2018ء کے قومی انتخابات میں کراچی کا منقسم مینڈیٹ آیا‘ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے اعتبار سے بڑی سٹیک ہولڈرجماعت پاکستان تحریک ِ انصاف ہے اور ایم کیو ایم پاکستان کو بھی محدود نمائندگی ملی ہے ۔ایم کیو ایم پاکستان میں انتشار کے باوجود اُن کی تنظیم یوسی اور سیکٹر کی سطح پر موجود ہے ‘ لوگ اُن کو جانتے اور پہچانتے ہیں ۔اس کے برعکس پی ٹی آئی کی نچلی سطح پر کوئی تنظیم نہیں ہے ‘ اُن کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کے دفاتر بھی نہیں ہیں کہ ضرورت مند لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے اُن سے رابطہ کریں۔ بس ایک لہر کی صورت میں پی ٹی آئی کو ووٹ ملے اور وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوئے ‘جبکہ کافی پولنگ سٹیشنوں پر‘خاص طور پر ڈسٹرکٹ سنٹرل میں ‘پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھے۔اب پاکستان تحریکِ انصاف پر کراچی والوںنے جو اعتماد کیا ہے‘پی ٹی آئی اہلِ کراچی کا یہ قرض کیسے چکاتی ہے ‘ اس کا سب کو بے چینی سے انتظار ہے ‘ یہ سطور ہم اس مفروضے پر لکھ رہے ہیں کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں ‘ اگرچہ ان کی شفافیت پر سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں ‘ جیساکہ تحریکِ لبیک پاکستان کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست NA-245اورNA-246پر وہ جیتے ہوئے تھے‘ لیکن نادیدہ قوتوں نے انہیں زبردستی ہرایا ‘ واللہ اعلم بالصواب۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کا ماسٹر پلان بنانے کی بات کی ہے ‘یہ درست حکمت عملی ہے ۔ اس پر پیپلز پارٹی کے ذمے داران نے اعتراض کیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے ۔لیکن اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اشتراک سے کراچی کا ماسٹر پلان بنائیں یا وفاقی حکومت ٹائون پلاننگ کی ماہراورنامور کسی غیر سرکاری فرم سے یہ کام کرائے ‘تو یہ ایک طرح سے صوبائی حکومت کی معاونت ہوگی ‘اس سے یہ ہرگزلازم نہیں آتا کہ کراچی وفاق کے قبضے میں چلا جائے گا ۔ماسٹر پلان شہری منصوبہ بندی اور شہری ضروریات یعنی مکانات ‘پانی ‘سیورج ‘ بجلی ‘ سڑکوں ‘ شہری ٹرانسپورٹ اورہر سطح کے تعلیمی اداروں ‘ ہسپتالوں‘ کھیل کے میدانوں اور رفاہی ضروریات کی منصوبہ بندی کے لیے بنیادی ضرورت ہے ۔

صدر ایوب خان کے زمانے تک مہاجرین کے دبائو کے باوجود کراچی کی حالت بہت اچھی تھی ‘فیڈرل بی ایریا ‘ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد کی منصوبہ بندی بہترین تھی ‘ مہاجرین کی آباد کاری کے لیے بھی جو سکیمیں بنائی گئی تھیں ‘مثلاً: نیو کراچی‘ کورنگی‘ سعود آباد اور ملیر ‘وہ بہترین تھیں ۔ اس کے علاوہ گلشن اقبال اور گلستانِ جوہرکی پلاننگ بھی اچھی تھی‘ یہ دونوں سکیمیں ظلِ احمدنظامی مرحوم کی مہارت کا شاہکار تھیں‘فیڈرل بی ایریا میں کوَرڈ ایریا اورگرین بیلٹ میں تقریباً ساٹھ اور چالیس کا تناسب تھا۔بعد میں گرین بیلٹ پر فلیٹوں کے جنگل بنادیے گئے ۔

