حدیث نمبر :109

روایت ہےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسےفرماتی ہیں میں نےعرض کیا یارسول اﷲ مسلمانوں کے بچے۱؎ (کہاں جائیں گے)فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں ۲؎ تو میں بولی یارسول اﷲ بغیر عمل فرمایا اﷲ جانتا ہے وہ کیا کرتے۳؎ میں نے عرض کیا تو کفار کے بچے،فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں۴؎ میں بولی بغیر کچھ کیئے فرمایا اﷲ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے۵؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی جو ہوش سے قبل فوت ہوجائیں وہ کہاں جائیں گے۔

۲؎ یعنی جنتی ہیں اور جنت میں جو درجہ ان کے باپ دادوں کا ہوگا وہی ان کا لہذا حضرت قاسم،ابراہیم وغیرہم حضور علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے،اولاد تو بہت اعلٰی قرب رکھتی ہے۔ان شاءاﷲ حضور کو چاہنے والے حضور کے ہمراہ ہوں گے،گلدستہ کی گھاس بھی پھول کے طفیل بادشاہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتی ہے۔

۳؎ یعنی جنت کے داخلے کے لیے بالفعل عمل ہی شرط نہیں،تقدیری عمل بھی کافی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو مسلمان کے بچے تھے،اچھے ہی کام کرتے،اس بنا پر جنت میں جائیں گے بلکہ بعض گنہگارنیک کاروں کے طفیل جنتی ہیں جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے۔

۴؎ یعنی اُن کے ساتھ دوزخ میں۔

۵؎ کہ اگر وہ زندہ رہتے تو کافر کے بچے تھے،کفر ہی کرتے۔جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ جزو اُن آیات سے منسوخ ہے جن میں فرمایا کہ بلا جُرم دوزخ نہ دی جائے گی یہ بارہا عرض کیا جاچکا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:”وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ “الآیہ۔