حدیث نمبر :100

روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ فرماتے تھے اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت رکھ ۱؎ میں نے عرض کیا یا نبی اﷲ ہم آپ پراورآپ کی تمام لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لاچکے تو کیا اب بھی آپ ہم پر اندیشناک ہیں۲؎ فرمایا ہاں لوگوں کے دل اﷲ کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے بیچ میں جدہرچاہے پھیر دے۳؎ (ترمذی وابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ دعاتعلیم امّت کے لیے ہے تاکہ لوگ سن کرسیکھ لیں ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دینِ حق سے ہٹ جانا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے خدا کا شریک بلکہ جس پر وہ نگاہِ کرم کردیں وہ نہیں پھسل سکتا عثمان غنی سے فرمادیا کہ جو چاہوکرو مگر وہ گناہ نہ کرسکےجیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎ سبحان اﷲ!یہ ہے صحابہ کرام کا ایمان وہ دعا سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ دعا ہمارے لیے ہے نہ کہ خود حضور کے اپنے لیے۔خیال رہے کہ عَلَیْنَاسےمرادتاقیامت عام مسلمان ہیں ورنہ بعض صحابہ حضور کے کرم سے اس سے مستثنٰے ہیں۔فرماتے ہیں کہ عمر کے سایہ سے شیطان بھاگتا ہے،حضور کی نگاہ سے ڈگمگاتے جم جاتے ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:”اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ “۔

۳؎ عنی جن و انس کے دل اس کی تفسیر پہلے بارہا گرچکی۔