فضائل محرم الحرام وعاشورہ

فضائل محرم الحرام وعاشورہ

حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری,

 

ملت اسلامیہ کے نزدیک سال کے بارہ مہینے ہیں۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

ترجمہ: بے شک مہینوں کی گنتی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں‘ اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں‘ جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے‘ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پرظلم نہ کرو (سورہ توبہ پارہ 10)

اسلامی مہینوں کے نام

1۔ محرم الحرام              2۔ صفر المعظم               3۔ ربیع الاول               4۔ ربیع الآخر

5۔ جمادی الاولی             6۔ جمادی الثانی             7۔ رجب المرجب          8۔ شعبان المعظم

9۔ رمضان المبارک       10۔ شوال المکرم          11۔ ذوالقعدہ               12۔ ذوالحجہ

حرمت والے مہینے

حرمت و عزت والے مہینے چار ہیں۔ تین متصل ہیں اور ایک الگ

1۔ ذوالقعدہ‘  2۔ذوالحجہ ‘ 3۔ محرم الحرام ‘ 4۔ رجب المرجب

ان کی حرمت و عزت یہ ہے کہ ان میں عبادت کرنے کا ثواب بہت ملتا ہے اور اسی طرح ان میں گناہ کا عذاب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ان مہینوں میں کثرت سے عبادت کرنی چاہئے اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہئے‘ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ ان مہینوں کی حرمت کے قائل تھے اور ان میں قتال حرام جانتے تھے۔ اسلام میں ان مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ بیان کی گئی۔ اہل عرب ان مہینوں میں تلواریں اپنے نیام میں ڈال دیتے تھے اور لوٹ مار سے رک جاتے تھے اور لوگ اپنے دشمنوں سے بے خوف ہوجاتے تھے‘ یہاں تک کہ آدمی اپنے باپ یا بھائی کے قاتل سے ملتا تھا تو اس سے کچھ تردد نہ کرتا تھا (عجائب المخلوقات ص 44)

عاشورہ کے دن نیک کام

عاشورہ ایک مقدس دن ہے‘ اس میں ہر ایک نیک کام بڑے اجروثواب کا باعث ہے‘ چند نیک کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا ثواب ہے۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رحمتہ للعالمینﷺ نے فرمایا:

جو شخص عاشورہ کے دن یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کے لئے یتیم کے سر کے ہر بال کے عوض ایک ایک درجہ جنت میں بلند فرمائے گا (غنیتہ الطالبین ج 2ص 53)

ویسے بھی یتیم کے ساتھ محبت والفت کرنا باعث اجر عظیم ہے۔ خواہ عاشورہ کا دن ہو یا کوئی اور دن ہو‘ سیدنا ابو امامہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت للعالمین شفیع المذنبینﷺ نے فرمایا:

جو شخص محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اسے ہر بال کے عوض نیکیاں ملیں گی جن پر ہاتھ پھیرے گا اور جو یتیم بچی یا یتیم بچہ جو اس کے پاس ہے‘ کے ساتھ احسان کرے گا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہوں گے اورآپ نے دونوں انگلیوں کو ملادیا (مشکوٰۃ ص 423)

2۔ عاشورہ کے روز غسل کرنا ہر مرض و بیماری سے بچائو کا سبب ہے۔ رحمت للعالمینﷺ فرماتے ہیں۔

جو شخص عاشورہ کے روز غسل کرے تو کسی مرض میں مبتلا نہ ہوگا سوائے مرض موت کے (غنیتہ الطالبین ج 2ص 53)

3۔ عاشورہ کے روز گناہوں اور معاصی سے توبہ کرنی چاہئے‘ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی اور حکم ہوا:

’’اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ دسویں محرم کو میری بارگاہ میں توبہ کریں اور جب دسویں محرم کا دن ہو تو میری طرف نکلیں یعنی توبہ کریں‘ میں ان کی مغفرت فرماؤں گا‘‘ (فیض القدیر شرح جامع صغیر ج 3ص 34)

4۔ عاشورہ کے روز آنکھوں میں سرمہ ڈالنا‘ آنکھوں کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے۔ سید دو عالمﷺ فرماتے ہیں:

جو شخص عاشورہ کے روز اثمد کا سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دکھیں گی (بیہقی)

حضرت ملاعلی قاری رحمتہ الباری اپنی کتاب موضوعات الکبیر میں فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے روز آنکھوں میں سرمہ لگانا خوشی کے اظہار کے لئے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ خارجی لوگوں کا فعل ہے کہ وہ اس میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ حدیث شریف پر عمل کرنے کے لئے آنکھوں میں سرمہ ڈالنا چاہئے۔

5۔ عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے واسطے گھر میں وسیع پیمانے پر کھانے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ اﷲ تعالیٰ اس گھر میں سارا سال وسعت فرمائے۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:

جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر نفقہ میں وسعت دے گا تو اﷲ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائے گا (مشکوٰۃ ص170)

حضرت سفیان ثوری نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا۔

حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رحمتہ اﷲ علیہ اپنی کتاب غنیتہ الطالبین جلد دوم ص 54 میں لکھتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی دیکھی۔

