بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے ‘ اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (البقرہ : ٢٠٢)

اللہ کے جلد حساب لینے کی تفسیر :

جو لوگ حج کی عبادات سے فارغ ہو کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا کی خیر عطا فرما اور آخرت کی خیر عطا فرما اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا ‘ کیونکہ اب کا ایمان ہے کہ ہر خیر اللہ کی قدرت اور اس کے قبضہ میں ہے اور ان کا دل آخرت کی نعمتوں کی طرف راغب ہے اور ان کو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے حج کی عبادات کا ثواب عطا فرمائے گا اور انہوں نے جو دوسرے نیک کام کیے ہیں اور بدنی اور مالی عبادات کی ہیں اللہ تعالیٰ ان کا بھی اجر جزیل عطا فرمائے گا ‘ اس کے برخلاف جن لوگوں نے اجر اخروی میں رغب کیے بغیر اعمال شاقہ کی تکلیفیں برداشت کی اور ان کا مطمح نظر دنیا کی حسین چیزیں تھیں ‘ انکو کسی قسم کا کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔

اللہ تعالیٰ کا علم ان دونوں فریقوں کے اعمال کو محیط ہے اور اللہ عزوجل ان سے بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

علامہ ابو الحیان اندلسی لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے اتنی دیر میں اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب لے گا ‘ دوسری روایت یہ ہے کہ ایک لمحہ بھر میں ساری مخلوق کا حساب لے لے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے کے لیے غور و فکر کی حاجت نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : کیونکہ اس کیلیے تمام جہاں کا حساب لینے کے حکم میں ہے۔ اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ حساب جزاء سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ بہت جلد جزاء دینے والا ہے اور تیسری تفسیر یہ ہے کہ یہ استجابت دعا ہے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ بہت جلد دعا قبول فرمانے والا ہے۔ ہر تقدیر پر اس آیت سے مقصود اس چیز سے ڈراتا ہے کہ قیامت بہت جلد آنے والی ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ‘۔۔ ٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور گنے چنے دنوں میں اللہ کو یاد کرو ‘ سو جس نے دو دنوں میں (روانہ ہونے کی) جلدی کی تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے اور جس نے تاخیر کی اس پر (بھی) کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ : ٢٠٣)

تکبیرات تشریق میں مذاہب ائمہ :

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا کہ ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں۔ ١ (اما ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ جامع البیان ج ٢ ص ١٧١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس آیت میں یہ حکم دیا ہے کہ ایام تشریق میں نمازوں کے بعد تکبیرات تشریق پڑھی جائیں ” اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد “۔ ٢ (…….) ایک بار یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے اور اس سے زیادہ مستحب تکبیرات تشریق کتنے دنوں تک پڑھی جائیں اس کے متعلق فقہاء کے مسالک حسب ذیل ہیں :

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

قربانی کے دن ظہر کی نماز سے لے کر آخرایام تشریق کی صبح کی نماز تک ہر نماز کے بعد تکبیرات پڑھے یہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا قول ہے اور فقہاء میں سے امام شافعی کا یہی مسلک ہے (النکت والعیون ج ١ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ قرطبی مالکی نے لکھا ہے کہ امام مالک کا بھی یہ قول ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ اگر غیر محرم ہو تو وہ تیس نمازوں کے بعد تکبیرات پڑھے ‘ یوم عرفہ کی فجر سے تکبیرات شروع کرے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز کے بعد تک پڑھے اور اگر وہ محرم ہو تو سترہ نمازوں کے بعد تکبیرات پڑھے ‘ قربانی کے دن کی ظہر کی نماز کے بعد سے شروع کرے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نما ز کے بعد تک تکبیرات پڑھے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢١٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں

حضرت علی (رض) کا قول ہے کہ یوم عرفہ کی صبح سے لے کر آخر ایام تشریق کی عصر تک تکبیرات پڑھے (فقہاء میں سے امام ابو یوسف اور امام محمد کا یہی مسلک ہے اور حضرت ابن مسعود (رض) کا قول ہے کہ یوم عرفہ کی صبح سے لے کر قربانی کے پہلے دن کی عصر تک تکبیرات پڑھے فقہاء میں سے امام ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے) (المصنف ج ٢ ص ١٦٥ مبطوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

علامہ المرغینانی الحضی لکھتے ہیں

یہ مسئلہ صحابہ میں مختلف ہے امام ابویوسف اور امام محمد نے حضرت علی کے قول کو اختیار کیا کیونکہ یہ قول زیادہ تکبیرات کو شامل ہے اور عبادات میں اسی میں احتیاط ہے اور امام ابوحنیفہ نے حضرت ابن مسعود کے قول کو اختیار کیا کیونکہ بہ آواز بلند تکبیر کہنا بدعت ہے۔ (مشائخ حنفیہ نے اس مسئلہ میں امام ابویوسف اور امام محمد کے قول پر فتوی دیا ہے سعیدی غفرلہ)

