حدیث نمبر :98

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتےہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اﷲ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو ایک مٹھی سے پیدا کیا جو تمام روئے زمین سے لی گئی ۱؎ لہذا اولاد آدم زمین کے اندازے پر آئی۲؎ ان میں سرخ سفید اور کالے اور درمیانے ۳؎ اور نرم وسخت پلید و پاک ہیں۴؎ اسے احمدوترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ اس طر ح کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے ہرقسم کی زمین سے تھوڑی تھوڑی مٹی حاصل کی اور اس کو ہر قسم کے پانی میں گوندھا چونکہ حضرت عزرائیل نے ہی یہ مٹی اٹھا ئی تھی،اس لیے جان نکالنے کا کام بھی انہیں کے سپرد کیا،تاکہ زمین کی امانت وہی واپس کریں۔ا س سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کے بندوں کے کام رب کی طرف منسوب ہوتے ہیں،دیکھو مٹی جمع کرنے والے حضرت ملک الموت ہیں مگر فرمایا گیا رب تعالٰی نے جمع فرمائی۔اس کی پوری تحقیق ہماری”تفسیرنعیمی”میں دیکھئے۔

۲؎ یعنی چونکہ مٹیاں مختلف تھیں لہذا انسانوں کی صورتیں اورسیرتیں بھی مختلف ہوئیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام انسانوں کے اجزائے اصلیہ آدم علیہ السلام میں موجود تھے،جیسے تمام کی روحیں آپ کی پشت میں تھیں،انبیائے کرام کے اصلی اجزاء نورانی تھے دوسروں کے ظلمانی،حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو نوراﷲ اس واسطے کہا جاتا ہے کہ آپ کی روح بھی نور ہے اورجسم بھی نورانی،ورنہ صرف روح تو سب کی نور ہے۔

۳؎ یعنی سانولے یا سفیدی سرخی سے مخلوط یعنی جن کی خلقت میں سفید مٹی کے اجزاء غالب آگئے وہ سفید ہوگئے،کالی مٹی کے اجزاء جن میں غالب آئے وہ کالے،جہاں دونوں برابر رہے وہ سانولے یا سرخ سفید۔

۴؎ یعنی جیسے انسانوں کی مختلف صورتیں مختلف مٹیوں کی وجہ سے ہیں ایسے ہی ان کی سیرتیں بھی مختلف مٹیوں کے اثرات سے مختلف ہیں کہ جن میں نرم مٹی کے اجزاءغالب ہیں ان کی طبیعت نرم ہے،اور سخت مٹی والوں کی طبیعت بھی سخت،جو گندی مٹی سے بنے وہ طبیعت کے گندے ہیں،پاک مٹی والے طبیعت کے پاک صاف۔خیال رہے کہ جیسے جسم کا اصلی رنگ نہیں بدلتا ایسے ہی انسان کی اصلی فطرت نہیں بدلتی،اور جیسے پوڈر یا سیاہی کا عارضی رنگ اترجاتا ہے،ایسے ہی طبیعت کی عارضی حالتیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ابوجہل کا کفر اصلی تھا نہ دُھل سکا،عمر فاروق کا عارضی،ایک نگاہِ مصطفے نے دھوکرپھینک دیا۔