بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلشَّهۡرُ الۡحَـرَامُ بِالشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ وَالۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ

حرمت والے مہینہ کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے ‘ اور تمام محترم چیزوں کا بدلہ ہے ‘ سو جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں

حرمت والے مہینوں کا بیان :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر پھر اپنی اس حالت پر آگیا ہے جس حالت پر اللہ نے اس کو زمین اور آسمانوں کے پیدا کرنے کے وقت بنایا تھا ‘ سال کے بارہ مہینے ہیں ‘ تین مہینے پے درپے حرمت والے ہیں ‘ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ‘ رجب کا مہینہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٥٤‘ ج ٢ ص ٦٣٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے یہ دستور چلا آرہا تھا کہ لوگ دور دراز سے حج کے لیے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ اور محرم میں آنے جانے کا سفر کرتے تھے اور رجب کے مہینہ میں عمرہ کے لیے سفر کرتے تھے ‘ اس لیے ان مہینوں کو حرمت والے مہینے کہا جاتا تھا اور ان مہینوں کے احترام کی وجہ سے عرب میں ان مہینوں میں باہمی لڑائیوں کو موقوف کردیتے تھے ‘ بعض دفعہ جب ان کے نزدیک لڑائی ناگزیر ہوتی تو ہو محرم کو ایک مہینہ مؤخر کردیتے اور صفر کے مہینہ کو محرم قرار دیتے اور محرم میں لڑائی کرلیتے اور وہ یونہی محرم کو مؤخر کرتے رہے حتی کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کیا تو محرم گھوم کر اپنی اصلی حالت اور اصلی مہینہ میں آچکا تھا ‘ اسلام نے مہینوں کو مؤخر کرنا حرام کردیا ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” انما النسیء زیادۃ فی الکفر “۔ (التوبہ : ٣٧)

ترجمہ : مہینوں کو مؤخر کرنا صرف کفر میں زیادتی ہے۔

پہلے ان مہینوں میں جہاد کرنا ممنوع تھا لیکن حسب ذیل آیت کے نازل ہونے کے بعد یہ حرمت منسوخ ہوگئی :

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : تم مشرکین کو جہاں پاؤ انہیں قتل کردو “۔

(آیت) ” وقاتلوالمشرکین کافۃ “۔ (التوبۃ : ٣٦)

ترجمہ : اور تم مشرکین سے جنگ کرو ‘۔

بعض علماء کے نزدیک ان مہینوں میں ابتداء قتال کرنا منسوخ نہیں ہوا اور بدستور حرام ہے ‘ البتہ مدافعانہ جنگ کرنا جائز ہے ‘ لیکن صحیح رائے جمہور کی ہے۔

ان آیات کا شان نزول بھی وہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے تھے کہ ٧ ہجری میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لیے پہنچے تو مسلمانوں کو خدشہ ہوا کہ کہیں کفار عہد شکنی نہ کریں اور وہ حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنے کو بہت برا جانتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس مہینہ اور اس جگہ کی حرمت سب کے لیے یکساں ہے ‘ اگر وہ اس مہینہ اور اس جگہ میں جنگ چھیڑتے ہیں تو بھی مدافعانہ جنگ کرو اور انہوں نے تم کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے ان سے اتنا ہی بدلہ لو ‘ ان کا زیادتی کرنا ظلم اور مسلمانوں کا بدلہ لینا عدل ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے دونوں کے فعل کو ” اعتداء “ زیادتی فرمایا کیونکہ صورۃ دونوں فعل ایک جیسے ہیں :

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 194