بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو ‘ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘ اور نیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (البقرہ : ١٩٥)

خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی تفسیر :

اس آیت کی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں ‘ امام ابن جریرطبری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کسی آدمی کا اللہ کا راہ میں قتل ہوجانا ہلاکت نہیں ہے ‘ اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کرنا ہلاکت ہے۔

حضرت براء بن عازب (رض) نے فرمایا : کسی شخص کا گناہ کرنا اور پھر اس کی مغفرت سے مایوس ہو کر توبہ نہ کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

حضرت ابوایوب انصاری (رض) نے فرمایا : مسلمانوں کا اپنے اہل و عیال اور مال اور متاع کی دیکھ بھال میں مشغول رہنا اور اس شغل میں افراط کی وجہ سے جہاد کو ترک کردینا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١١٩۔ ١١٧‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی نے چند مزید اقوال بیان کیے ہیں :

ابوالقاسم بلخی نے بیان کیا کہ بلاوجہ کسی سے بغض اور عداوت رکھنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ‘ بعض علماء نے کہا : تبلیغ اسلام کو ترک کردینا ہلاکت ہے۔

عکرمہ نے کہا : حرام مال سے صدقہ کرنا ہلاکت ہے ‘ ابوعلی نے کہا : تمام مال کو صدقہ کرنا ہلاکت ہے ‘ بعض علماء نے کہا : ریاکاری یا احسان جتلا کر اپنی نیکیوں کو ضائع کردینا ہلاکت ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٢٥٢۔ ٢٥١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

یہ تمام اقوال اپنی جگہ درست ہیں ‘ لیکن ان میں سب سے زیادہ معتمد اور محقق قول یہ ہے کہ جہاد کو ترک کرنا اور تبلیغ اسلام نہ کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ‘ آج امت مسلمہ جو ہر طرف سے دبی ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صدیوں سے جہاد اور تبلیغ اسلام کو ترک کرچکی ہے ‘ مسلمان حکمرانوں نے صدیوں ہندوستان پر حکومت کی لیکن غیر مسلم ریاستوں سے جہاد نہ کیا ‘ نہ ان کو تبلیغ اسلام کی اگر مسلمان اس فریضہ کو ترک نہ کرتے تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 195