عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ مخلوق

سجدہ کرنے والے جنات

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر‘ تمام نبیوں کے سرور‘ دوجہاں کے تاجور‘ سلطان بحروبرﷺ نے ایک مرتبہ سورۃ النجم تلاوت فرمائی اور سجدہ کیا تو وہاں موجود جن و انس نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ (حلیۃ الاولیاء الحدیث ۱۲۲۵ ج ۸‘ ص ۲۹۴)

جنات کون ہیں؟

قرآن مجید واحادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ جن اﷲ عزوجل کی ایک مخلوق ہے جو اپنا وجود رکھتی ہے۔ جنات کو ایک خاص علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایسے عجیب و غریب اور مشکل ترین کام کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جنہیں کرنا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ۔(الحدیقۃ الندیۃ ج ۱ ص ۸۲‘۸۳ ماخوذ)

جنات کے وجود کا انکار کرنا کیسا؟

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اﷲ القوی اپنی مایہ ناز تالیف ’’بہار شریعت‘‘ میں لکھتے ہیں ’’جنات کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے‘‘ (بہار شریعت حصہ ۱ ص ۵۰)

جن کو جن کیوں کہتے ہیں؟

شارح بخاری علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی علیہ رحمتہ اﷲ الغنی (المتوفی ۸۵۵ھ) لکھتے ہیں ’’لغت میں جن کا معنی ہے ’’ستر اور خفا‘‘ اور جن کو اسی لئے جن کہتے ہیں کہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ فرشتوں کو بھی جن کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتے تھے۔

(عمدۃ القاری‘ کتاب بدء الخلق ‘ باب ذکر الجن وثوابہم وعقابہم ج ۱۰ ص ۶۴۴ مخلصا)

جنات کو کس سے پیدا کیا گیا؟

جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ (کنزالایمان) اور جن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے (پ ۱۴‘ الحجر ۲۸)

اور سورہ الرحمن میں ارشاد ہوتا ہے

ترجمہ (کنزالایمان) اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لو کے (یعنی لپٹ) سے (پ ۲۸ الرحمن ۱۵)

شارح بخاری علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی علیہ الرحمہ الغنی (المتوفی ۸۵۵ھ) لکھتے ہیں : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک‘ صاحب لولاک‘ سیاح افلاکﷺ نے فرمایا ’’فرشتوں کو نور سے‘ جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

(صحیح مسلم‘ الحدیث ۲۹۹۶ ص ۱۵۹۸)

اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ جن کی اصل آگ ہے جیسا کہ انسان کی اصل مٹی ہے۔ قرآن پاک میں حکایت کردہ ابلیس کا قول (خلقتنی من نار) (ترجمہ کنزالایمان) تو نے مجھے آگ سے بنایا (پ ۸ الاعراف ۱۲) بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جن کی اصل آگ ہے (عمدۃ القاری باب ذکر الجن وثوابہم ج ۱۰ ص ۶۴۳)

جنات کس دن پیدا ہوئے؟

حضرت سیدنا ربیع بن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کو بدھ کے دن‘ جنات کو جمعرات اور سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلواۃ و السلام کو جمعہ کے دن پیدا کیا

(جامع البیان فی تاویل القرآن‘ الحدیث ۶۰۲‘ ج ۱‘ ص ۲۳۸)

جنات کو انسان سے پہلے پیدا کیا گیا؟

حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت کو جہنم سے پہلے‘ اپنی رحمت کی اشیاء کو اپنے غضب کی چیزوں سے پہلے‘ آسمان کو زمین سے پہلے‘ سورج و چاند کو ستاروں سے پہلے‘ دن کو رات سے پہلے‘ دریا کو خشکی سے پہلے‘ فرشتوں کو جنوں سے پہلے‘ جنوں کو انسانوں سے پہلے اور نر کو مادہ سے پہلے پیدا فرمایا۔ (کتاب العظمۃ ‘ صفۃ ابتداء الخلق‘ الحدیث ۸۹۱ ص ۲۹۹)

