حدیث نمبر :94

روایت ہے عبداﷲ بن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک بارحضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ دستِ اقدس میں دوکتابیں تھیں ۱؎ فرمایا کہ کیا جانتے ہو یہ کیا کتابیں ہیں۲؎ ہم نے عرض کیا یارسو ل اﷲ آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے ۳؎ تو داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا کہ یہ کتاب رب العلمین کے پاس سے آئی ہے ۴؎ جس میں تمام جنتیوں کے نام اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کاٹوٹل لگادیا گیا ہے۵؎ لہذا ان میں کبھی زیادتی کمی نہیں ہوسکتی ۶؎ پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایاکہ یہ کتاب اﷲ رب العلمین کی طرف سے آئی ہے ۷؎ اس میں دوزخیوں اور ان کے باپ دادوں اور قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک کا ٹوٹل لگادیا گیااب ان میں کبھی زیادتی اور کمی نہیں ہوسکتی ۸؎ صحابہ نے عرض کیا عمل کا ہے میں رہا یارسول اﷲ اگر اس معاملہ سے فراغت ہوچکی۹؎ فرمایا سیدھے رہو قرب الٰہی حاصل کرو۱۰ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ؎ کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی بھی کام کرے اور یقینًادوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے کام پرہوتا ہے اگرچہ پہلے کوئی عمل کرے۔پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستِ مبارک سے اشارہ فرما کر انہیں جھاڑدیا۱۱؎ پھر فرمایا کہ تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ایک ٹولہ جنتی اور دوسرا ٹولہ دوزخی ہے۱۲؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی ایک دائیں ہاتھ میں اور دوسری بائیں میں،حق یہی ہے کہ کتابیں حسی تھیں جنہیں صحابہ کرام دیکھ رہے تھے نہ کہ فقط خیالی اور وہمی جیسا کہ بعض نے وہم کیا ہے۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)اگلی عبارت سےبھی یہی ظاہر ہے۔

۲؎ یعنی یہ دونوں کتابیں جو تم میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہو کس مضمون کی ہیں اور ان میں کیا لکھا ہے،اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کتابیں نظر آرہی تھیں ورنہ ھذان سے اشارہ نہ فرمایا جاتا۔نیز پھرصحابہ پوچھتے کہ حضورکون سی کتابیں اور وہ کہاں ہیں؟

۳؎ یعنی کتابیں تو دیکھ رہے ہیں مگر اس کے مضمون سے بے خبر ہیں اگر آپ اطلاع بخشیں توخبردار ہوجائیں،معلوم ہوا کہ حضور کتابوں کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کتابوں کے تفصیلی عالم بھی ہیں اور لوگوں کو وہ کتابیں پڑھا اور بتا بھی سکتے ہیں یہی صحابہ کا عقیدہ تھا۔

۴؎ جس میں ربٍ تعالٰی کے خصوصی علم کا اظہار ہے۔

۵؎ اس طرح کہ ساری کتاب میں جنتیوں کے نام،پتے،کام تو فہرست میں ہیں اور آخر میں ٹوٹل کہ کل اتنے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جنتی و دوزخی کا تفصیلی علم بخشا ان کے باپ،دادوں،قبیلوں اور اعمال پرمطلع کیا،یہ حدیث حضور کے علم کی تابندہ دلیل ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔

۶؎ یعنی رب نے اس میں تقدیر مبرم کی تفصیل فرمائی ہے اور مجھے اس کا علم بخشا ہے،تقدیر معلق اور مشابہ معلق میں زیادتی کمی ممکن ہے۔خیال رہے کہ لوح محفوظ میں محوواثبات کی تحریر بھی ہے اور اُ مّ الکتاب میں صرف قضائے مبرم کی۔لوح محفوظ تک ملائکہ کا علم پہنچتا ہے مگر میرے حضور کا علم اُمّ الکتاب تک ہے۔(ازمرقات)یہاں صحابہ کرام کو اجمالی طور پر بتایا گیا۔

۷؎ بلاواسطۂ فرشتہ یا بواسطۂ فرشتہ ام الکتاب سے نقل ہوکر جہاں کی فرشتوں کو بھی خبر نہیں کیونکہ یہ قضاء مبرم ہے جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے۔

۸؎ اس سے پتہ لگا کہ اﷲ نے اپنی قضاءمبرم پرحضور کومطلع فرمایا۔

۹؎ یعنی انجام کا دارو مدار رب کی تحریر پر ہے نہ کہ ہمارے عمل پر،پھر اعمال کی ضرورت ہی کیا رہی۔

۱۰؎ یعنی اعمال نیک اور عقائد صحیح اختیارکرو تاکہ تمہیں اﷲ کا قرب حاصل ہو۔

۱۱؎ یعنی ہاتھوں کو جھٹکا دیا جس سے دونوں کتابیں غائب ہوگئیں یا کتابوں کو عالمِ غیب کی طرف پھینکا،یہ پھیکنا ان کی اہانت کے لیے نہ تھا نہ اس سے وہ کتابیں زمین پر گریں۔

۱۲؎ یہ قرآن پاک کی آیت سے اقتباس ہے اور بندوں سے مراد انسان ہیں کیونکہ جنت میں ثواب کے لیے انسانوں کے سوا کوئی نہ جائے گا یہ آدم علیہ السلام کی میراث ہے انہی کی اولادکو ملیگی۔