یہ تکبیرات شہر میں مستحب جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نمازوں کے مقیمین (غیر مسافروں) پر واجب ہیں صرف عورتوں کی جماعت کے بعد نہیں ہیں اور مسافروں کی جماعت کے بھی نہیں ہیں ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد نے کہا کہ ہر فرض نماز پڑھنے والے پر تکبیرپڑھنا واجب ہے کیونکہ تکبیرات فرض کے تابع ہیں اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ بلند آواز سے تکبیر کہنا خلاف سنت ہے اور چونکہ شریعت میں اس کا حکم ہے ‘ اس لیے ان شرائط کے بعد ان کا پڑھنا واجب ہوگا ‘ امام ابویوسف نے کہا : اگر امام تکبیر بھول جائے پھر بھی مقتدی پر تکبیر پڑھنا واجب ہے۔ (ھدایہ اولین ص ١٧٥‘ مکتبہ شرکۃ علمیہ ملتان)

ذکر بالجہر میں امام ابوحنیفہ کا مؤقف :rnؔ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور بہ کثرت احادیث صحیحہ میں فرض نماز کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر بالجہر کرنے کی تصریح ہے ‘ اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ سے یہ متصور نہیں ہے کہ وہ تکبیرات تشریق کو بدعت یا خلاف سنت قرار دیں گے ‘ اور علامہ مرغینانی صاحب ” ھدایہ “ نے کہا ہے کہ امام اعظم نے تکبیرات تشریق میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے قول کو اس لیے اختیار کیا ہے کہ ان کے قول میں تکبیرات کا عددکم ہے اور چونکہ بلند آواز سے تکبیرکہنا بدعت ہے اس لیے انہوں نے حضرت ابن مسعود کے قول کو اختیار کیا ‘ صاحب ” ھدایہ “ کا یہ استدلال ان کے وہم پر مبنی ہے اور صحیح نہیں ہے ‘ صحیح وجہ یہ ہے کہ اختلافات صحابہ میں عام طور پر امام اعظم حضرت ابن مسعود کے قول کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی بہ نسبت حضرت ابن مسعود زیادہ فقیہ تھے ‘ اس لیے تکبیرات تشریق میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس (رض) کی روایات کے مقابلہ میں امام اعظم نے حضرت ابن مسعود کی روایت کو اختیار فرمایا :

علامہ ابن بزاز کردری حنفی لکھتے ہیں :

بہرحال بلند آواز سے ذکر کرنا جائز ہے جیسے اذان اور خطبہ میں ہے اور تکبیرات تشریق میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ بلند آواز سے تکبیر پڑھنا بدعت ہے کیونکہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اصل نماز پر تکبیرات کی زیادتی کتنی نمازوں میں سنت ہے ‘ مثلا اس میں اختلاف ہے کہ ظہر کی چار سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ پڑھنا اولی ہے یا دوسلاموں کے ساتھ اور یہ اختلاف اس پر دلالت نہیں کرتا کہ اگر ظہر کی سنتوں کو دوسلاموں کے ساتھ پڑھا جائے تو وہ بدعت یا حرام ہوں گی۔ (فتاوی بزازیہ علی ھامش الہندیہ ج ٦ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ مطبع کبری ‘ امیر یہ ‘ بولاق ‘ مصر)

علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں :

امام اعظم اور امام ابویوسف اور امام محمد میں جو تکبیرات کے عدد کا اختلاف ہے اس میں تمام زمانوں اور تمام شہروں میں امام ابو یوسف اور امام محمد کے قول پر عمل کیا گیا اسی قول پر اعتماد ہے اور اسی قول پر فتوی ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ١ ص ٥٦٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امام اعظم اور صاحبین میں اختلاف ہو تو قوت دلیل کا اعتبار ہوتا ہے اور یہی وجہ صحیح ہے جیسا کہ ” الحاوی القدسی “ میں مذکور ہے ‘ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحبین کا قول بھی درحقیقت امام اعظم کا قول ہوتا ہے ‘ علامہ ابن ھمام نے ” فتح القدیر “ میں اس مسئلہ میں امام اعظم کے قول کو ترجیح دی ہے ‘ یہ صحیح نہیں ہے۔ (البحر الرائق) (رد المختار ج ١ ص ٥٦٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

نیز علامہ شامی لکھتے ہیں :

” مجتبی “ میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ سے کہا گیا کہ اہل کوفہ وغیرھا کو چاہیے کہ ان دس دنوں میں بازاروں اور مسجدوں میں تکبیرات پڑھیں ‘ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : ہاں ‘ اور فقیہ ابو اللیث نے ذکر کیا ہے کہ ابراہیم بن یوسف ان جگہوں میں تکبیرات پڑھنے کا حکم دیتے تھے اور فقیہ ابو جعفر نے کہا : میرے نزدیک مختاریہ ہے کہ عام لوگوں کو تکبیرات پڑھنے سے منع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ عوام کی خیر میں رغبت کم ہوتی ہے اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔ اس عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ تکبیرات پڑھنا اولی ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ٥٦٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

عید الفطر کی تکبیرات بھی عیدالاضحی کی تکبیرات کی طرح ہیں ‘ یہی امام ابویوسف اور امام محمد کا مسلک ہے اور امام اعظم سے بھی ایک روایت یہی ہے بلکہ ” مسند امام اعظم “ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذکر بالجہر کو مطلقا مستحب قرار دیتے ہیں۔ (روح المعانی ج ١٦ ص ‘ ١٦٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 202