حدیث نمبر :96

روایت ہے ابوہریرہ سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلہ تقدیر پر جھگڑ رہے تھے ۱؎ تو آپ ناراض ہوئے حتی کہ چہرہ انور سرخ ہوگیا گویا کہ رخساروں میں انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہیں۲؎ اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا۳؎ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کیئے تو ہلاک ہی ہوگئے۴؎ میں تم پر لازم کرتا ہوں لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو ۵؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ کہ جب جو کچھ ہم کرتے ہیں ارادۂ الٰہی سے کرتے ہیں،توہم مجبور ہوئے،پھر اس پر ثواب اور عذاب کیسا؟ وغیرہ جیسے آج کل کی عام گفتگوئیں۔

۲؎ یعنی غضب کے آثار چہرے پرنمودار ہوگئے۔حضور علیہ السلام کا یہ غصّہ نفس کے لئے نہ تھا بلکہ اﷲ تعالٰی کے لئے اورصحابہ کو تعلیم دینے کی غرض سے تھا،یہ غصہ عبادت ہے جس پر بڑا ثواب۔اس سے معلوم ہوا کہ استاد شاگردوں پر اور پیرمریدوں پر ناراض ہوسکتا ہے۔

۳؎ یعنی جن چیزوں کی تمہیں ضرورت ہے اور جن کا سوال تم سے قبر و حشر میں ہوگاان کے حاصل کرنے کی کوشش کرو،مسئلہ تقدیر میں بحث کرنے کے تم مکلف نہیں،نہ تم سے اس کا سوال ہوگا۔

۴؎ یہود و نصاریٰ کی بعض جماعتیں یا دیگر انبیاء کی امتیں جو مسئلۂ قضاء قدر میں کج بحثیاں کرکے ایمان کھو بیٹھے اور عذاب الٰہی آگیا۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسئلۂ تقدیر میں بےسمجھے بوجھے کج بحثیاں کرنا اور عوام کے دل میں اس کے متعلق شبہات پیدا کرنا حرام ہے،ایسے ہی ناسمجھ لوگوں کا اس میں زیادہ غور و فکر کرنا بھی منع،لیکن اس مسئلے کی حقانیت پر دلائل قائم کرنا،معترضین کے شبہات دور کرنا منازعت نہیں بلکہ تبلیغ ہے،مگر یہ علماء کا کام ہے عوام کا نہیں،لہذا علم کلام میں مسئلۂ تقدیر کی بحث اس زد میں نہیں آتی۔

حدیث نمبر :97

اس کی مثل ابن ماجہ نے عمرو ابن شعیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا ۱؎

شرح

۱؎ خیال رہے کہ ان کی اسناد میں اِرْسَال ہے کیونکہ ان کا نسب یہ ہے،عمرو ابن شعیب ابن محمد ابن عبداﷲ ابن عَمرو ابن عاص۔عبداﷲ ابن عمرو صحابی ہیں،شعیب نے ان سے ملاقات نہیں کی،جَدِّہ کی ضمیر شعیب کی طرف لوٹتی ہے،بعض نے فرمایا کہ اس میں ارسال نہیں ہے،اور شعیب نے اپنے دادا عمر ابن عاص سے ملاقات کی ہے۔