زمین پر انسان سے پہلے جنات آباد تھے

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام کی تخلیق سے دوہزار سال پہلے زمین پر جنات رہتے تھیٍ انہوں نے زمین پر فساد برپا کیا اور خونریزی کی۔ جب انہوں نے زمین میں فساد پھیلانے کو اپنا وتیرہ بنالیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھیجے جنہوں نے انہیں مارا اور سمندری جزیروں کی طرف بھگا دیا (الدرالمنشور‘ ج ۱ ‘ ص ۱۱۱)

ابلیس بھی جنات میں سے ہے

اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :ترجمہ (کنزالایمان) تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے قوم  جن سے تھا

(پ ۱۵ الکہف ۵۰)

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی الشافعی علیہ رحمتہ اﷲ القوی (المتوفی ۹۱۱ھ) نقل کرتے ہیں : شیاطین جنات ہی کی نافرمان قسم کا نام ہے جو ابلیس کی اولاد سے ہیں (لقط المرجان فی احکام الجان ‘ ذکر وجودھم ص ۲۴)

شیطان کی دو قسمیں

صدر الافاضل حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمتہ اﷲ الھادی (المتوفی ۱۳۶۷ھ) تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : شیطان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک جنوں میں سے ایک انسانوں میں سے جیسا کہ قرآن پاک میں ہے (شیطین الانس والجن) ترجمہ (کنزالایمان) آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان (پ ۸ الانعام ۱۱۲) (خزائن العرفان‘ پ ۲۴‘ حم السجدۃ‘ زیر آیت ۲۹)

جنات کا باپ

حضرت سیدنا حسن رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : جس طرح حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام تمام انسانوں کے باپ ہیں اسی طرح ابلیس تمام جنات کا باپ ہے (کتاب العظمۃ الحدیث ۱۱۴۰ ص ۴۲۹)

جنات کی اولاد

جنات کے یہاں بھی اولاد پیدا ہوتی ہے جس سے ان کی نسل چلتی ہیٍ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اولاد شیطان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :

ترجمہ (کنزالایمان) بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوادوست بناتے ہو اور وہ ہمارے دشمن ہیں

(پ ۱۵ الکہف ۵۰)

علامہ محمود آلوسی علیہ الرحمہ الغنی (المتوفی ۱۲۸۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ’’ظاہر یہ ہے کہ ذریت سے مراد اولاد ہے‘ پس یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ شیطان کی بھی اولاد ہوتی ہے (روح المعانی ج ۱۵ ص ۳۸۰)

سورہ الرحمن میں ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ (کنزالایمان) ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے (پ ۲۸‘ الرحمن ۵۶)

امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ الہادی (المتوفی ۶۰۶ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ’’جنات کی بھی اولاد ہوتی ہے‘‘ (تفسیر کبیر سورہ الرحمن ج ۱۰‘ ص  ۳۷۶)

حضرت سیدنا ابو الشیخ اصبہانی علیہ الرحمہ اﷲ الغنی (المتوفی ۳۹۶ھ) ’’کتاب العظمۃ‘‘ میں اﷲ تعالیٰ کے فرمان ’’افتتخذونہ وذریتہ‘‘ کی تفسیرمیں حضرت سیدنا قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ’’جنات کی بھی اسی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے جس طرح انسانوں کی پیدا ہوتی ہے اور جنات کثیر تعداد میں پیدا ہوتے ہیں (کتاب العظمۃ ذکر الجن و خلقہم الحدیث ۱۱۴۸ ص ۴۳۱)

جنات کی طاقت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲ تعالیٰ نے جنوں کو بعض ایسے غیر معمولی اوصاف عطا کئے ہیں جو انسان میں عموماً نہیں پائے جاتے ہیں۔

تخت بلقیس لانے کی پیشکش

حضرت سلیمان علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام کی بارگاہ میں ایک جن نے شہر سبا کی ملکہ بلقیس کا تخت (جوکہ بہت دور تھا) بہت کم وقت میں لانے کی پیشکش کی تھی‘ چنانچہ قرآن میں ہے:

