بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَلۡ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ كَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ‌ؕ وَمَنۡ يُّبَدِّلۡ نِعۡمَةَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

بنو اسرائیل سے پوچھئے ہم نے ان کی کتنی نشانیاں دی تھیں ؟ اور جو اللہ کی نعمت حاصل ہونے کے بعد اس کو بدل دے تو (وہ سن لے کہ) اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

بنواسرائیل کا اللہ کی نعمتون کو کفر سے تبدیل کرنا :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ وہ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ بادلوں کے سائبانوں میں اللہ کا عذاب آجائے ‘ بہ ظاہر یہ امر بہت حیران کن تھا ‘ لیکن بنواسرائیل میں بادلوں کی آیات اور نشانیوں کا کئی بار مشاہدہ کرچکے تھے ‘ جب انہیں مصر سے نکالا گیا تھا اور پہاڑ طور پر وہ ان آیات کا مشاہدہ کرچکے تھے ‘ اس لیے فرمایا : اگر تم کو یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہو تو بنواسرائیل سے پوچھو ہم ان کو کتنی نشانیاں دے چکے ہیں ‘ وہ اس کا انکار نہیں کرسکتے اور ان آیات کا نازل ہونے کے بعد ان کا سکوت کرنا ان کے اقرار کی دلیل ہے۔ اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ مسلمان بنواسرائیل کی تاریخ پر توجہ کریں ‘ ان کے بادشاہوں علماء ‘ ان کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کے فرقوں میں تقسیم ہونے پر غور کریں اور وہ جن طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرے ہیں ان سے عبرت حاصل کریں۔ اس آیت کا یہ منشاء نہیں ہے کہ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا صحابہ بنو اسرائیل سے جا کر پوچھیں کہ تم پر اللہ کی کتنی نشانیاں اتر چکی ہیں :۔

اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کو بہت سی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن کو انہوں نے تبدیل کردیا تھا اور اس کی وجہ سے ان پر طرح طرح کے عذاب آتے رہے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطاکی ‘ انہوں نے اس پر عمل کرنے کے بجائے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ‘ پھر پہاڑ طور کو ان کے سروں پر معلق کردیا اور فرمایا : اس کو قبول کرو ورنہ یہ پہاڑ تم پر آ گرے گا ‘ ان کو اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی نعمت عطا کی ‘ انہوں نے اس کا صلہ یہ دیا کہ اللہ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا ‘ سو ایک کڑک نے ان کو ہلاک کردیا ‘ ان پر من وسلوی نازل کیا گیا ‘ انہوں نے نافرمانی کر کے اس کو بچا کر رکھنا شروع کیا نتیجۃ وہ سڑنے لگا ان سے کہا گیا کہ ” حطۃ “ کہنا انہوں نے اس کے بجائے ” حنطۃ فی شعیرۃ “ کہا ان سے کہا گیا تھا : شرک نہ کرنا ‘ انہوں نے گو سالہ پرستی کی ‘ ان سے کہا گیا تھا کہ ہفتہ کو مچھلیوں کا شکار نہ کرنا ‘ انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کو حوضوں میں جمع کرلیا جس کی سزا میں ان کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ملنے کے بعد اس کو بدل دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔

یہ تو بنو اسرائیل کے آباء و اجداد کو دی ہوئی نعمتوں ‘ ان کی ناشکری اور ان پر ملنے والی سزاؤں کا بیان تھا اور نزول وحی کے زمانہ میں جو بنو اسرائیل تھے انہوں نے اللہ کی جس نعمت کے ساتھ کفر کیا وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ہے۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے (آیت) ” الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ (ابراہیم : ٢٨) کی تفسیر میں فرمایا : اللہ کی نعمت کو بدلنے والے کفار قریش ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی نعمت ہیں، (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٦٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

تمام نعمتوں کی اصل اور نعمت عظمی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وجود مسعود ہے ‘ بنو اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی نعمت عظمی عطا فرمائی لیکن انہوں نے ناشکری کی اور آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کا کفر کیا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کافروں کے لے دنیا کی زندگی مزین کردی گئی ہے۔ (البقرہ : ٢١٢)

اللہ کی نعمتوں کو کفر کے ساتھ تبدیل کرنے کا سبب :

جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ بنو اسرائیل نے اللہ کی نعمتوں کو کفر کے ساتھ تبدیل کردیا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا کوئی محض اللہ کی نعمتوں کو کفر کے ساتھ بھی بدل سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے قبضہ میں جو اس کی پسندیدہ ‘ خوش نما اور دیدہ زیب چیزیں ہوتی ہیں وہ صرف انہی کو دیکھتا ہے ‘ اور دنیا کی زندگی کے ظاہری حسن و جمال اور وقتی فوائد کو دیکھتا ہے اور عقل کی آنکھوں سے ان چیزوں کی باطنی خرابیوں کو نہیں دیکھتا ‘ دنیا کی رانگینیاں اور عیش و آرام انسان کے دل کو لبھاتے ہیں ‘ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا :

(آیت) ” قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض ولاغوینہم اجمعین “۔۔ (الحجر : ٣٩)

ترجمہ : شیطان نے کہا : اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے اس لیے میں ضرور زمین میں ان کے لیے (برے کاموں کو) مزین کر دوں گا اور میں ضرور ضرور ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

آیت) ” فیحلوا ما حرم اللہ زین لہم سوء اعمالہم “۔ (التوبہ : ٣٧)

ترجمہ : جس کو اللہ نے حرام کیا یہ اس کو حلال کرتے ہیں ان کے برے اعمال مزین کردیئے گئے۔

تو اللہ کی نعمتوں کا کفر کرنے کا سبب یہ ہے کہ شیطان نے ان کے لیے کفر اور برے اعمال کو مزین کردیا ہے اور ان کے لیے خوش نما بنادیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 211