بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

پھر تم وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں اور سے بخشش طلب کرو ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والابڑا مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر تم وہیں سے واپس آؤ ‘ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں اور اللہ سے بخشش طلب کرو ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔۔ (البقرہ : ١٩٩)

نسلی برتری کے تفاخر کا ناجائز ہونا :

قریش اور ان کی اولاد حمس (حمس : قریش ‘ کنانہ ‘ خزاعہ ‘ ثقیف ‘ جثم بنوعامر اور بنونصر کا لقب حمس تھا ‘ کیونکہ یہ لوگ اپنے دین میں بہت متشدد اور سخت تھے حمس کا لغوی معنی بہادر ہے۔ سعیدی غفرلہ ‘)

کہلاتے تھے اور یہ حج میں عرفات کے بجائے ‘ مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور عام لوگوں سے اپنے آپ کو منفرد سمجھتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی عرفات میں وقوف کرکے پھر مزدلفہ میں آؤ جہاں سے اور لوگ آتے ہیں۔ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قریش اور ان کے دین پر چلنے والے حمس تھے ‘ وہ مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے وہ کہتے تھے : ہم خدام حرم ہیں ‘ اور باقی لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٦٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اور زمانہ جاہلیت میں تم نے مناسک حج میں ترمیم کردی تھی اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں سب برابر ہیں اور رنگ ونسل اور علاقہ اور زبان کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں ہے اور کسی شخص کا رنگ ونسل اور علاقہ اور زبان کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور اعلی سمجھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے ‘ امام احمد نے ابو نضرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام تشریق میں فرمایا : سنو ! تم سب کا رب ایک ہے ‘ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر ‘ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر تقوی سے۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ١٥٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)

اور جب نسلی برتری کے گھمنڈ پر عبادت میں احساس برتری جائز نہیں ہے تو دنیاوی معاملات میں کب جائز ہوگا ‘ سو بعض سادات کرام کا نسلی برتری کی بنا پر اپنے غیر کفو میں رشتہ دینے کو حرام کہنا جائز نہیں ہے ‘” شرح صحیح مسلم “ جلد سادس میں ہم نے اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی ہے اور اس تفسیر میں بھی انشاء اللہ النساء : ٣ میں اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان کریں گے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 199