ترجمہ (کنزالایمان) سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں سے کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں۔ ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بے شک اس پر قوت والا امانتدار ہوں۔

نبی کریمﷺ کی تشریف آوری کی خبر

حضور اکرم‘ نور مجسمﷺ کی بعثت مبارکہ کی خبر مدینہ منورہ میں سب  سے پہلے جنات نے دی۔ چنانچہ حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضوراقدسﷺ کی تشریف آوری کی خبر سب سے پہلے اس طرح پہنچی کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت رہتی تھی جس کے تابع ایک جن تھا۔ وہ ایک پرندے کی شکل میں آیا اور اس عورت کے گھر کی دیوار پر بیٹھ گیا۔ عورت نے اس سے کہا

’’آؤ ہم تمہیں کچھ سنائیں اور کچھ تم ہمیں سناؤ‘‘

اس نے کہا

’’اب ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ مکہ میں ایک نبی مبعوث ہوئے ہیں جس نے ہمیں دوستی سے منع کردیا ہے اور ہم پر زنا کو بھی حرام کردیا ہے‘‘

(المعجم الاوسط‘ الحدیث ۷۶۰‘ج ۱ ص ۲۲۴)

خبر رساں جن

امیر المومنین حضرت سیدنا عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دشمنان اسلام کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر اسلام روانہ فرمایا۔ پھر (چند دنوں بعد) ایک شخص مدینہ منورہ آیا اور اس نے اطلاع دی کہ مسلمان دشمنوں پر فتح یاب ہوگئیٍ یہ خبر مدینہ منورہ میں عام ہوگئی۔ جب حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس بارے میں علم ہوا تو ارشاد فرمایا ’’یہ ابو الہیشم‘‘ جنوں کے خبر رساں (یعنی خبر پہنچانے والے) ہیں عنقریب انسانوں کا خبر رساں بھی پہنچنے والا ہے چنانچہ چند دنوں میں وہ بھی پہنچ گیا

(کیونکہ جن تیز رفتار ہوتے ہیں اس لئے اس نے جلدی خبر پہنچادی اور انسان اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتا اس لئے انسان کے ذریعے دیر میں اطلاع ملی)

(لقط المرجان فی احکام الجان ‘ فی جواز سوال … الخ ص ۱۹۲)

ٹیلوں اور وادیوں میں رہنے والے جنات

حضرت سیدنا بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اﷲ عزوجل کے محبوب‘ دانائے غیوب‘ منزہ عن العیوبﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں آپﷺ کے پاس پانی کا برتن لے گیا تو میں نے آپﷺ کے پاس لوگوں کے لڑنے جھگڑنے کی آواز سنی۔ اس طرح کی آواز میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ جب پیارے آقاﷺ تشریف لے آئے تو میں نے عرض کی ’’یارسول اﷲﷺ میں نے آپ کے پاس لوگوں کے لڑنے جھگڑنے کی آواز سنی اور اس سے پہلے میں نے ایسی آواز کسی کی زبان سے نہیں سنی تھی؟‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میرے پاس مسلم جنات اور مشرک جنات آپس میں جھگڑ رہے تھے ان لوگوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں انہیں رہنے کی جگہ دے دوں تو میں نے مسلمان جنوں کو ٹیلوں و چٹانوں میں جگہ دے دی اور مشرک جنوں کو پست زمین (یعنی گڑھوں‘ کھائیوں اورغاروں) میں جگہ دے دی۔

(المعجم الکبیر‘ الحدیث ۱۱۴۳ ج ۱ ص ۳۷۱)

بلوں میں رہنے والے جنات

حضرت سیدنا عبداﷲ بن سرجس رضی اﷲ عنہ حضرت سیدنا قتادہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے بل (یعنی سوراخ) میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ لوگوں نے حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ بل میں پیشاب کرنے سے ممانعت کی کیا وجہ ہے؟ حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’کہاجاتا ہے کہ بل جنات کے رہنے کی جگہ ہے‘‘

