حدیث نمبر :103

روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کے دو گروہ ہیں ۱؎ جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجیہ اور قدریہ ۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ اُمت سے مراد یا تو اُمت دعوت ہے جس میں کافر بھی شامل ہیں یا امت اجابت یعنی کلمہ گو،جنہیں قومی حیثیت سے مسلمان کہا جاتا ہے دیکھو مسلمانوں کے۷۲ناری فرقے قومی مسلمان ہیں،اور ایک فرقہ ناجیہ قومًا بھی مسلمان اور مذہبًابھی،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان کافرگروہوں کوحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اُمت کیوں فرمایا۔

۲؎ مرجیہ کہتے ہیں کہ جیسے کافرکو کوئی نیکی مفید نہیں ایسے ہی مسلمان کو کوئی گناہ مضرنہیں جو چاہے کرے،اس زمانہ کے دِتہ شاہی فقیر اور بعض روافض ان کی یادگار ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ دتّہ شاہ کو مان لیا،یا محرم میں رو پیٹ لیے،پھر جو چاہوکرو،قدریہ کہتے ہیں کہمحرمکوئی چیز نہیں ہم اپنے اعمال کے خالق اور مختار ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں فرقے بالکل کافر ہیں مگر علماء فرماتے ہیں کہ ان کاکفر لزومی ہے،نہ کہ استلزامی،لہذا انکی تکفیر میں احتیاط چاہیےکیونکہ ثبوت کفر کے لیے دلیل قطعی چاہیے،یہ حدیث قطعی نہیں۔