اس کے بعد سکیم 33کی صورت میں شہر کا بے ہنگم پھیلائو شروع ہوگیا ۔ نصف صدی ہوا چاہتی ہے کہ اس کی ڈیویلپمنٹ نہیں ہوسکی ۔ اسی طرح سندھ گورنمنٹ نے ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر کے تیسر ٹائون کی سکیم 45شروع کی ‘لوگوں سے پیسے وصول کرلیے ‘ مگر آج تک ڈیویلپمنٹ نہیں ہوسکی‘ بعض الاٹ شدہ پلاٹوں پر قابضین بیٹھے ہوئے ہیں اور ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی لا تعلق ہے یا اُس کی خاموش سرپرستی انہیں حاصل ہے ۔ اسی طرح لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر کے ہاکس بے سکیم 42 لانچ کی گئی ‘اب ڈیڑھ عشرے سے زائدعرصہ ہوچکا ہے ‘لیکن ڈیویلپمنٹ کا نام ونشان نہیں ہے‘جب کہ لوگوں سے پیسے لیے جاچکے ہیں‘اسی طرح سکیم 25شاہ لطیف ٹائون کا حال ہے ۔کراچی میں ابتدائی منصوبہ بندی بہت اچھی تھی‘ ہسپتالوں ‘ کھیل کے میدانوں اور تعلیمی اداروں کے لیے رفاہی پلاٹ وافر مقدار میں موجود تھے ‘اس حوالے سے اسلام آباد کے سوا پاکستان کا کوئی شہرکراچی کی نظیر نہیں تھا‘ یہ گرین بیلٹ نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ نسلوں کی امانت تھی ‘ لیکن پھر اس وقت کی صوبائی حکومت کی آشیرباد اور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے چائنا کٹنگ کے ذریعے اس امانت پر بھی غاصبانہ قبضہ کرلیا گیا اور کئی لوگ ارب پتی بن گئے۔ 

خود اسلام آباد میں بعض سیکٹر ایک عرصے سے اس لیے آباد نہیں ہوسکے کہ سی ڈی اے نے وہاں ڈیویلپمنٹ کا کام کیا ہی نہیں ‘ خاص طور پر جس سیکٹر میں متاثرین کو پلاٹ دیے گئے تھے‘ اُس میں ڈیویلپمنٹ کا کام سِرے سے ہوا ہی نہیں ‘ کیونکہ وہ لوگ غریب ہیں اور بارسوخ نہیں ہیں۔ پس ٹائون پلاننگ اور ماسٹر پلان ہر بڑے شہر کے لیے لازم ہے اورپہلے سے لانچ کی گئی سکیم کی پوری ڈیویلپمنٹ کے بغیر آئندہ سکیموں کے اجرا پر پابندی عائد ہونی چاہیے ‘ اسی طرح پرائیوٹ ہائوسنگ سکیموں کو ازروئے قانون اس امر کا پابند کیا جائے کہ وہ رفاہی مقاصد کے لیے رقبہ مختص کریں ‘ جس میں قبرستان بھی لازمی ہونے چاہییں ۔ 

میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کے لیے ایک جامع پیکج دینا چاہتی ہے ‘ یہ قابلِ تحسین بات ہے اور یہ کراچی والوں کا جنابِ عمران خان پر حق ہے ‘ کیونکہ اہلِ کراچی نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے۔ صوبائی حکومت کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ فنڈ انہیں دے دیا جائے اور وہ خرچ کریں ‘ جبکہ صوبائی حکومت کے بارے میں لوگوں کے شکوک وشبہات زیادہ ہوتے ہیں ۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس کے لیے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک” کراچی ڈیویلپمنٹ بورڈ‘‘بنایا جائے ‘ اس میں 2018ئکے انتخابات کے نتائج کے تناسب سے پی ٹی آئی ‘ ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کونمائندگی دی جائے ‘ اس بورڈ میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا نمائندہ ‘ چارٹرڈ اکائونٹنٹ فرم اور سینئر آئینی وقانونی ماہر شامل ہونا چاہیے۔

ماضی میں جنابِ ظہورالحسن بھوپالی شہید نے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے جنابِ ظلِ احمد نظامی کے ساتھ مل کر لائنز ایریا کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا ‘ اس کو مختلف مراحل (Phases)میں تقسیم کیا تھا‘ پہلے فیز کے متاثرین کے لیے طے ہوا تھا کہ متبادل چھوٹے مکانات یا فلیٹس بناکرانہیں وہاں منتقل کیا جائے گا اور پلاننگ کے مطابق وہاں کثیر المنزلہ فلیٹ تعمیر کر کے اگلے مرحلے کے رہائشیوں کو وہاں منتقل کیا جائے گا ‘ علیٰ ھٰذا القیاس پورے لوگ آباد بھی ہوجائیں گے ‘ پوری بستی معیاری اور تمام شہری سہولتوں سے آراستہ ہوگی اور آخر میں کافی کشادہ جگہ بچ جائے گی جسے رفاہی اورتجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا ۔ لیکن بھوپالی مرحوم کو شہید کردیا گیا اور وہ منصوبہ بھی داخلِ دفتر ہوگیا ۔ اب بھی جہانگیر روڈ‘ مارٹن کوارٹرزاور پاکستان کوارٹرز کے علاقوں میں وفاقی حکومت کے پرانے مکانات ہیں ‘ جن پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لوگ قابض ہیں ‘ لیکن ان کے پاس ملکیتی حقوق نہیں ہیں ‘ وہاں بھی جدید رہائشی سکیم بنائی جاسکتی ہے ‘متاثرین کوآباد کرنے کے بعد بھی اتنی زمین بچ جائے گی کہ اگر اسے تجارتی بنیادوں پر بیچا جائے تواکثر مصارف نکل سکتے ہیں اور وزیرِ اعظم نے مکانات کی فراہمی کا جو وعدہ کیا ہے ‘ اُس پر بھی جزوی طور پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔اس کے لیے بحریہ ٹائون کے ملک ریاض یا کسی اچھی شہرت کے حامل پرائیویٹ ٹائون پلانر اور بلڈر کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں‘ بشرطیکہ پورا منصوبہ شفاف ہو ‘ اس پر عمل درآمد کے لیے گارنٹی کی نقد رقم یابنک گارنٹی پہلے سے حاصل کی جاچکی ہو۔ 

