بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡحَجُّ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ‌ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِى الۡحَجِّ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ‌ؕ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَيۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰى ۚ وَاتَّقُوۡنِ يٰٓاُولِى الۡاَلۡبَابِ

حج کے مہینے معروف ہیں پس جو شخص ان مہینوں میں (حج کی نیت کرکے) حج کو لازم کرلے تو حج میں نہ عورتوں سے جماع کی باتیں ہوں ‘ نہ گناہ اور نہ جھگڑا اور تم جو نیکی کرتے ہو اس کا اللہ کو علم ہے اور سفر خرچ تیار کرو ‘ اور بہترین سفر خرچ تقوی (سوال سے رکنا) ہے ‘ اور اے عقل والو ! مجھ ہی سے ڈرتے رہو

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کو پورا کرنے کا حکم دیا تھا اور عمرہ کا کوئی وقت معین نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ حج کا وقت معین ہے اور اس کے مہینے معروف اور مشہور ہیں۔

حج کے مہینوں کے متعلق فقہاء امت کے نظریات :

حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ عطاء طاؤس ‘ مجاہد ‘ زہری ‘ ربیع اور امام مالک کے نزدیک شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ پورے کے پورے حج کے مہینے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) ابن سیرین ‘ حسن ‘ شعبی ‘ نخعی ‘ قتادہ ‘ مکحول ‘ سدی ‘ امام ابوحنیفہ اور امام مالک سے ایک روایت یہ ہے کہ شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن حج کے مہینے ہیں۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ‘ ٢٧٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی نظریہ ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٠٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو شخص ان مہینوں میں (حج کرکے) حج کو لازم کرلے۔ (البقرہ : ١٩٧)

فرضیت حج کے سبب میں ائمہ مذاہب کے اقوال :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : حج کا احرام باندھ کر تلبیہ پڑھنے سے حج فرض ہوجاتا ہے ‘ عطاء طاؤس اور صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت نے کہا : حج کی نیت سے تلبیہ پڑھنے سے حج فرض ہوجاتا ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ کر تلبیہ پڑھنے یا حج کی نیت سے احرام باندھ کر قربانی کے گلے میں قلادہ (ہار) ڈال کر اس کو روانہ کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے ‘ یا حج کی نیت سے احرام باندھ کر اشعار کرنے سے حج فرض ہوجاتا ہے۔

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک تلبیہ کے بغیر بھی حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھنے سے حج فرض ہوجاتا ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ‘ ٢٧٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

امام احمد بن حنبل نے یہ تصریح کی ہے کہ حج کی نیت سے صرف احرام باندھنے سے حج فرض ہوجاتا ہے خواہ تلبیہ نہ پڑھا جائے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٢١٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نہ عورتوں سے جماع کی باتیں ہوں ‘ نہ گناہ اور نہ جھگڑا۔ (البقرہ : ١٩٧)

ایام حج میں فحش باتیں ‘ گناہ اور جھگڑا کرنے کی ممانعت :

حضرت ابن عباس (رض) ‘ ابن جبیر ‘ قتادہ ‘ حسن ‘ عکرمہ ‘ مجاہد ‘ زہری اور سدی نے بیان کیا کہ رفث سے مراد یہاں جماع ہے ‘ اور حضرت ابن عمر (رض) اور طاؤس وغیرھم نے کہا : اس سے مراد عورتوں سے فحش کلام کرنا ہے۔ فسق سے مراد ہر قسم کے گناہ ہیں اور جدال سے مراد بحث مباحثہ میں غضب ناک ہونا ہے ‘ یہ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس (رض) عطاء اور مجاہد کی رائے ہے ‘ اور حضرت ابن عمر (رض) اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد گالی دینا ہے۔ ابن زید اور امام مالک نے کہا : اس سے مراد اس بات میں اختلاف کرنا ہے کہ کون اپنے باپ دادا کے مؤقف میں کھڑا ہے ‘ کیونکہ عرب کسی اور کے مؤقف میں وقوف کرتے ‘ پھر اس میں اختلاف اور بحث کرتے ‘ قاسم نے کہا : یا اس میں اختلاف کریں کہ حج آج ہے یا کل۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٢٨١۔ ‘ ٢٨٠ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

فحش باتیں ‘ فسق اور جھگڑا کرنا ہر وقت اور ہر جگہ ممنوع ہے لیکن یہ ممانعت اس وقت شدید ہے جب انسان بیت اللہ کی زیارت اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کیلیے دور دراز سے چل کر یہاں آئے ‘ ویسے تو تمام سفر حج میں انسان ان برائیوں میں مجتنب رہے لیکن کا احرام باندھنے سے لے کر مناسک حج مکمل ہونے تک جو شخص ان برے کاموں سے بچارہا اس کا حج ‘ حج امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس بیت اللہ کا حج کیا اور فحش باتیں نہیں کہیں اور فسق نہیں کیا اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو کر نکلے گا جس دن اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا (زادالمیسر ج ٢ ص ٢٦١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

ایام حج یا غیر ایام حج میں تم جو کام کرتے ہو خواہ نیک ہو یا بد ان سب کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سفر خرچ تیار کرو اور بہترین سفر خرچ تقوی (سوال سے رکنا) ہے اور اے عقل والو ! مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔۔ (البقرہ : ١٩٧)

حج کے لیے سفر خرچ تیار کرنے حکم :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل یمن حج کرتے تھے اور سفر تیار نہیں کرتے تھے ‘ اور کہتے تھے کہ ہم توکل کرنے والے ہیں ‘ جب وہ مکہ پہنچتے تو مانگنا شروع کردیتے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ سفر خرچ تیار کرو ‘ کیونکہ بہترین سفر خرچ سوال نہ کرنا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٤٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ دنیا سے آخرت کی طرف جو سفر ہے اس کے لیے سفر خرچ تیار کرو اور نیک اعمال کرو کیونکہ بہترین سفر خرچ تقوی اور خوف خدا ہے ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں معنی مراد ہوں ‘ راستہ میں اور قیام حرمین کے دوران کھانے پینے اور سواری کا انتظام کرکے چلو ‘ اور اعمال صالحہ کا زاد راہ تیار کرو اور عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ ہی سے ڈرو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 197