بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَهِلَّةِ ‌ؕ قُلۡ هِىَ مَوَاقِيۡتُ لِلنَّاسِ وَالۡحَجِّ ؕ وَلَيۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ ظُهُوۡرِهَا وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰى‌ۚ وَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

لوگ آپ سے ہلال (پہلی تاریخ کے چاند) کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہیے : یہ لوگوں کے (دینی اور دنیاوی کاموں) اور حج کے اوقات کی نشانیاں ہیں ‘ اور یہ کوئی نیکی کا کام نہیں کہ تم گھروں میں پیچھے سے داخل ہو ‘ لیکن (حقیقت میں) نیکی اس شخص کی ہے جو تقوی اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو ‘ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو

اسلامی تقویم کا بیان :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے روزوں کے مہینہ اور روزوں کے دن اور رات کے احکام بیان فرمائے ‘ اسلام کے بہت سے احکام ھلال کے طلوع پر موقوف ہیں مثلا قربانی اور حج ‘ عید الفطر اور رمضان ‘ عدت وفات کی گنتی ٤ ماہ ١٠ اور جس کے حیض کی مدت تین ماہ ہو اور زکوۃ کی ادائیگی کے لیے ایک سال کا تعین ‘ ایلاء کے لیے ٤ ماہ کا تعین ‘ کفارہ کے روزوں کیلیے ٢ ماہ کا تعین ‘ ان تمام امور میں مدت کا تعین ھلال کے طلوع سے ہوتا ہے ‘ یہ تو دین کے احکام ہیں اور دنیا کے احکام میں مثلا ٤ ماہ بعد کسی نے قرض کی ادائیگی کرنی ہو یا اسی طرح کا کوئی اور معاملہ ہو تو وہ چاند پر موقوف ہے۔ لوگ آپ سے چاند کے گھٹنے ‘ بڑھنے کی کیفیت اور اس کی ماہیت کے متعلق سوال کرتے تھے کہ کیا وجہ ہے کہ چاند کبھی ایک باریک لکیر کی طرح نظر آتا ہے ‘ کبھی موٹی لکیر کی طرح ‘ کبھی آدھا اور کبھی پورا چاند نظر آتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ اس میں تمہارے دین اور دنیا کے کاموں اور خصوصا حج کے اوقات کی نشانیاں ہیں اور اس جواب سے اس امر پر متنبہ کیا کہ چاند کے گھٹنے ‘ بڑھنے سے تمہارے دینی اور دنیاوی کاموں کی جو غرض متعلق ہوتی ہے تمہیں صرف اس سے سروکار رکھنا چاہیے ‘ باقی رہا چاند کا کبھی آدھا اور کبھی پورا نظر آنا تو اس کا تعلق علم ہیئت ‘ علم نجوم اور علم الافلاک سے ہے اور نبی کا منصب احکام شرعیہ بیان کرنا ہے ‘ علم توقیت کے احکام بیان کرنا نبی کا منصب نہیں ہے۔

تاہم اس سے یہ سمجھنا غلط ہے کہ قمری تقویم اسلامی ہے اور شمسی تقویم غیر اسلامی ہے۔ چاند اور سورج دونوں اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور دونوں کی گردش بھی اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ہے ‘ بعض عبادات چاند کی گردش کے حساب سے ہیں ‘ جیسے حج ‘ رمضان اور عیدین اور بعض عبادات سورج کی گردش کے حساب سے مربوط ہیں ‘ جیسے ہر روز کی پانچ نمازیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” وجعلنا الیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربک ولتعلموا عددالسنین والحساب “۔ (بنواسرائیل : ١٢)

ترجمہ : اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے ‘ پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو دیکھنے کا ذریعہ بنادیا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کو (روزی کو) حاصل کرسکو اور تم برسوں کی گنتی اور (دوسرے) حساب کو جان سکو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شمسی تقویم سے کیا جائے تو وہ بھی اسلام کے مطابق ہے اسی طرح بیع وشراء اور دوسرے کاروباری معاملات کو شمسی تقویم سے حاصل کرنا جائز ہے اور غیر اسلامی نہیں ہے۔

اپنی طرف سے عبادت کے طریقے مقرر کرنے کی مذمت :

جس طرح چاند کے گھٹنے ‘ بڑھنے کی علت کو دریافت کرنا کوئی نیکی نہیں تھی ‘ اسی طرح حج کے موقع پر گھروں میں پیچھے سے داخل ہونا بھی کوئی نیکی نہیں ہے ‘ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار جب حج کرکے لوٹتے تو گھروں میں دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ پیچھے سے داخل ہوتے تھے ‘ ایک انصاری حج کے بعد گھر میں دروازہ سے داخل ہوا تو لوگوں نے اس کو ملامت کی ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ گھروں میں پیچھے سے داخل ہونا کوئی نیکی نہیں ہے ‘ حقیقت میں نیکی خوف خدا سے گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٠٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس سے معلوم ہوا کہ اپنی عقل سے عبادت کے طور طریقے وضع کرنا جائز نہیں ہے ‘ لوگ اپنی عقل سے عبادت کے طریقے وضع کرلیتے ہیں پھر اس کی تائید میں دلائل شرعیہ تلاش کرتے ہیں اور جو ان کے بنائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت نہ کریں ان کو لعنت ملامت کرتے ہیں ‘ اسی کا نام احداث فی الدین اور بدعت سیۂ ہے ‘ عبادت صرف اسی طریقہ سے کرنی چاہیے جس طریقہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبادت کی ہے اور جس طرح آپ نے ہدایت دی ہے اور جماعت صحابہ کا اس پر عمل رہا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 189