اسی طرح ریلوے کی مقبوضہ جگہ کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے کہ لوگ بے گھر بھی نہ ہوں ‘ آبادیاں حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اور ماحول دوست ہوں‘ نئے ہوائی منصوبے بنانے کے بجائے پہلے سے قائم کچی اور غیر قانونی آبادیوں کی بہتر منصوبہ بندی کی جائے ‘لوگوں کو مالکانہ بنیاد پر مکان یا فلیٹس بناکر دیے جائیں اور اُن سے صرف اصل لاگت اقساط میں وصول کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے اکتوبر میں پورے ملک میں صفائی کا اعلان کیا ہے ‘ ہفتۂ صفائی جیسی ناکام مشقیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں ‘ لیکن وہ بے سود رہیں‘صفائی کا انتظام مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے‘ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے لوگوں میں Civic Senseیعنی شہری ذمے داریوں کا احساس نہیں ہے ‘ اس کے لیے بھی کوئی تعزیری نظام ہونا چاہیے۔ہمارے ادارے کے مین گیٹ کے سامنے سڑک پر ایک سیکنڈری سکول ‘ ایک پوسٹ گریجویٹ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن اورکسٹمز سپورٹس کمپلیکس ہے‘ لیکن سڑک کا فٹ پاتھ ہمیشہ کچرے سے بھرا رہتا ہے۔

وزیر اعظم نے کراچی میں مقیم بنگالی اور افغان باشندوں کو ‘جن کی دوسری یا تیسری نسل چل رہی ہے ‘ قومی شناختی کارڈ دینے کا اعلان کیا ہے ۔یہ درست ہے ‘ یہ انسانی مسئلہ ہے ‘ وہ لوگ کسی نہ کسی روزگار سے وابستہ ہیں اور اپنی بقائے حیات کے لیے کچھ نہ کچھ کررہے ہیں ۔ہمیں سعودی عرب اور خلیج کے مسلم ممالک سے یہی شکوہ ہے کہ وہ اپنے ہاں پاکستانی تارکینِ وطن کو وہ حقوق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں جوغیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو حاصل ہیں اور آج کی دنیا میں عالمی سطح پر مسلّم اور مروّج ہیں ‘ تواگر ہم خود ایک اچھی مثال قائم کرسکیں تو قابلِ تحسین بات ہوگی۔ سب کا حقیقی رازق اللہ تبارک وتعالیٰ ہے ‘ اس کی رزاقی پر ہمارا ایمان کامل ہونا چاہیے۔ لیکن جو افغانی پاکستانی قومی شناختی کارڈ لینا چاہتے ہیں‘ انہیں اپنے افغان قومی شناختی کارڈ کو سرنڈر کرناہوگا ۔لیکن انسانی ہمدردی اور اخو ت اسلامی پر مبنی یہ رواداری صوبۂ سندھ کی حکومت اور پاکستان بھر کی قوم پرست جماعتوں اور لبرلز کے لیے قابل قبول نہیں ہے ۔بلوچستان کی بلوچ قوم پرست جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اس صوبے کی آبادی میں اُن کا تناسب اور توازن بدل جائے گا ‘ جبکہ پشتون قوم پرست جماعتیں اس کی حامی ہیں ‘لیکن اُن کے لیے بھی اس کا محرّک انسانیت نوازی یا اخوتِ اسلامی نہیں ہے ‘بلکہ قوم پرستی ہے کہ آبادی میں اُن کا توازن بہتر ہوجائے گا۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان