بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ ۖ وَاَنۡزَلَ مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ فِيۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ ‌ؕ وَمَا اخۡتَلَفَ فِيۡهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡهُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ مِنَ الۡحَـقِّ بِاِذۡنِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے الگ شریعت اور راہ عمل بنائی ہے۔

زیر بحث آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسانیت کی ابتداء نور اور ہدایت سے ہوئی تھی ‘ پھر لوگوں نے شیطانی راستوں اور نفسانی خواہشوں کی بناء پر اس نور کو ظلمت سے بدل لیا۔

ترجمہ :

تمام لوگ ایک امت تھے (جب وہ مختلف ہوگئے) تو اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے نبی بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب حق نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان کی اختلاف کردہ باتوں میں فیصلہ کریں ‘ اس میں صرف ان ہی لوگوں نے اختلاف کیا تھا جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ انہوں نے روشن دلائل آنے کے باوجود محض باہمی سرکشی کی وجہ سے یہ اختلاف کیا تھا تو اللہ نے اس اختلاف میں ایمان والوں کو اپنے اذن سے حق بات (دین حق) کی ہدایت دی ‘ اور اللہ جسے چاہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔

تاریخ انسانیت :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا کی محبت کی وجہ سے کفر پر اصرار کرتے ہیں ‘ اب یہ بیان فرمایا ہے کہ کفر اور گمراہی کا یہ سبب نیا نہیں ہے بلکہ پہلے بھی یہی سبب تھا ‘ تمام لوگ پہلے دین حق پر تھے پھر دنیا کی محبت کی وجہ سے انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کی اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

تمام لوگ امت واحدہ تھے ‘ اس کا معنی ہے : تمام لوگ دین واحد پر تھے ‘ حضرت ابن عباس (رض) اور قتادہ نے کہا : یہاں لوگوں سے مراد وہ قرن ہیں جو حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان تھے اور یہ دس قرن ہیں جو دین حق پر رہے ‘ پھر بعد میں ان کے درمیان اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو مبعوث فرمایا ‘ ابن ابی خیثمہ نے کہا : اس سے حضرت آدم سے لے کر حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کے قرن مراد ہیں اور یہ پانچ ہزار آٹھ سو سال کے زمانہ میں پر محیط لوگ ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے زیادہ زمانہ کے لوگ ہیں ‘ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان بارہ سال گزرے ‘ حضرت آدم نو سو ساٹھ سال زندہ رہے ‘ ان کے زمانہ میں تمام لوگ ایک دین پر تھے ‘ فرشتے ان سے مصافحہ کرتے تھے ‘ پھر حضرت ادریس ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے تھے ‘ کلبی اور واقدی نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی کشتی کے لوگ ہیں ‘ یہ تمام لوگ دین حق پر تھے ‘ حضرت نوح کی وفات کے بعد ان میں اختلاف ہوگیا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٣١۔ ٣٠ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

حضرت ابن عباس کی تفسیر یہ ہے کہ تمام لوگ امت واحدہ تھے یعنی تمام لوگ کافر تھے ‘ اور حضرت ابن مسعود کی قراءت سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ پہلے تمام لوگ دین حق پر تھے بعد میں انہوں نے مختلف دنیاوی اغراض کی بناء پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور بغاوت کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے انبیاء رسل بھیجے ‘ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کل نبیوں کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں تین سو تیرہ رسول ہیں۔ محققین کے نزدیک اس آیت کی صحیح تفسیر یہی ہے کہ پہلے تمام لوگ دین حق پر تھے بعد میں ان کے درمیان اختلاف ہوا اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں :

ابتداء میں نوع انسان کے دین حق پر ہونے کے دلائل :

(١) اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ پہلے تمام لوگ ایک دین پر تھے ‘ پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا۔ اگر وہ تمام لوگ کفر پر تھے تو رسولوں کو پہلے بھیجنا چاہیے تھا۔

(٢) نقل متواتر سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ان کی اولاد کی طرف مبعوث فرمایا : ان کی تمام اولاد مسلمان اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزار تھی ‘ اور اس وقت تک ان میں کوئی اختلاف نہیں ہوا حتی کہ قابیل نے حسد سے ھابیل کو قتل کردیا۔

(٣) جب طوفان سے تمام روئے زمین کے لوگ غرق ہوگئے اور صرف کشتی کے لوگ بچے یہ باقی ماندہ لوگ سب دین حق پر تھے ‘ پھر اس کے بعد ان میں اختلاف ہوئے۔

(٤) امام بخاری حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مولود فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ الحدیث۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٨١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی بچہ کو اس کی اصلی فطرت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کسی باطل دین پر نہیں ہوگا ‘ کسی باطل دین کو اختیار کرنے کے سبب اس کے والدین کی کوشش ہوتی ہے یا دنیا کی محبت یا حسد ‘ بغض اور دیگر اغراض فاسدہ ہوتی ہیں۔

(٥) اللہ تعالیٰ نے یوم میثاق میں فرمایا تھا : (آیت) ” الست بربکم ‘ قالوا بلی “۔ (الاعراف : ١٧٢) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا : کیوں نہیں ! اس دن سب لوگوں کا ایک ہی دین تھا اور وہ دین حق تھا۔

تمام انسانوں کا دین صرف اسلام ہے :

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام نوع انسان کے لیے ایک ہی دین ہے اور وہ دین اسلام ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو اسی دین کی رہنمائی کے لیے بھیجا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراھیم وموسی و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ “۔ (الشوری : ١٣)

ترجمہ : اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو مقرر کیا ہے جس دین کی اس نے نوح کو وصیت کی تھی اور جس دین کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور جس دین کی ہم نے ابراہیم ‘ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو وصیت کی تھی کہ تم اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” ان الدین عنداللہ الاسلام ‘(آل عمران : ١٩)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔

(آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ (آل عمران : ٨٥)

ترجمہ : اور جس شخص نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان آیات سے واضح ہوگیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تمام نبیوں اور رسولوں کا ایک ہی دین تھا اور وہ دین اسلام ہے ‘ البتہ شریعتیں سب نبیوں کی الگ الگ ہیں ‘ دین سے مراد وہ اصول اور عقائد ہیں جو تمام نبیوں میں مشترک ہیں ‘ جیسے الوہیت ‘ توحید باری ‘ نبوت ‘ تقدیر ‘ وحی ‘ فرشتے ‘ کتب سماویہ ‘ قیامت ‘ حساب و کتاب اور جنت اور دوزخ پر ایمان لانا اور ہر نبی کے زمانہ میں اس زمانہ کے مخصوص حالات ‘ تہذیب اور رسم و رواج کے اعتبار سے عبادت کے جو طریقے مقرر کیے گئے وہ اسی نبی کی شریعت ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا “۔ (المائدہ : ٤٨ )

تفسیر تبیان القرآن- سورۃ 2 – البقرة – آیت 213