بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ فَاِنِ انتَهَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ

اور ان سے جہاد کرتے رہو حتی کہ فتنہ (شرک) نہ رہے ‘ اور اللہ ہی کا دین رہ جائے ‘ پھر اگر وہ (شرک سے) باز آجائیں تو صرف ظالموں کو ہی سزا دی جائے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان سے جہاد کرتے رہو حتی کہ فتنہ (شرک) نہ رہے ‘ اور اللہ ہی کا دین رہ جائے گا پھر اگر وہ (شرک سے) باز آجائیں تو صرف ظالموں کو ہی سزا دی جائے۔۔ (البقرہ : ١٩٣)

اللہ تعالیٰ کے دین کا مطلب ہے : اللہ کی اطاعت ‘ یعنی انسان دین اور دنیا کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کریں ‘ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق عبادت کریں ‘ اس کے آگے سرجھکائیں اور اسی سے اپنی حاجات طلب کریں اور اپنی انفرادی ‘ عائلی ‘ اجتماعی ‘ نجی ‘ تمدنی اور کاروباری زندگی کے تمام معاملات میں اسی کے دیئے ہوئے نظام پر عمل کریں ‘ اس کے برعکس اسلام کے علاوہ تمام ادیان اور مذاہب میں لوگ خود ساختہ طریقوں سے عبادت کرتے ہیں اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہیں ‘ اللہ ت تعالیٰ یہ فرماتا ہے : انسانوں کو انسانوں کی بندگی کرنے سے آزاد کراؤ اور سب انسانوں کو اللہ کی اطاعت میں داخل کردو اور جو شخص بھی اس مہم میں مزاحمت کرے اس کے خلاف قتال اور جہاد کرو حتی کہ ساری دنیا کے انسان اللہ کے مطیع ہوجائیں۔ اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ ہر اس مشرک اور کافر کے خلاف جہاد کیا جائے جو دعوت اسلام کو مسترد کردے اور اسلام نظام برپا کرنے کی مہم میں مزاحم ہو ‘ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ یہ شہادت نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ‘ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں جب وہ ایسا کریں گے تو حق اسلام کے ماسوا وہ اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 193