(سنن ابی دائود‘ کتاب الطہارۃ‘ باب النہی عن البول فی الجحر‘ الحدیث ۷۹‘ ج ۱ ص ۴۴)

ویرانوں میں رہنے والے جنات

علامہ بدر الدین شبلی علیہ رحمتہ اﷲ القوی (المتوفی ۷۱۹ھ) نقل کرتے ہیں: اعرابیوں (یعنی عرب کے رہنے والے دیہاتیوں) کا بیان ہے کہ ہم کثیر لوگ ہوتے اور کہیں پڑائو کرتے تو ہمیں بہت سے خیمے اور لوگ دکھائی دیتے مگر اچانک سب کچھ غائب ہوجاتا‘ ہمیں یقین ہے کہ دکھائی دینے والے وہ لوگ جنات ہیں (اکام المرجان فی احکام البحان‘ الباب السادس فی تلور الجن و تشکلھم ص ۲۶)

انسانوں کے ساتھ رہنے والے جنات

جو جن انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں اسے عامر کہتے ہیں جس کی جمع عمار ہے (لقط المرجان فی احکام الجان ذکر وجودھم ص ۲۵)

حضرت سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے سنا کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہواور داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اس نے بسم اﷲ پڑھ لی تو شیطان اپنی ذریت سے کہتا ہے کہ اس گھر میں نہ تمہیں رہنا ملے گا نہ کھانا اور اگر داخل ہوتے وقت بسم اﷲ نہ پڑھی تو کہتا ہے اب تمہیں رہنے کی جگہ مل گئی اور کھانے کے وقت بھی بسم اﷲ نہ پڑھی تو کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ بھی ملی اور کھانا بھی ملا۔

(صحیح مسلم‘ کتاب الاشریتہ‘ باب آداب الطعام‘ الحدیث ۲۰۱۸‘ ص ۱۱۱۶)

چکنائی والا کپڑا جن کی اقامت گاہ ہے

حضرت سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اﷲ عزوجل کے محبوب‘ دانائے غیوب منزہ عن العیوبﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! اپنے گھروں سے گوشت کی چکنائی والا کپڑا (دستی رومال) نکال دو (یعنی دھودیا کرو) اس لئے کہ یہ شریر جن کی جگہ ہے اور اس کی قیام گاہ ہے‘‘

(فردوس الاخبار‘ باب الالف‘ الحدیث ۳۴۳‘ ج ۱ ص ۶۸)

جھاڑیوں میں جنات کا بسیرا

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ایک شخص کو قرع میں رفع حاجت کرنے سے منع فرمایا۔ عرض کی گئی ’’قرع کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی جھاڑی والی جگہ میں جائے تو گویا اپنے مکان میں ہے حالانکہ وہ تمہارے بھائی جنات کے رہنے کی جگہ ہے (الکامل فی الضعفاء لابن عدی‘ ج ۴ ص ۳۱۰)

جنات کی اقسام

شارح بخاری علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی علیہ رحمتہ اﷲ الغنی (المتوفی ۸۵۵ھ) نے قرآن پاک ‘ احادیث مبارکہ اور آثار میں غور وفکر کرکے جنات کی چند اقسام بیان فرمائی ہیں۔

(۱) غول

اسے عفریت بھی کہتے ہیں۔ یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ جنگلات میں رہتا ہے ‘ مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عمومادکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے ‘ یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے۔

(۲) سعلاۃ

یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کودیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس سے چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے۔

(۳) غدار

یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی کہیں کہیں پایا جاتا ہے‘ اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہوکر گرجاتا ہے۔

(۴) ولھان

یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شترمرغ پر سوار ہو۔ جو انسان جزیروں میں جاپڑتے ہیں انہیں کھالیتا ہے۔

(۵) شق

یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے‘ دیکھنے والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں‘ سفر میں ظاہر ہوتا ہے

