بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ اَخۡرَجُوۡكُمۡ‌ وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡهُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوۡكُمۡ فِيۡهِ‌ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡكُمۡ فَاقۡتُلُوۡهُمۡؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ‏

اور تم ان (کافروں) کو قتل کرو جہاں تم انہیں پاؤ ‘ اور ان کو نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے ‘ اور (شرک اور ارتداد کا) فساد قتل سے بڑھ کر ہے ‘ اور مسجد حرام کے پاس ان سے اس وقت تک جنگ نہ کرو ‘ جب تک کہ یہ تم سے وہاں جنگ نہ کریں ‘ اگر یہ تم سے جنگ کریں تو تم ان کو قتل کردو ‘ اسی طرح کافروں کی سزا ہے

خلاصہ آیات :

اور جب تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان جنگ اپنے پنچے گاڑ دے تو پھر تم ان کو جہاں اور جس جگہ پاؤ قتل کردو ‘ خواہ سر زمین حرم ہو اور ان کو مکہ سے نکال باہر کرو ‘ جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا تھا ‘ یہ ایمان نہیں لاتے اور الٹا تم کو کفر کی طرف لوٹانا چاہتے ہیں حالانکہ شرک اور ارتداد کا فساد قتل اور خون ریزی کے فساد سے زیادہ بڑا ہے ‘ نیز یہ تم کو سرزمین حرم میں قتال کرنے پر ملامت کرتے ہیں ‘ حالانکہ شرک اور کفر کا فساد حرم میں قتال کرنے سے زیادہ بڑا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور مسجد حرام کے پاس ان سے اس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک کہ یہ تم سے وہاں جنگ نہ کریں۔ (البقرہ : ١٩١)

حرم میں ابتداء قتال کرنے کی ممانعت کا منسوخ ہونا اور کفار سے مدافعانہ جنگ کا جائز ہونا :

اس آیت کے منسوخ ہونے یا منسوخ نہ ہونے میں دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ پہلے مشرکین سے حرم میں ابتداء جنگ کرنے کی اجازت نہیں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ جب تک مشرکین مسجد حرام کے پاس جنگ نہ کریں ان سے جنگ نہ کرو پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اس آیت سے منسوخ کردیا :

(آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں پاؤ انہیں قتل کردو۔

مجاہد اور طاؤس نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور مکہ مکرمہ میں ابتداء کسی سے جنگ کرنا جائز نہیں ہے ‘ ہاں ! اگر کافر اور مشرک مسلمانوں پر حرم میں حملہ کریں تو ان کے خلاف مدافعانہ جنگ کرنا جائز ہے۔ (امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ جامع البیان ج ٢ ص ١١٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) اور یہی صحیح قول ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے۔ اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو شریح (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرم بنایا ہے ‘ اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا ‘ سو جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور نہ اس کے کسی درخت کو کاٹے ‘ اگر کوئی شخص مکہ میں قتال کے جواز پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتال سے استدلال کرے تو اس سے کہو : اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی ‘ اور میرے لیے دن کی ایک ساعت میں اجازت دی گئی تھی ‘ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح اس کی کل حرمت تھی اور جو شخص (یہاں) حاضر ہے وہ غائب کو (یہ حدیث) پہنچا دے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٦ ہجری میں اپنے اصحاب ساتھ مکہ مکرمہ عمرہ کرنے کے لیے گئے ‘ جب آپ حدیبہ کے قریب پہنچے تو مشرکین نے آپ کو مکہ مکرمہ جانے سے منع کردیا ‘ آپ ایک ماہ تک حدیبہ میں ٹھہرے اور مشرکین سے اس بات پر صلح ہوئی کہ آپ اگلے سال عمرہ کرنے کیلیے آئیں اور اگلے سال تین دن آپ مکہ مکرمہ میں ٹھہرسکیں گے ‘ اور اس بات پر صلح ہوئی کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی ‘ پھر آپ مدینہ لوٹ گئے اور جب آپ اگلے سال ٧ ہجری میں اس عمرہ کو ادا کرنے کے لیے آئے تو مسلمانوں کو کفار کی عہد شکنی کا خطرہ ہوا ‘ اور ہو حرمت والے مہینہ میں حرم میں جنگ کرنے کو برا جانتے تھے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر کفار تم سے حرم میں جنگ کریں تو تمہارے لیے بھی حرم میں جنگ کرنا جائز ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٣٤٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 191