حدیث نمبر :107

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اﷲ نے لعنت کی ۱؎ اور ہر نبی مقبول الدعاء ہے ۲؎ اﷲ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا ۳؎ اﷲ کی تقدیر کا انکاری،جبرًا قبضہ جمانے والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اﷲ نے عزت دی او ر انہیں عزت دے جنہیں اﷲ نے ذلیل کیا۴؎ اور اﷲ کے حرام کو حلال سمجھنے والا۵؎ اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اﷲ نے حرام کیا۶؎ اور میری سنت کو چھوڑنے والا۷؎

شرح

۱؎ لعنت کے معنی ہیں دُوری جب اس کا فاعل بندہ ہو تو معنٰے ہوتے ہیں دُوریٔ رحمت کی بددعا کرنا،اور اگر فاعل ربّ ہو تو معنٰے ہوتے ہیں رحمت سے دور کرنا،کسی مسلمان پر نام لے کر لعنت جائز نہیں،وصفِ اجمالی سے لعنت جائز جیسے جھوٹوں اور زانیوں پر خدا کی لعنت،نیز اُن کفار پر بھی لعنت جائز ہے جن کا کفر پر مرنا یقینی ہوچکا جیسے ابوجہل و ابولہب وغیرہ۔لِعان میں لعنت و صف ہی پر ہے اس حدیث میں بھی یہی لعنت ہے۔

۲؎ یعنی ہر نبی کی ہر دعا قبول اگر ان کی کوئی دعا خلاف قضاء وقدر ہوجائے تو ان کو دعا مانگنے سے روک دیا جاتاہے ردّ وہ بھی نہیں ہوتی،رب نے ابراہیم علیہ السلام سے فر مایا”یٰۤـاِبْرٰہِیۡمُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا”۔

۳؎ قرآن ہو یا کوئی آسمانی کتاب لفظی زیادتی کرے یامعنوی۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جنہوں نے آج قرآن کی تفسیر کو کھیل سمجھ رکھا ہے اور آیات کے وہ معانی کررہے ہیں جو آج تک کسی مؤمن کے خیال میں بھی نہ تھے،علماء فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی شاذ قراتیں حدیث کے حکم میں ہیں وہ قرآن نہیں نہ اس کی تلاوت جائز۔(مرقاۃ)

۴؎ یعنی لوگوں کے خلاف مرضی اُن کا ناجائز حاکم بن جانے والا جیسا آج کل علی العموم ہورہا ہے۔خیال رہے کہ قوم یا ملک کے بگڑنے کی صورت میں اس کو سنبھالنے کے لیے زمامِ حکومت ہاتھ میں لے لینا سنت یوسف علیہ السلام ہے۔یہاں وہ حکام مراد ہیں جو دین و ملک کو بگاڑنے کے لیے حاکم بنیں،فاسقوں کو مرتبے دیں،علماء واولیاء کو ذلیل کرنے کی کوشش کریں۔

۵؎ یعنی مکہ مکرمہ کے حدود میں فتنہ،فساد،شکار اور قطع اشجار وغیرہ وہ کام کرنے والا جو شریعت نے علی العموم یا وہاں حرام کیے۔

۶؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی بے حرمتی،اُن پر ظلم و ستم کرنے والا،عترت رسول اﷲ اولادِ فاطمہ زہرا ہے ان کی تعظیم داخل فی الدین ہے،جب قرب کعبہ کی وجہ سے حرم کی زمین کا احترام ہے تو قرابت ِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے سادات کرام کا احترام یقینًالازم ہے،یا اس جملے کے معنے یہ ہیں کہ جو میری اولاد ہو اور اﷲ کے حرام کو حلال جانے اس پر لعنت ہے۔(اشعۃ اللمعات)کہ اگرچہ جرم سب کے لیے بُرا مگر سادات کے لیے زیادہ بُرا،اس سے سید حضرات کو عبرت پکڑنی چاہیے وہ اپنے باپ دادوں کا نمونہ بنیں صرف سیّد ہونے پر فخر نہ کریں۔

۷؎ حقیر جان کر سنتِ رسول اﷲ مؤکدہ ہو یا غیر مؤکدہ زائدہ ہو یا ھُدٰی اس کو حقیر جاننا،مذاق اُڑانا قطعًا کفر ہے۔سنت ھُدٰی کا ہمیشہ چھوڑنے والاحضور کی ایک شفاعت سےمحروم رہے۔