(۶) بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے۔

(۷) بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔

(۸) بعض جنات کتے کی شکل اور (۹) بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں

(عمدۃ القاری‘ ج ۱۰ ص ۶۴۴‘ ماخوذ از رسالہ ’’جنات کی حکایات‘‘ ص ۱۰)

جنات اصلی شکل میں نظر کیوں نہیں آتے؟

جنات بھی ہمارے ساتھ اس زمین میں رہتے ہیں لیکن وہ ہمیں دیکھتے ہیں‘ اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے‘ جو ایمان نہیں لاتے۔

صدر الافاضل حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمتہ اﷲ الھادی (المتوفی ۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے جنوں کو ایسا ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوںکو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا ادراک نہیں ملا کہ وہ جنوں کو دیکھ سکیں‘‘

حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے سموم (یعنی جہنم کی آگ کے سترویں حصے) سے ابوالجنات کو پیدا فرمایا اور اس سے پوچھا ’’اے ابوالجن‘ تمہاری کیا خواہش ہے؟ اس نے کہا میری تمنا یہ ہے کہ ہم سب کو دیکھیں اور ہمیںکوئی نہ دیکھے اور ہم زمین میں چھپ جائیں اور ہمارا ادھیڑ عمر بھی نہ مرے یہاں تک کہ اس کی جوانی و اپس آجائے (یعنی ہمارا ادھیڑ عمر بھی جوان ہوکر مرے)‘‘ تو اﷲ تعالیٰ نے اس کی یہ تمنا پوری فرمادی۔ اسی لئے جنات ہم سب کو دیکھتے ہیں لیکن ہم لوگ انہیں نہیں دیکھ پاتے اور جب وہ مرتے ہیں تو زمین میں غائب ہوجاتے ہیں اور ان کو بوڑھا بھی جوان ہوکر مرتا ہے‘‘

(اکام المرجان فی احکام الجان ‘ الباب الثانی فی ابتداء خلق الجن‘ ص ۱۲)

علامہ بدر الدین شبلی علیہ رحمتہ اﷲ القوی (المتوفی ۷۶۹ھ) لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن سلیمان علیہ رحمتہ اﷲ الحنان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی علیہ الرحمہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کو دیکھا ہے تو میں نے اس کی گواہی باطل قرار دیتا ہوں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (انہ یرکم ھو وقبیلہ من حیث لاترونھم‘ انا جعلنا الشیطین اولیآء للذین لامومنون o (پ ۸‘ الاعراف ۲۸) مگر یہ کہ وہ نبی ہو۔

(آکام المرجان فی احکام الجان‘ الباب السادس فی تطور وتشکلھم ص ۲۳)

یاد رہے کہ عام انسان جنات کو اصل حالت میں نہیں دیکھ پاتا لیکن اگر یہ کسی اور شکل میں ہوں تو انسان کا ان کو دیکھنا کثیر روایات سے ثابت ہے۔

جنات کی مختلف شکلیں

علامہ بدر الدین شبلی حنفی علیہ الرحمہ القوی (المتوفی ۸۶۹ھ) اپنی کتاب ’’اکام المرجان فی احکام الجان‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں‘ بچھوئوں‘ اونٹوں‘ بیلوں‘ گھوڑوں‘ بکریوں‘ خچروں‘ گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔

(آکام المرجان فی احکام الجان الباب السادس فی تطور الجن و تشکلھم ص ۲۱)

جنات کی تین قسمیں

حضرت سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ قرار قلب و سینہ‘ صاحب معطر پسینہ‘ باعث نزول سکینہ‘ فیض گنجینہﷺ نے فرمایا ’’جنات کی تین قسمیں ہیں‘ اول جن کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں‘ دوم‘ سانپ اور کتے اور سوم جو سفر اور قیام کرتے ہیں۔‘‘

(المستدرک للحاکم‘ الجن ثلاثتہ اصناف‘ الحدیث ۳۴۵۴‘ ج ۳ ‘ ص ۲۵۴)