حدیث نمبر :102

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چارباتوں پر ایمان نہ لائے گواہی دے کے اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں مجھے اﷲنےحق کےساتھ بھیجا اورمرنے اورمرے بعد اٹھنے ۱؎ اور تقدیر پر ایمان لائے۲؎ (ترمذی،وابن ماجہ)

شرح

۱؎ موت میں دہریوں کا رد ہے کہ وہ شخصی موت کے تو قائل ہیں مگر عالم کی مجموعی موت کے قائل نہیں اور اٹھنے میں منکرین قیامت کا رد ہے یعنی یہ بھی مانیں کہ سارے عالم کوفنا ہے اور یہ بھی کہ بعد موت سزاو جزا کے لیے اٹھنا ہے اورممکن ہے کہ موت سے مرادشخصی موت ہو اوراٹھنے سے قبر میں اٹھنا۔

۲؎ کہ نہ جبریہ بن کر انسان کو مجبورمحض مانے اور نہ قدریہ بن کرتقدیر کا انکارکرے،اوراپنےکوقادرِمطلق جانے۔