حدیث نمبر :99

روایت ہے عبداﷲ بن عمروسےفرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ نے اپنی مخلوق اندھیرے میں پیدا کی ۱؎ پھر ان پر اپنی شعاع نور ڈالی ۲؎ جسے اس نور سے کچھ پہنچا وہ ہدایت پا گیا۳؎ جوا س سے رہ گیا گمراہ ہوگیا۴؎ اسی لیئے میں کہتا ہوں کہ قلم اﷲ کے علم پرسوکھ چکا ۵؎ (احمدوترمذی)

شرح

۱؎ یعنی جِنّ وانس نہ کہ فرشتے یہ دونوں فریق پیدائش کے وقت نفسانی اورشہوانی اندھیریوں میں تھے۔

۲؎ یعنی ایمان اورمعرفت کی روشنی معلوم ہوا کہ تاریکی ہماری اصلی حالت ہے،روشنی رب کا کرم،گناہ ہم خود کرتے ہیں،نیکی وہ کرالیتا ہے مٹی کے ڈھیلے کی طرح لیجیے ہم خود گرتے ہیں،اپنے کرم سے اوراوپر وہ اٹھالیتا ہے۔

۳؎ جنّت کے راستہ کی جن پر گہراچھینٹا پڑا وہ انبیاء یا اولیاء ہوئے جن پر ہلکا پڑا وہ مؤمن ہوئے۔

۴؎ یعنی کافر رہا،خیال رہے کہ تاریکی میں پیدائش میثاق والے اقرار سے پہلے ہے،سب لوگ پہلے ہی تقسیم ہوچکے تھے،معاہدے کے وقت مؤمن وں نے خوشی سے بلٰی کہا تھا اور کافروں نے ناخوشی سے،اسی اقرار پرماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،وہاں فطرت سے مراد یہ اقرار ہے۔

۵؎ یعنی جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا۔خیال رہے کہ اس سے انسان کا جبر لازم نہیں آتا کیونکہ وہاں یہی لکھا جاچکا ہے،کہ یہ بندہ اپنی خوشی سے یہ کام کرے گا کام بھی تحریر میں آچکے اور اس کا ارادہ اور خوشی بھی۔