بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡرِىۡ نَفۡسَهُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ‌ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوۡفٌ ۢ بِالۡعِبَادِ

اور لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے بدلہ میں اپنی جان کو فروخت کردیتا ہے ‘ اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے

رضاء الہی کی خاطر دنیا کرنے والا :

اس آیت میں باقی ماندہ اقسام میں اس شخص کا بیان ہے جو آخرت کی خاطر دنیا کو ترک کردیتا ہے اور وہ صرف آخرت میں رغبت رکھتا ہے۔

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن مردویہ نے حضرت صہیب رومی (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب میں نے مکہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو مجھ سے قریش نے کہا : اے صہیب ! جب تم ہمارے پاس آئے تھے تو تمہارے پاس کچھ مال نہ تھا ‘ اور اب تم یہ سارا مال لے کر جا رہے ہو ‘ خدا کی قسم ! ہرگز نہیں ہوسکتا ‘ میں نے ان سے کہا : یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنا سارا مال تم کو دے دوں تو پھر تم مجھے جانے دو گے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! میں نے ان سے کہا : یہ سارا مال لے لو ‘ اور مجھے جانے دو ‘ جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ فرمایا : صہیب تمہاری تجارت نے نفع پایا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٤٠۔ ٢٣٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

حافظ ابن عساکر روایت کرتے ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت صہیب ہجرت کرکے مدینہ جانے لگے تو قریش نے ان کا پیچھا کیا ‘ حضرت صیہب سواری سے اتر گئے اور اپنی کمان کو سیدھا کرلیا اور کہا : اے قریش کی جماعت ! تم کو معلوم ہے میں تم سب سے بڑا تیر انداز ہوں اور خدا کی قسم ! جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہوگا تم مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے ‘ پھر جب تک میرے ہاتھ میں تلوار رہے گی میں تم سے مقابلہ کرتا رہوں گا اب جو چاہو کرو اور اگر تم چاہو تو میں تم کو بتاتا ہوں میرا مال کہاں رکھا ہے بہ شرطی کہ تم میرا راستہ چھوڑ دو ‘ انہوں نے کہا : ہاں ! سو انہوں نے ایسا ہی کیا جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا تمہاری بیع نفع یاب ہوئی اور یہ آیت نازل ہوگئی : اور لوگوں میں سے ایک شخص ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے بدلہ میں اپنی جان فروخت کردیتا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ١١ ص ١١٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت صہیب بن سنان اور حضرت ابوذر غفاری جندب بن سکن (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ حضرت ابوذر کو ان کے گھر والوں نے پکڑ لیا ‘ وہ ان کی گرفت سے نکل کر بھاگے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے اور حضرت صہیب (رض) کو مشرکین مکہ نے پکڑ لیا ‘ وہ فدیہ میں ان کو اپنا مال دے کر ہجرت کیلیے چل پڑے راستہ میں منقد بن عمیر بن جدعان نے ان کو پکڑ لیا ‘ وہ اس کو باقی ماندہ مال دے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

ربیع بیان کرتے ہیں کہ مکہ والوں میں سے ایک شخص مسلمان ہوگیا ‘ اس نے ہجرت کر کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے کا ارادہ کیا ‘ راستہ میں مشرکین نے ان کو پکڑ لیا ‘ انہوں نے کہا : میں تم کو اپنا گھر اور اپنا سارا مال ومتاع دیتا ہوں ‘ تم مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے دو ‘ پھر وہ اپنا سب کچھ دے کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ راستہ میں حضرت عمر (رض) سے ملاقات ہوئی ‘ انہوں نے کہا : تمہاری بیع نفع بخش ہے ‘ اس میں کوئی گھاٹا نہیں ہے انہوں نے پوچھا ؛ کیسی بیع ؟ کہا : تمہارے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک لشکر بھیجا۔ لشکر والوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کرلیا ‘ پھر لشکر میں ایک مسلمان نکلا اور قلعہ والوں سے قتال کیا حتی کہ وہ شہید ہوگیا ‘ لوگ کہنے لگے : اس نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالا ہے ‘ حضرت عمر (رض) تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا : نہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی جان دے کر اللہ کی رضا کو خرید لیا ہے۔

حسن بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کا کافر سے مقابلہ ہوا ‘ مسلمان نے کافر سے کہا : لا الہ الا اللہ “ پڑھو ‘ تم یہ کلمہ پڑھ لو گے تو تمہاری جان اور مال پر حملہ نہیں ہوگا ‘ کافر نے انکار کیا ‘ مسلمان نے کہا : میں اپنی جان کو اللہ کے ہاتھ بیچتا ہوں ‘ یہ کہہ کر اس کافر پر حملہ کیا اور راہ حق میں شہید ہوگیا۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٨٧۔ ١٨٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ آلوسی نے کو اشی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت زبیر بن عوام اور حضرت مقداد بن اسود (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اہل مکہ نے حضرت خبیب کو سولی پر لٹکا دیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو خبیب کو سولی پر سے اتارے گا اس کے لیے جنت ہے۔ حضرت زبیر نے کہا : میں اور میرا ساتھی مقداد اتاریں گے ‘ اور شیعہ نے کہا : یہ آیت حضرت علی (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مکہ میں اپنے بستر پر سلا کر چلے گئے تھے۔ (روح المعانی ج ٢ ص ٩٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

یہ تمام آثار اس آیت کے نزول کے متعلق اور مطابق ہیں لیکن درحقیقت یہ آیت ان تمام لوگوں کے حق میں عام ہے جو نیکی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور جو شخص نیکی کی راہ میں مزاحم ہو تو وہ محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان اور مال سے اس کے خلاف جہاد کرتے ہیں وہ خود بھی نیک کام کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کرتے ہیں ‘ خود بھی برائی سے بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی برائی سے روکتے ہیں اور اس عظیم مقصد کے لیے محض اللہ کی رضا کی خاطر ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دیتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 207