بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ

اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ بیشک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ (البقرہ : ١٩٠)

اجازت جہاد کی پہلی آیت کا بیان :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے روزہ کا ذکر فرمایا تھا ‘ اور اب جہاد کا ذکر فرما رہا ہے ‘ روزہ اور جہاد میں ایک گونہ مناسبت ہے ‘ کیونکہ دونوں میں دنیا کو ترک کرنا پڑتا ہے ‘ نیز حدیث میں ہے : میری امت کی سیاحت روزہ ہے اور میری امت کی رہبانیت جہاد ہے ‘ اور اصل اور اہم عبادات میں سے بعض کی ادائیگی کے لیے اوقات مخصوص مقرر ہیں جیسے نماز ‘ روزہ ‘ زکوۃ اور حج اور بعض امہات عبادات کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں ہے جیسے جہاد اور ذکر ‘ تو پہلے عبادات موقتہ کا ذکر فرمایا ‘ اب عبادات غیر موقتہ میں سے جہاد کا ذکر شروع فرمایا ہے۔

بعض علماء نے کہا کہ یہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا اور یہ پابندی لگائی کہ جو تم سے جنگ کریں ان سے جنگ کرو اور جو تم سے جنگ نہ کریں ان کے خلاف تلوار نہ اٹھاؤ ‘ پھر اس کے بعد سورة توبہ کی آیت سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ‘ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ربیع بیان کرتے ہیں کہ یہ پہلی آیت ہے جو مدینہ میں قتال کے متعلق نازل ہوئی ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ان کے خلاف جہاد کرتے جو آپ پر حملہ آور ہوتے اور جو آپ حملہ نہ کرتے آپ بھی ان سے جنگ نہ کرتے ‘ حتی کہ سورة توبہ نازل ہوگئی۔

ابن زید نے کہا : سورة بقرہ کی اس آیت کو سورة توبہ کی حسب ذیل آیت نے منسوخ کردیا :

(آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں پاؤ انہیں قتل کردو اور انہیں پکڑو اور ان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو۔

ان علماء کی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ جو تم سے نہ لڑیں ان سے نہ لڑو اور سورة توبہ کے نازل ہونے کے بعد یہ پابندی منسوخ ہوگئی اس کے برعکس دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی اور حد سے تجاوز کرنے سے جو منع فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں ‘ بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو۔

قتال اور جہاد میں بچوں ‘ بوڑھوں اور عورتوں وغیرہ کو قتل کرنے کی ممانعت :

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حد سے تجاوز نہ کرو ‘ کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں ‘ بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو اور نہ اس کو قتل کرو جو ہتھیار ڈال دے ‘ اگر تم نے ان کو قتل کیا تو تم حد سے تجاوز کرنے والے ہوگے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١١١۔ ١١٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو لشکر کا امیر بناتے تو اس کو خصوصیت کے ساتھ خوف خدا کی وصیت کرتے اور فرماتے : بسم اللہ پڑھ کر جہاد کرو ‘ اور جو اللہ کا کفر کرے اس سے قتال کرو اور خیانت نہ کرنا ‘ عہد شکنی نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا (کسی کے اعضاء نہ کاٹنا) اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا۔ الحدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام مالک ‘ یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی سفیان کی قیادت میں شام کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان کو یہ وصیت کی : عنقریب تم راہبوں سے ملوگے ‘ جنہوں نے اپنے زعم میں خود کو اللہ کے لیے وقف کیا ہوا ہے ان کو چھوڑ دینا ‘ اور عنقریب تم مجوسیوں سے ملو گے جو سر کے درمیان سے بال کاٹنتے ہیں ان کو قتل کردینا ‘ اور میں تم کو دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں : کسی عورت کو قتل نہ کرنا ‘ نہ کسی بچے کو ‘ نہ کسی بوڑھے کو اور نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا ‘ اور نہ کسی بکری یا اونٹ کی کونچیں کاٹنا اور نہ کسی کھجور کے درخت کو جلانا ‘ نہ کسی آبادی کو ویر ان کرنا اور نہ کسی کو غرق کرنا اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا اور نہ بزدلی کرنا (موطا امام مالک ص ٤٦٦“ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور)

ہجرت سے پہلے کفار سے قتال کرنا ممنوع تھا ‘ اس پر حسب ذیل آیات دلالت کرتی ہیں :

(آیت) ” ادفع بالتیھی احسن السیءۃ ‘ نحن اعلم بما یصفون “۔۔ (المومنون : ٩٦)

ترجمہ : برائی کو اچھائی سے دفع کیجئے ‘ آپ کے متعلق جو یہ باتیں بناتے ہیں ہم انہیں خوب جانتے ہیں۔

(آیت) ” فاعف عنھم واصفح “۔ (المائدہ : ١٣)

ترجمہ : آپ ان مشرکین کو معاف کردیجئے اور ان سے درگزر کیجئے :

(آیت) ” واصبر علی مایقولون واھجرھم ھجرا جمیلا۔ وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومھلھم قلیلا “۔۔

ترجمہ : اور کافر جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور ان کو خوش اسلوبی سے چھوڑ دیجئے۔ اور جھٹلانے والے مال داروں کو مجھ پر چھوڑ دیجئے ‘ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیجئے۔

(آیت) ” فان تولوا فانما علیک البلغ المبین “۔۔ (النحل : ٨٢)

ترجمہ : سو اگر یہ اعراض کریں ‘ تو آپ کا کام تو صرف صاف صاف احکام پہنچا دینا ہے۔۔

(آیت) ” فذکر ‘ انما انت مذکر ،۔ لست علیہم بمصیطر “۔۔ (الغاشیہ : ٢٢۔ ٢١)

ترجمہ : سو آپ نصیحت کیجئے ‘ آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ آپ انکو جبر سے منوانے والے نہیں ہیں۔

(آیت) ” وما انت علیہم بجبار “۔ (ق : ٤٥)

ترجمہ : اور آپ انکو جبر سے منوانے والے نہیں ہیں۔

ان آیات میں کفار کی ایذا رسانیوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ پہلی آیت جس میں انکے حملوں کے جواب میں حملہ کرنے کا حکم دیا ہے اور سورة بقرہ کی زیر بحث آیت ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک یہی راجح ہے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : سب سے پہلے جس آیت میں جہاد کی اجازت دی گئی ہے وہ یہ آیت ہے :

(آیت) ” اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا “۔ (الحج : ٣٩)

ترجمہ : جن (مسلمانوں) سے ناحق قتال کیا جاتا ہے ان کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة بقرہ کی مذکورہ آیت حقیقۃ پہلی ہو اور سورة حج کی یہ آیت اضافۃ پہلی ہو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 190