حدیث نمبر :112

روایت ہےحضرت عائشہ صدیقہ سےفرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو مسئلۂ تقدیر میں بحث کرے گا اس سے قیامت میں اس کی باز پرس ہوگی ۱؎ اور جو اس میں بحث نہ کرے گا اس سے پرسش نہ ہوگی ۲؎ (ابن ماجہ)

شرح

۱؎ بطور عتاب کہ تو نے اس میں اپنا وقت ضائع کیوں کیا اور اس میں بحث کیوں کی؟خیال رہے کہ لوگوں کو گمراہ کرنے یا ان کے دلوں میں شک ڈالنے کے لئے یا جو لوگ کم عقل ہوں اُن کے سامنے مسئلۂ تقدیر چھیڑنا جرم ہے وہی یہاں مراد ہے مگر اس مسئلے کی تحقیق کرنے،شک دفع کرنے کے لیے بحث کرنا حق اور باعث ِ ثواب ہے۔لہذا وہ صحابہ یا علماءمعتوب نہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر گمراہوں سے مناظرے کیے یا کتابیں تصنیف کیں۔

۲؎ عوام کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مانیں بحث نہ کریں،ہم ماننے کے مکلف ہیں نہ کہ بحث کے،یہی حکم رب تعالٰی کے ذات و صفات کے مسئلے کا بھی ہے۔شعر

تو دل میں تو آتا ہےسمجھ میں نہیں آتا پہچان گیا میں تری پہچان یہی ہے