اسی طرح علامہ مناوی فیض القدیر جلد 6 ص 236 میں لکھتے ہیں کہ سیدنا حضرت جابر صحابی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اس کو صحیح پایا اور سیدنا ابن عیینہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس یا ساٹھ سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی پائی‘ لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس دسویں محرم کو وسیع پیمانہ پر کھانا پکانا چاہئے۔

6۔ عاشورہ کے دن بیمار کی بیمار پرسی کرنا بڑا ثواب ہے۔ محبوب کبریاﷺ فرماتے ہیں۔

جو کوئی عاشورہ کے روز بیمار کی بیمار پرسی کرتا ہے گویا کہ اس نے تمام بنی آدم کی بیمار پرسی کی ہے (غنیتہ ج 2ص 54)

7۔ عاشورہ کے روز لوگوں کو خصوصا فقراء کو پانی یا دودھ وغیرہ پلائے تو بڑا ثواب ہے۔ رحمتہ عالمیان سید کون و مکانﷺ نے فرمایا:

جو عاشورہ کے روز (لوگوںکو)پانی پلائے تو گویا اس نے تھوڑی دیر کے لئے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی (غنیتہ الطالبین ج 2ص 54)

محرم کے روزے

1۔ سیدنا حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف ورحیمﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی محرم کے پہلے جمعہ کو روزہ رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

2۔ سرکاردوعالمﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی محرم کے یہ تین روزے رکھے‘ جمعرات‘ جمعہ اور ہفتہ میں تو اس کے لئے نو سو سال کی عبادت لکھی جاتی ہے۔

3۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جو شخص محرم کے روزے رکھے تو ایک دن کے روزے کا ثواب تیس دنوں کے روزوں کے برابر ہے۔

4۔ سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رحمتہ للعالمینﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی محرم کے پہلے دس دن عاشورہ تک روزے رکھے تو وہ فردوس اعلیٰ کا وارث و مالک ہوگا۔

یوم عاشورہ کا روزہ

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا: تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ عظمت والا دن ہے۔ اسی دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی۔ ادائے شکر کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا۔ اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمہاری نسبت ہم موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے حق دار ہیں۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا (بخاری‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 446)

انہی سے مروی ہے کہ جب آقا و مولیٰﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کی اس دن کی تو یہودونصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اگر آئندہ سال حیات (ظاہری) باقی رہی تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا (مسلم ‘ مشکوٰۃ‘ جلد 1ص 442)

یہ 10ھ کا واقعہ ہے اگلے سال رحمت عالمﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمالیا۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس دن اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے پر انعام ہوا ہو‘ اس دن شکر الٰہی بجالانا اور اس دن کی یادگار قائم کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ہے اور صحابہ کرام کی بھی‘ یہاں تک کہ اگر بالفرض اس میں کفار کے ساتھ کچھ مشابہت کا احتمال ہو تو بھی اس فعل کو ترک نہ کیا جائے بلکہ کفار کی مخالفت کی کوئی اور صورت پیدا کی جائے۔

سرکار مدینہﷺ کا ارشاد ہے: رمضان کے بعد افضل روزہ اﷲ تعالیٰ کے مہینے محرم کاروزہ (عاشورہ کا روزہ) اور فرض نمازوں کے بعد افضل نماز‘ رات کی نماز (تہجد) ہے (مسلم‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 441)

غیب بتانے والے آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا: مجھے اﷲ تعالیٰ کے کرم سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے اس روزہ کو پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا (مسلم‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 443)

حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ محبوب کبریاﷺ ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کا حکم فرماتے‘ ترغیب دلاتے اور ہماری نگرانی بھی فرماتے تھے۔ (مسلم ‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 446)

عاشورہ کے دن جو کام ممنوع ہیں

عاشورہ کے دن سیاہ کپڑے پہننا‘ سینہ کوبی کرنا‘ کپڑے پھاڑنا‘ بال نوچنا‘ نوحہ کرنا‘ پیٹنا‘ چھری‘ چاقو سے بدن زخمی کرنا‘ جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے‘ حرام اور گناہ ہے‘ ایسے افعال شنیعہ سے مکمل بچنا چاہئے (موضوعات الکبیر)

شب عاشورہ کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا: جو شخص عاشورہ کی رات عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے‘ اسے موت کے وقت تکلیف کا احساس تک نہ ہوگا۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسمﷺ کا ارشاد ہے‘ جو شخص عاشورہ کی رات کو عبادت کے ذریعے زندہ رکھے (یعنی شب بیداری کرے) تو جب تک چاہے گا اﷲ تعالیٰ اسے بھلائی پر زندہ رکھے گا (غنیتہ الطالبین ص 534)

نبی کریمﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا ہے اور فرض نمازوں کے بعد عاشورہ کی رات میں نفل پڑھنا افضل ہے (ایضا)

