ؟ طلاق غیر مشروع کا تو کوئی اعتبار نہیں ہے اور طلاق مشروع اس کی مقتضی ہے کہ اس سے پہلے نکاح ثابت ہونا چاہیے ‘ لہذا ہرحال میں نکاح کا قول کرنا پڑے گا۔ (عنایہ علی ھامش فتح القدیر ج ٣ ص ١٥٤‘ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 188