بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ زَلَـلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَيِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَکِيۡمٌ

پھر اگر روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی تم پھسلنے لگو ‘ تو یقین رکھو کہ اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اگر روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی تم پھسلنے لگو تو یقین رکھو کہ اللہ بہت غالب ‘ بڑی حکمت والا ہے۔۔ (البقرہ : ٢٠٩)

بینات کی تفسیر :

اگر پہلی آیت میں کفار سے خطاب ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بینات (روشن دلیلیں) آنے کے بعدتم کفر کرو تو یقین کرو کہ اللہ بہت غالب ہے اور اگر اس میں مسلمانوں سے خطاب ہے تو مراد یہ ہے کہ اگر بینات آنے کے بعد تم معصیت کرو ‘ یا خطا کرو یا گمراہی پر رہو تو یقین رکھو کہ اللہ بہت غالب ہے ‘ بڑی حکمت والا ہے۔

بینات سے مراد اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلائل ہیں ‘ یا اس سے مراد حضرت سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کو تعظیما جمع سے تعبیر فرمایا ہے ‘ ہرچند کہ آپ واحد بالشخص ہیں ‘ لیکن آپ معنی کثیر ہیں یا اس سے مراد قرآن مجید ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 209