عاشورہ کی رات کے نفل

عاشورہ کی رات کے متعلق بہت نفل نمازیں آئی ہیں۔

1۔ جو شخص اس رات میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد پچاس بار قل ہوا اﷲ احد پڑھے تو مولائے کریم اس کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس سال آئندہ کے گناہ بخش دیتا ہے اور اس کے لئے ملاء اعلیٰ میں ایک ہزار محل تیار کرتا ہے (ماثبت من السنہ‘ ص 16‘ غنیتہ الطالبین ج 2ص 54)

 2۔ اس رات کو دو رکعت نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں‘ جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین بار قل ہو اﷲ احد پوری سورہ پڑھے‘ جو آدمی اس رات میں یہ نمازپڑھے گا تو اﷲ تبارک و تعالیٰ قیامت تک اس کی قبر روشن رکھے گا (جواہر غیبی)

عاشورہ کے دن کے نفل

امام الانبیاء و المرسلینﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی عاشورہ کے روز چار رکعت نفل نماز پڑھے ک ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور قل ہو اﷲ احد گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دیتا ہے اوراس کے لئے ایک نورانی ممبر بناتا ہے (نزہتہ المجالس ج 1ص 146) (دو رکعت نفل شہدائے کربلاکے لئے پڑھئے)

سانحہ کربلا

عاشورہ کے روز یزیدی ظالم حکومت نے سیدنا حضرت امام حسین مظلوم رضی اﷲ عنہ کو سلطنت و ملک کے ہوس میں شہید کردیا تھا انا ﷲ و انا الیہ راجعون جس کے متعلق حبیب کبریاﷺ نے گاہے بگاہے خبردار کیا تھا۔

چنانچہ سیدنا حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے رحمتﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا لخت جگر فرات ندی کے کنارے شہید کیا جائے گا۔

اور سیدہ حضرت عائشہ بنت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ محبوب رب العالمین شفیع المذنبینﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرا بیٹا حسین (رضی اﷲ عنہ) ارض طف (سرزمین کربلا) میں شہید کیا جائے گا اور جبرائیل (علیہ السلام) اس جگہ کی مٹی میرے پاس لائے ہیں جو حسین (رضی اﷲ عنہ) کی قتل گاہ ہے

اور ام فضل بنت حارث رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم رئوف رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت عنقریب میرے اس پیارے بیٹے (حسین رضی اﷲ عنہ) کو شہید کردے گی اور اس جگہ کی سرخ مٹی میرے پاس لائی گئی ہے۔

اور سیدہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا فرات کی زمین میں شہید کیا جائیگا۔ میں نے جبرائیل سے کہا کہ مجھے اس کے مقتل کی مٹھی دکھائو تو جبرائیل علیہ السلام نے وہ مٹی لاکر مجھے دی اور کہا کہ یہ اسی مقتل کی مٹی ہے۔

طبرانی کبیر میں سیدہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ میری امت کے لوگ میرے اس نور نظر حسین (رضی اﷲ عنہ) کو شہید کردیں گے اور اﷲ تعالیٰ کے قاتلوں پر سخت غضب فرمائے گا۔

ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ میرے اس بیٹے حسین (رضی اﷲ عنہ) کو سرزمین عراق میں شہید کردیا جائے گا پس جو شخص وہاں حاضر ہو تو حسین (رضی اﷲ عنہ) کی مدد کرے۔

طبرانی کبیر میں حضرت زینت بنت حجش راوی ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ میں نے یحییٰ بن ذکریا کے بدلے ستر 70 ہزار کو قتل کیا اور تیری صاحبزادی کے بیٹے حسین (رضی اﷲ عنہ) کے بدلے ستر70 ہزار اور ستر 70 ہزار یعنی دو چند کو قتل کروں گا۔

سلمیٰ انصاریہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس حاضر ہوئی تو دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میں نے ابھی خواب میں رحمتہ للعالمینﷺ کو دیکھا۔ آپ کا سر اور داڑھی مبارک غبار آلود تھی اور آپ رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یارسول اﷲﷺ آپ کوکیا ہوگیا ہے؟ فرمایا: میں ابھی مقتل حسین (رضی اﷲ عنہ) میں گیا تھا۔

واقعہ کربلا کی مزید تفصیل درج ذیل کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے (ماثبت من السنہ)

عاشورہ اور صدقہ

یوم عاشورہ میں صحابہ کرام اور اہل بیت عظام خصوصا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی ارواح مبارکہ کو ایصال ثواب کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ اسی لئے مسلمان عموما اس روز قرآن خوانی کرتے ہیں۔ آیات واحادیث کی روشنی میں شہادت کی فضیلت اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے اور سنتے ہیں پھر شربت‘ حلیم اور دیگر طعام پر فاتحہ پڑھ کر ان نفوس قدسیہ کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔ یہ سب امور جائز و مستحب ہیں۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’خبردار! روافض کی بدعتوں میں شامل نہ ہونا‘ گریہ زاری آہ و بکا‘ سینہ کوبی‘ نوحہ‘ ماتم‘ ظاہری اظہار (جیسے سیاہ لباس وغیرہ) میں مشغول نہ ہوجانا‘ کیونکہ ان کاموں کا مسلمانوں کے عقائد و اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ (ماثبت من السنہ ص 20)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.