الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :111

روایت ہے ابوالدرداء سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اﷲ تعالٰی اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے ۲؎ اس کی موت سے،اس کے عمل سے ۳؎ ہر حرکت وسکون سے ۴؎ اور اس کے رزق سے۔(احمد)

شرح

۱؎ آپ کا نام شریف عویمر ابن عامر ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں۔دردا ء ان کی بیٹی کا نام ہے یہ اپنے گھر والوں میں سب سے پیچھے ایمان لائے،فقیہ،عابد صحابی ہیں،شام میں قیام فرمایا، ۳۲ھ؁ میں دمشق میں وفات پائی،وہیں مدفون ہیں۔

۲؎ یعنی اٹل فیصلہ فرماچکا ورنہ رب تعالٰی شغولیت اور فراغت سے پاک ہے اگرچہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہرقسم کا ہوچکا ہے مگر خصوصیت سے ان پانچوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ انسان کو ان کی فکر زیادہ رہتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم ان فکروں میں زندگی برباد کیوں کرتے ہوجو فیصلہ ہوچکا وہ ہوکر رہے گا۔

۳؎ کہ کیا کرے گا وہ کہاں اور کب مرے گا۔

۴؎ مضجع کے معنی ہیں پہلو رکھنے کی جگہ یعنی خوابگاہ،اثر،نشان،قدم کو کہتے ہیں یعنی کہاں رہے گا اور کہاں پھرے گا کہاں کہاں جائے گا اور کہاں دفن ہوگا یا دفن بھی نہ ہوگا۔