بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَيۡسَ عَلَيۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡؕ فَاِذَآ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَـرَامِ ۖ وَاذۡکُرُوۡهُ کَمَا هَدٰٮکُمۡ‌ۚ وَاِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآ لِّيۡنَ

حج کے دوران) اپنے رب کا فضل (روزی) تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور جب تم عرفات سے (مزدلفہ میں) واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو ‘ اور جس طرح اس نے تم کو ہدایت دی ہے اس طرح اس کا ذکر کرو ‘ اور بیشک اس سے پہلے تم ضرور گمراہوں میں سے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حج کے دوران) اپنے رب کا فضل (روزی) تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ : ١٩٨)

حج کے دوران روزی کمانے کا جواز :

جب اللہ تعالیٰ نے ایام حج میں جدال) (بحث اور تکرار) کرنے سے منع کیا تو یہ وہم پیدا ہوا کہ شاید ایام حج میں تجارت بھی ممنوع ہو کیونکہ اس میں قیمت پر بحث ہوتی ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عکاظ ‘ مجنہ ‘ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے ‘ جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے ان بازاروں میں تجارت کرنے کو گناہ سمجھا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ (زمانہ حج میں) اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٧٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٤٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ایام حج میں تجارت کرنا ‘ محنت مزدوری اور ہر جائز طریقہ سے کسب معاش کرنا جائز ہے اور اس سے حج کے اجر وثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

حافظ سیوطی لکھتے ہیں :

امام عبدالرزاق ‘ امام سعید بن منصور ‘ امام ابن ابی شیبہ ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام حاکم اور امام بیہقی روایت کرتے ہیں : ابو امامہ تمیمی نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا : ہم لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں کیا ہمارے لیے حج کا اجر وثواب ہوگا ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : کیا تم لوگ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ؟ اور کیا تم اپنے سروں کو نہیں مونڈتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک شخص نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا ہے ‘ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں ‘ حضرت ابن عمر نے کہا : ایک شخص نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال گیا جو تم نے مجھ سے کیا ہے ‘ آپ نے اسکو کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ جبریل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے کہ (زمانہ حج میں) اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ٢٢٢‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

اگر حج کے دوران ضمنا تجارت یا محنت مزدوری ہوجائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر کوئی شخص بالقصد ایام حج میں تجارت کیلیے یا مزدوری کے لیے جائے اور ضمنا حج کرلے تو یہ اخلاص کے منافی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم عرفات سے (مزدلفہ میں) آؤ تو مشعرحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور جس طرح اس نے تم کو ہدایت دی ہے اس طرح اس کا ذکر کرو۔ (البقرہ : ١٩٨)

مشعر حرام کا بیان :

امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عرفات کو عرفات اس لیے کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک کی تعلیم دی اور بار بار کہتے : ” عرفت عرفت “ (آپ نے جان لیا ‘ آپ نے جان لیا) تو اس جگہ کا نام میدان عرفات پڑگیا۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٦٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

مشعر حرام کی تفسیر میں امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے لوگوں کو مزدلفہ میں ایک پہاڑ کے پاس جمع ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ نے کہا : اے لوگو ! تمام مزدلفہ مشعر حرام ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٦٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے مشعر حرام کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : دو پہاڑوں کے درمیان جو جگہ ہے وہ مشعر حرام ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٦٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے مشعر حرام کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کو اپنے ساتھ لے جا کردکھایا کہ عرفات کے بعد جہاں سے مزدلفہ کی ابتداء ہوتی ہے وہاں سے لے کر حرم تک مزدلفہ کی ساری وادی مشعر حرام ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٦٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

مشعر حرام کے پاس ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جائے اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کیا جائے اور اپنے گناہوں پر معافی طلب کی جائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 198